0
Friday 11 Sep 2020 16:40
فرقہ واریت پھیلانے کی استعماری سازش کیخلاف

ملی یکجہتی کونسل کے تحت ’’اتحاد امت وقت کا تقاضا‘‘ آل پارٹیز کانفرنس

ملی یکجہتی کونسل کے تحت ’’اتحاد امت وقت کا تقاضا‘‘ آل پارٹیز کانفرنس
ترتیب و تدوین: ایس حیدر

ملی یکجہتی کونسل سندھ کے تحت قباء آڈیٹوریم کراچی میں مرکزی صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی زیر صدارت ’’اتحاد امت وقت کا تقاضا‘‘ کے موضوع پر آل پارٹیز کانفرنس ہوئی۔ اے پی سی میں ملک کی 16 دینی جماعتوں اور اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی، جن میں جماعت اسلامی پاکستان، جمعیت علمائے پاکستان (نورانی)، اسلامی تحریک پاکستان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان، ہیئت علمائے مساجد امامیہ (کراچی)، متحدہ جمعیت اہل حدیث، مجلس ذاکرین امامیہ، علماء و مشائخ کونسل پاکستان، علماء و مشائخ فیڈریشن، جمعیت اتحاد علماء، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان، غربائے اہل حدیث، مرکزی جمعیت اہل حدیث، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، نیشنل لیبر فیڈریشن اور البصیرہ پاکستان شامل ہیں۔ اے پی سی میں صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری علامہ ثاقب اکبر، صوبائی صدر اسد اللہ بھٹو، جنرل سیکرٹری قاضی احمد نورانی، جے یو آئی کے مولانا عمر صادق، جے یو پی کے سید عقیل انجم قادری، جماعت اسلامی کے ممتاز حسین سہتو، اسلامی تحریک پاکستان کے علامہ ناظر عباس تقوی، جمعیت غرباء اہلحدیث حافظ محمد سلفی، مجلس وحدت مسلمین کے مولانا سید باقر عباس زیدی، علماء و مشائخ کونسل حافظ نصراللہ، علماء مشائخ فیڈریشن کے صاحبزادہ احمد عمران، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے ڈاکٹر صابر ابو مریم، متحدہ جمعیت اہلحدیت کے مولانا عارف رشید، جمعیت اتحاد علماء کے مولانا عبدالوحید، مولانا جعفر تھانوی، مولانا سید صادق رضا تقوی، مولانا قراة العین عابدی، نثار احمد قلندری، محمد رضوان، مولانا صادق جعفری، عبدالخالق فریدی سمیت قائدین، مشائخ و علمائے کرام نے شرکت تھے۔

اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) اور ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں فرقہ واریت کی آگ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لگائی جا رہی ہے، شام و بغداد کے بعد پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملی یکجہتی کونسل نے 1980ء میں بھی جب ہر طرف لاشیں پڑی تھیں، تب علامہ شاہ احمد نورانی نے اتحاد قائم کرکے مثال قائم کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مسالک کے لوگ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں، شرپسندوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، تمام لوگ آپس میں متحد رہیں اور ملک و اسلام دشمن قوتوں کا مل کر مقابلہ کریں، فرقہ واریت کو مسلک کی جنگ نہ بنایا جائے۔ اس موقع پر مرکزی جنرل سیکرٹری اور مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ مفاداتی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے جھگڑے نے کراچی کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے، کراچی ملک کا بڑا اور اہم شہر ہے، مگر بارش نے ڈبو دیا، کراچی کو کچرے کا ڈھیر بنانے کے ساتھ فرقہ واریت میں دھکیلنے کی منظم سازش کی جا رہی ہے، یہ دینی جماعتوں کا اجتماع ایک بڑے مثبت پیغام کا ذریعہ بنے گا، ملی یکجہتی کونسل کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے، اس لئے قیادت کو جذبات میں آنے کی بجائے حقائق کو سمجھتے ہوئے دشمن کی سازشوں کو ناکام اور اتحاد امت کی فضا کو برقرار رکھنا چاہیئے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ معاشرے میں فسادات پھیلانے کی سازش کی جا رہی ہے، پاکستان کے اسلامی و نظریاتی تشخص کو مسخ کیا جا رہا ہے، حالات کو تماشائی بن کر نہیں بلکہ قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے دشمن قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سطح پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ دینی جماعتوں کے سوشل میڈیا کے ذمہ داران کا ایک اجلاس بلایا جائے گا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر روڈ میپ طے کیا جائے گا۔ اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اور مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملت اسلامیہ کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں، وحدت امت کو سامنے رکھ کر ہم ان مسائل کو حل کریں، اپنا مسلک چھوڑیں نہیں اور کسی کے مسلک کو چھیڑیں نہیں، آج پھر مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا جا رہا ہے، اتحاد و یکجہتی کے ذریعے طاغوتی و اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ ملی یکجہتی کونسل سندھ کے زیر اہتمام قباء آڈیٹوریم کراچی میں منعقدہ دینی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بعنوان ’’اتحاد امت وقت کا تقاضا‘‘ میں درج ذیل اعلامیہ اتفاق رائے سے جاری کیا گیا۔

اعلامیہ
*پاکستانی حکومت دیگر ممالک کی حکومتوں کے تعاون سے اسلامی وزرائے خارجہ کی کانفرنس (OIC) اور اقوام متحدہ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تحفظ ناموس رسالت کو یقینی بنانے کیلئے قانون سازی کیلئے بھرپور کام کرے۔
*اجلاس فرانس میں شائع ہونے والے توہین رسالت پر مبنی خاکوں و مواد اور ناروے و سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات کی پُرزور مذمت کرتا ہے اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ ناروے، سوئیڈن و فرانس کی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنے ہاں شائع ہونے والے جرائد اور ان سے وابستہ افراد کو توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور دل آزار واقعات کو روکے، ان کی حمایت میں فرانسیسی صدر کے حالیہ بیان کی بھرپور مذمت کرے اور واپس لینے کا پُرزور مطالبہ کرے، تاکہ مذہبی منافرت کا خاتمہ ہو اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے۔

*آج کا اجلاس پاکستان کو فرقہ واریت کی طرف دھکیلنے کی ہر سازش ناکام بنانے کا عہد کرتا ہے اور ملک بھر کے تمام مسالک کے علماء و مشائخ سے اپیل کرتا ہے کہ اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
*اس اجلاس میں موجود تمام مسالک کے علماء انبیاء علیہم السلام، امہات المومنین، اہل بیت اطہارؑ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرامؓ، خلفائے راشدین اور مقدسات دین کے احترام کو فروع دیں گے اور ان کی اہانت سے اظہار برأت کرتے ہیں۔
*جس انداز میں اسلام دشمن قوتوں نے عراق، شام، یمن، لیبیا اور دیگر خطوں میں سنی شیعہ کے نام پر کلمہ گو مسلمانوں کو آپس میں لڑوایا، پاکستان کے علماء و مشائخ اور دینی اکابرین ہرگز اس قاتل فکر کو پاکستان میں پنپنے کا موقع نہیں دیں گے۔

*ماضی قریب کے دو تین عشروں تک وطن عزیز میں فرقہ وارانہ شدت پسندی اور تصادم کے مظاہر دیکھنے میں آئے، پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی افراتفری اور فرقہ واریت کی آگ کو پھیلنے سے روکنے کیلئے قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی، قاضی حسین احمدؒ، علامہ ساجد علی نقوی، مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمٰن، علامہ ساجد میر اور دیگر زعمائے ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے اہم نکات مرتب کرکے دینی قوتوں کو نہ صرف متحد کیا، بلکہ دین دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا، ہم عہد کرتے ہیں کہ بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آج کے تمام پیدا شدہ مسائل کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کریں گے۔
*ہم حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک میں فرقہ واریت کو پنپنے کا موقع نہ دے، اشتعال انگیزی اور مذہبی افراتفری پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے، نیز مذہبی تنظیمات سے وابستہ افراد کے خلاف بے جا مقدمات قائم کرنے اور ان کو ہراساں کرنے سے گریز کرے۔
*ہم عامۃ المسلمین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی مذہبی گروہ، جماعت یا فرد کی کسی تقریر، تحریر وغیرہ پر جو ان کے خیال میں ان کے نظریئے کے خلاف ہو، مشتعل ہونے کے بجائے علماء اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کریں اور کسی بھی واقعے کو مشتعل انداز میں پھیلانے سے گریز کریں۔

*ہم یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ اختلافی مذہبی معاملات کو پولیس اور عدالتوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے، کیونکہ ان کے پاس حساس معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، ان معاملات کو انتظامیہ براہ راست فیڈرل شریعت کورٹ، سپریم کورٹ اپیلیٹ بنچ یا اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجے اور ایسے معاملات کے حل کیلئے مذکورہ اداروں میں تمام مکاتب فکر کے مستند، ثقہ اور معتمد علماء کو فائز کیا جائے، تاکہ افراتفری کے بجائے معاملات کا حل نکالا جا سکے۔
*سوشل میڈیا اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا آزاد مذہبی گفتگو، تحریریں اور مباحثے عام کرنے سے گریز کیا جائے اور میڈیا پر وہ گفتگو کی جائے، جو تمام دینی طبقات کیلئے قابل قبول ہو۔
*پنجاب اسمبلی کے عجلت میں پاس کردہ تحفظ بنیاد اسلام بل 2020ء کے پہلے حصے پر اہل تشیع احباب نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسی بل کا دوسرا حصہ جو کتب کی اشاعت کے حوالے سے ہے، اس کے خطرناک ہونے پر تمام مسالک نے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے، آج کا اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے، تاکہ اس کو تمام مسالک کیلئے قابل قبول بنایا جا سکے۔

*پاکستان میں قادیانیوں اور طاغوتی قوتوں کی سرگرمیاں دن بدن بڑھ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ناموس رسالت کے متعلق سازشیں بڑھ رہی ہیں اور ناموس رسالت کے قانون کے جزوی یا مکمل خاتمے کی کوششیں ہو رہی ہیں، ہم تمام مسالک کے علماء و مشائخ اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ناموس رسالت اور اس کے قانون کے تحفظ کیلئے جان بھی قربان ہے۔
*فلسطین و کشمیر امت کے اہم مسائل ہیں، کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی بھارتی حرکت کی شدید مذمت کرتا ہے، آج کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فلسطین میں ہونے والے ظلم کو روکنے، کشمیر کی اصل حیثیت بحال کروانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کروانے کیلئے بھرپور سفارتی و دیگر کوششیں کرے۔
*قومی زبان اردو کا بلاتاخیر نفاذ کیا جائے، آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں سے انحراف ختم کیا جائے۔

ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس پر مذہبی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری تشدد، فرقہ واریت، مذہبی تعصبات کے دور میں اس طرح کی کوششوں کو سراہا جانا چاہیئے، جس معاشرے میں مذہبی جنونی عناصر کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی صورت میں موجود ہوں، جہاں کافر کافر اور مشرک کے نعروں کی گونج میں ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو دین سے خارج کیا جاتا ہو، جہاں سرکاری سرپرستی میں دہشتگردوں کو پالا جاتا ہو، وہاں وحدت کے فروغ اور وطن عزیز میں مذہبی ہم آہنگی کے حصول کی کوششیں کرنے والوں کو قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات ہمارے معاشرے کی اصلاح کیلئے ضروری ہیں، اس قسم کے سلسلوں کو جاری و ساری رہنا چاہیئے، تاکہ عالمی استعماری قوتوں کی جانب سے فرقہ واریت کے ذریعے مملکت خداداد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کو ماضی کی طرح ناکام بنایا جا سکے۔
خبر کا کوڈ : 885511
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش