0
Sunday 13 Sep 2020 18:30
بحرین اسرائیل معاہدہ

کیا مسلم ممالک میں یکجہتی ممکن ہے۔۔۔۔؟!

کیا مسلم ممالک میں یکجہتی ممکن ہے۔۔۔۔؟!
تحریر: عظمت علی
rascov205@gmail.com

11 ستمبر بروز جمعہ کو بحرین نے اسرائیل کے ساتھ ملکی و اقتصادی سطح پر اتفاق رائے کر لیا ہے۔ معاہدہ کی خبر حیران کن ضرور ہے لیکن اتنی نہیں کہ عالم اسلام میں یکایک غم و غصہ پھوٹ پڑے۔ اس کی اصل وجہ ماہ اگست میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین منعقد ہونے والی قرارداد ہے۔ 13 اگست کو جب یہ خبر آئی تو پوری دنیا سمیت اسلامی ریاستیں آگ بگولہ ہوگئیں اور منفی آراء و خیالات کا اظہار ہونے لگا۔ مسلم امت کی اکثریت نے اس کی شدید مخالفت کی، لیکن جو ہوگیا، سو ہوگیا۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل معاہدہ کا اعلان کرنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دیگر مسلم ممالک کے بھی اسی راہ پر گامزن ہونے کی جانب اشارہ کیا تھا۔ اس بیان کے بعد ہی بحرین کا ذکر سرخیوں میں آگیا۔ اس نے یو اے ای اور اسرائیل کے مابین پاس ہونے والی قرارداد پر مثبت اظہار رائے کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس دفعہ بھی دیگر اسلامی حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ دیکھئے اب کس کی باری ہے۔۔۔۔۔؟ ویسے عمان کا نام سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔

بہرکیف اب آگے کیا کچھ ہونے کو ہے، یہ تاریخ پر موقوف ہے، لیکن تاحال یہ مسئلہ صاف ہوتا جا رہا ہے کہ "امت واحدہ" میں پھوٹ کا تسلسل ترقی پذیر ہے۔ تعجب ہے! اس امت رسول عربی پر۔ اللہ کے رسول جب اس دنیا میں آئے تو قرآن نے انہیں عالمین کے لیے رحمت کہا اور مشرکین نے صادق و امین۔ انہوں نے عرب میں طویل عرصہ سے قائم روایتی تعصب کو توڑ کر لوگوں کو "امت واحدہ" میں پرویا۔ اوس و خزرج کے مابین ایک دراز مدت سے دشمنی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ رسول اللہ نے ان دونوں کو متحد کیا اور ایک "مسلم امہ" میں جوڑ کر دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ آپ کو عرب میں مبعوث کرنے کا اصل مقصد وہاں کی گری ہوئی ذہنیت اور بدوی فکر تھی۔ اُس وقت ان سے زیادہ بچھڑی قوم کا تصور نہیں تھا۔ اللہ نے اپنے آخری پیغمبر کو وہاں بھیجا۔ آپ نے چالیس سال اخلاق کا عملی ثبوت فراہم کیا اور پست ترین قوم کو محبوب الٰہی مذہب سے روشناس کرایا۔

مختلف علاقوں میں منتشر قوم کو ایک راہ پر لاکر جمع کیا، جسے ہم "اسلام" کہتے ہیں، مگر جب آپ کی آنکھ بند ہوئی تو آپ کی تعلیمات کی راہیں بند کی جانے لگیں۔ لوگ راہ اسلام سے دور ہوتے گئے اور وہ اس امت سے اتنے دور ہوگئے کہ دشمن کے قریب پہنچ گئے۔ حقیقت یہ کہ رسول (ص) کی حیات سے ہم جتنا دور ہوتے جا رہے ہیں، بکھرتے جار ہے ہیں۔ پہلے ایک نظام تھا۔ پھر رسول کے بعد دو نظام ہوگئے۔ وہیں سے سارے اختلافی پودے نشو و نما پانے لگے اور اِس وقت ان پودوں نے تناور درخت کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اب سب کا اپنا اپنا علاقہ ہے۔ اس لیے سب اپنے آپ کو خود مختار سمجھ بیٹھے ہیں۔ سب کی اپنی ریاست ہے۔ اپنی پالیسی ہے اور اپنا نظام، خیر۔۔۔! اس میں مشکل کیا ہے۔۔۔۔؟ مشکل تو اس وقت ہے جب ہم اپنے نظام کو مسلم دشمنی پر بناتے ہیں۔ ہمارے یہاں ابھی بھی چودہ صدی پرانا جھگڑا جاگ رہا ہے اور بعض اوقات غفلت میں چلا بھی جاتا ہے تو اسے پھر بیدار کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ سب کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ محرم الحرام آتے ہی اختلافی بیان بازیاں تیز ہو جاتی ہیں اور ملکی پیمانہ پر افراتفری کا ماحول بن جاتا ہے۔ اس برس تو کچھ عجیب ہی ہوگیا ہے۔ عظیم قوت والے اسلامی ممالک میں روایتی دشمنی کو وجود ہی اسی لیے دیا گیا ہے کہ وقتاً فوقتاً اس سے کام لیا جاسکے۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ میں سعودی عرب کا بڑا ہاتھ تھا، چونکہ مکہ و مدینہ کی ریاست خلافت کا دایاں بازو تھا۔ جب یہ دونوں اسلامی علاقے خلافت عثمانیہ کے ہاتھ سے نکل گئے تو اس کی کمر خمیدہ ہوگئی اور پھر اس خمیدہ کمر پر سعودی عرب کی حکومت کا چھرا گھونپ دیا گیا، جس نے سلطنت کی کمر توڑ دی۔ دوسری جانب آل سعود نے قدرت پاتے ہیں اہل تشیع کے مقامات مقدسہ مسمار کر دیئے اور اب تک اس پر ستم جاری ہے۔ اس لیے ترکی اور ایران کے ساتھ سعودی کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور اس وقت تقریباً مسلم دنیا انہی مثلث کے زیرسایہ سانس لے رہی ہے۔ پاکستان مضبوط ملک ہے مگر یہ بےچارہ اپنی مذہبی خانہ جنگی میں ہی اتنا مصروف رہتا ہے کہ اسے مزید ترقی کی فرصت ہی نہیں مل پاتی۔ حقیقت تو یہ کہ پاکستان بھی کسی کی ماتحتی میں آتا ہے۔

خیر۔۔۔۔! زخم کریدنے سے نہیں بھرتے بلکہ غمگین یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، لیکن اتنے عظیم سرمایہ کے مالک عرب ممالک اور دیگر اسلامی حکومتوں کو یہ باتیں سوچنا چاہیئے کہ اس وقت "امت واحدہ" انتشار کا شکار کیوں ہو رہی ہے اور اس کے کیا نتائج در پیش ہیں۔۔۔۔؟ ابھی تک آپسی دشمنی میں کیا کچھ کم کھویا ہے، جو اسی معاندانہ تسلسل پر گامزن ہیں۔ آپ ملاحظہ کیجئے، حالات کیسے تبدیل ہوئے ہیں۔ پہلے مسلمان کا خون بہتا تھا تو ہماری آنکھیں خون کے آنسو روتی تھیں۔ پھر یہ سلسلہ طول پکڑا تو ہم نے وقتاً فوقتاً سیاست شروع کر دی اور مصلحت کی چادر تان لی اور اب تو قاتل سے ہاتھ ملایا جا رہا ہے۔ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ وہی قدیمی نسخہ ابھی بھی کارگر ہے۔ آپسی فرقہ واریت کو ختم کرکے "امت واحدہ" کا ثبوت دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اس لیے ایمان والوں! اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور یادرکھو کہ "اکثر چھوٹے چھوٹے گروہ بڑی بڑی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آجاتے ہیں۔"
خبر کا کوڈ : 886009
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش