0
Monday 14 Sep 2020 10:42

فرقہ وارانہ دہشتگردی کے 2 سو سال

فرقہ وارانہ دہشتگردی کے 2 سو سال
تحریر: حمزہ ابراہیم

برصغیر پاک و ہند کے مسلمان معاشرے میں عوامی سطح پر فرقہ وارانہ تصادم کا آغاز 1820ء میں ہوا اور محرم  2020ء میں اس سلسلے کو جاری ہوئے دو سو سال پورے ہوچکے ہیں۔ برصغیر میں اسلام حضرت علی کے دور میں ہی آچکا تھا اور یہاں آنے والے ابتدائی مسلمانوں میں حکیم ابن جبلہ عبدی جیسے شیعہ بھی شامل تھے۔ لیکن یہاں شیعہ کلنگ کے واقعات بہت کم ہوتے تھے۔ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں اس قسم کا پہلا واقعہ عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کے لشکر کے ہاتھوں امام حسنؑ کے پڑپوتے حضرت عبد اللہ شاہ غازی ؑاور انکے چار سو ساتھیوں کا قتل ہے، جو تاریخ طبری کے مطابق 768ء، یعنی151 ہجری میں  پیش آیا [1]۔ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ  1005ء میں محمود غزنوی کے ہاتھوں ملتان میں خلافتِ فاطمیہ سے منسلک اسماعیلی شیعہ سلطنت کے خاتمے اور شیعہ مساجد اور آبادی کی تباہی کا ملتا ہے[2]۔ اس کے تین سو سال بعد سلطان فیروز شاہ تغلق کے زمانے (1351ء سے 1388ء) میں دہلی میں اہل تشیع کی کتب جلائی گئیں، ان کو رسوا کرکے شہر میں گھمایا گیا اور ان کے علماء کو قتل کیا گیا[3]۔

مغلیہ سلطنت مذہبی ہم آہنگی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ تھی۔ اگرچہ اس دور میں  شیخ احمد سرہندی نے ردِ روافض کے عنوان سے ایک کتاب لکھ کر فساد مچانے کی کوشش کی، لیکن حکومت نے شیعہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کو نبھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 1588ء میں جب شیعہ عالم ملا احمد ٹھٹھویؒ کو لاہور میں قتل کیا گیا تو شہنشاہ اکبر نے ان کے قاتل مرزا فولاد  کو گرفتار کرکے سزائے موت دی[4]۔ اگرچہ 1610ء میں جہانگیر کے دور میں ضعیف  شیعہ مجتہد قاضی نور الله شوشتری کو کوڑے مارے گئے، جس کے نتیجے میں ان کا انتقال ہوگیا، لیکن اس کی وجہ مسلکی سے زیادہ سیاسی تھی، جہانگیر اپنے باپ سے نالاں تھا۔ اکبر جہانگیر کی کثرت شراب نوشی کی وجہ سے اس کے بجائے  اپنے پوتے کو شہنشاہ بنانا چاہتا تھا۔ جہانگیر نے شہزادہ خسرو کو اندھا کرکے اقتدار حاصل کیا تو اکبر کے دربار کے اہل علم و فضل زیرِ عتاب آگئے اور یوں قاضی نور الله شوشتری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے[5]۔ اکبر کے بعد جہانگیر اور شاہ جہاں بھی صلحِ کل پر کاربند رہے۔ چنانچہ جب شیخ احمد سرہندی نے ہندوؤں کے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کی تو انھیں ایک سال کیلئے جیل میں ڈال دیا گیا۔

مغلیہ دور میں شیعہ مخالف قتل عام اورنگزیب کے دکن میں حملے کے دوران ہوا۔ اورنگزیب ایک کٹر مذہبی عالم تھا اور اس نے 1680ء میں دکن میں شیعہ حکومتوں کا خاتمہ کرکے وہاں کے علمی مراکز کو تباہ کیا اور عزاداری پر پابندی لگائی۔ بوہری شیعوں کے داعی مطلق سیدنا قطب الدین کو شہید کرایا[6]۔ قرون وسطیٰ میں مسلکی بنیادوں پر تشدد کے واقعات میں تین چیزیں نمایاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان واقعات میں عوام کے اندر سے کوئی جتھہ شریک نہیں ہوا بلکہ یہ شاہی فوج کے ہاتھوں انجام پائے۔ دوسرا ان واقعات میں سینکڑوں سال کا زمانی فاصلہ ہے اور تیسری چیز جو ان واقعات کو 1820ء کے بعد سے شروع ہونے والی فرقہ واریت سے ممتاز کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ قرون وسطیٰ کے واقعات کسی ایک علاقے تک محدود رہتے تھے۔ قرون وسطیٰ میں شیعہ اور سنی مل کر محرم مناتے تھے، البتہ اٹھارویں صدی عیسوی میں دہلی میں روہیلہ سرداروں کی خوشنودی کیلئے شاہ ولی الله اور ان کے بیٹے شاہ عبد العزیز دہلوی نے فرقہ وارانہ منافرت کی آگ بھڑکانا شروع کر دی تھی۔

شاہ عبدالعزیز نے شیعہ مسلک کے خلاف تحفہ اثناء عشریہ لکھی، جس کا جواب لکھنؤ کے شیعہ عالم آیت الله دلدار علی نقوی نے دیا اور شیعہ و سنی میں سماجی دیواریں بلند ہونے لگیں۔ اپنے ایک خط میں شاہ عبد العزیز سنیوں کو شیعوں سے شادی کرنے، سلام میں پہل کرنے اور ان کا پکایا ہوا کھانے سے منع کرتے ہیں۔ لیکن وہ بھی اپنے گھر میں بی بی فاطمہ کی نیاز دلاتے تھے اور انہوں نے ذکر کربلا کے حق میں ایک کتاب بعنوان "سر الشہادتین" لکھی۔ انیسویں صدی عیسوی کا آغاز فرقہ وارانہ دہشتگردی سے ہوا۔ 1802ء میں نجد کے وہابی لشکر نے کربلا اور نجف پر حملہ کیا اور وہاں آئمہؑ کے مزارات کی تخریب اور لوٹ مار کے ساتھ ساتھ پانچ ہزار شیعہ مسلمان قتل کئے۔ 1804ء میں اس لشکر نے مدینہ پر بھی حملہ کیا اور روضۂ رسولؐ کی توہین کی [7]۔ اس سانحے نے برصغیر میں شاہ ولی الله کے مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی حوصلہ افزائی کی۔ ان لوگوں نے 1818ء سے 1820ء کے سالوں میں اودھ، بہار اور بنگال میں سینکڑوں امام بارگاہوں پر حملے کیے۔

پروفیسر باربرا مٹکاف اپنی کتاب “اسلامک روائیول ان برٹش انڈیا” کے صفحہ 58 پر لکھتی ہیں: ’’دوسری قسم کے امور جن سے سید احمد بریلوی شدید پرخاش رکھتے تھے، وہ تھے جو تشیع سے پھوٹتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تعزیئے بنانے سے خاص طور پر منع کیا، جو شہدائے کربلا کے مزارات کی شبیہ تھے، جن کو محرم کے جلوسوں میں اٹھایا جاتا تھا۔ شاہ اسماعیل دہلوی نے لکھا: "ایک سچے مومن کو طاقت کے استعمال کے ذریعے تعزیہ توڑنے کے عمل کو بت توڑنے کے برابر سمجھنا چاہیئے۔ اگر وہ خود نہ توڑ سکے تو اسے چاہیئے کہ وہ دوسروں کو ایسا کرنے کی تلقین کرے۔ اگر یہ بھی اس کے بس میں نہ ہو تو اسے کم از کم دل میں تعزیئے سے نفرت کرنی چاہیئے۔ سید احمد بریلوی کے سوانح نگاروں نے، بلا شبہ تعداد کے معاملے میں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے، سید احمد بریلوی کے ہاتھوں ہزاروں کی تعداد میں تعزیئے توڑنے اور امام بارگاہوں کے جلائے جانے کا ذکر کیا ہے۔“[8]

1826ء میں یہ لوگ پختون علاقوں میں طالبانی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ کوئی ایسی ریاست نہیں تھی جو انسانی سرمائے کو استحکام اور آزادی کی فضا مہیا کرکے عوام کی زندگی میں بہتری لاتی، غربت اور بیماریوں کا خاتمہ کرتی۔ اس زمانے میں مغرب میں صنعتی اور طبی انقلاب کا آغاز ہوچکا تھا، جس نے آگے چل کر دنیا بھر کی منڈیوں پر قبضہ جمایا، ادھر مسلمان معاشرے کو ایسی جونکوں نے آ لیا تھا۔ پشتون علاقوں میں انہوں نے فقہ حنفی کو  وہابی عقائد کے ساتھ ملا کر نافذ کیا۔ پختون تہذیب پر حملے کرنے کے ساتھ ساتھ یہ حکم دیا کہ کوئی بالغ لڑکی شادی کے بغیر نہیں ہونی چاہیئے۔ سید احمد کے کارندے باجماعت نماز میں شریک نہ ہوسکنے والے شخص کو کوڑے لگاتے۔ انہوں نے بنگال و بہار سے لائے گئے “مجاہدین“ کی مقامی لڑکیوں سے زبردستی شادیاں کیں۔

پختون علاقوں میں عوام آہستہ آہستہ ان کے خلاف ہوگئے تو شاہ اسماعیل دہلوی نے کہا: “آن جناب (سید احمد بریلوی) کی اطاعت تمام مسلمانوں پر واجب ہوگئی ہے۔ جس کسی نے آں جناب کی امامت قبول کرنے سے انکار کیا تو وہ باغی ہے، اس کا خون حلال ہے اور اس کا قتل کفار کے قتل کی طرح عین جہاد ہے اور اس کی ہلاکت تمام اہل فساد کی ہلاکت کہ یہی اللہ کی مرضی ہے۔ چونکہ ایسے اشخاص کی مثال حدیثِ متواترہ کی رو سے جہنم کے کتوں اور ملعون شریروں جیسی ہے۔ یہ اس ضعیف کا مذہب ہے، پس اس ضعیف کے نزدیک اعتراض کرنے والوں کے اعتراض کا جواب تلوار کی ضرب ہے۔”[9] تعجب کی بات نہیں کہ آج طالبان اور داعش کے    تکفیری دہشتگرد ان کے افکار سے مکمل مماثلت رکھتے ہیں۔ پشاور کے روایتی  سنی علماء نے ان کے خلاف فتوے جاری کئے۔ آخر کار 1831ء میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل کو حالت فرار میں بالاکوٹ کے مقام پر سکھوں نے مقامی پختونوں  کی مدد سے  قتل کیا۔

سید احمد بریلوی اگرچہ قتل ہوچکے تھے، لیکن ان کی بھڑکائی ہوئی فرقہ واریت کی آگ کہیں کہیں دہک رہی تھی۔ ایسے تنازعات پر ’’دہلی اردو اخبار ‘‘، 22 مارچ 1840ء، کی رپورٹ ملاحظہ کریں: ’’سنا گیا کہ عشرۂ محرم میں باوجود اسکے کہ ہولی کے دن بھی تھے، اس پر بھی بسبب حسن انتظام صاحب جنٹ مجسٹریٹ اور ضلع مجسٹریٹ کے بہت امن رہا۔ کچھ دنگا فساد نہیں ہوا۔ صرف ایک جگہ مسمات امیر بہو بیگم بیوہ شمس الدین خان کے گھر میں، جو شیعہ مذہب ہے اور وہاں تعزیہ داری ہوتی ہے، کچھ ایک سنی مذہبوں نے ارادہء فساد کیا تھا، لیکن کچھ زبانی تنازع ہوا تھا کہ صاحب جنٹ مجسٹریٹ کے کان تک یہ خبر پہنچی۔ کہتے ہیں کہ صاحب ممدوح جو رات کو گشت کو اٹھے تو خود وہاں کے تھانہ میں جا کر داروغہ کو بہت تاکید کی اور کچھ اہالیان پولس تعین کئے کہ کوئی خلاف اس کے گھر میں نہ جانے پاوے۔ سو خوب انتظام ہوگیا اور پھر کہیں کچھ لفظ بھی نزاع کا نہ سنا گیا۔‘‘[10]۔

اس زمانے میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے پیروکاروں کے لیے "وہابی" کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، بعد میں یہ مکتب فکر دیوبندی اور اہلحدیث میں تقسیم ہوگیا۔ انگریز دور میں مرتب کردہ کچھ گزیٹئرز موجودہ پاکستان کے علاقوں میں وہابیوں کی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں۔ درج ذیل جدول میں ان گزیٹئرز میں موجود اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں۔
انگریز دور کی مردم شماری کے مطابق مسلمان آبادی میں وہابیوں کا تناسب
سال ◇ ضلع ◇ وہابیوں کی تعداد ◇ گزیٹئر کے صفحے کا حوالہ
98–1897 ◇ پشاور ◇ 0.01% ◇ صفحہ 110
84 –1883 ◇ شاہ پور ◇ 0.07% ◇ صفحہ 40
84 –1883 ◇ جھنگ ◇ 0.02% ◇ صفحہ 50
94 – 1893 ◇ لاہور ◇ 0.03% ◇ صفحہ 94

جہاں یہ اعداد و شمار سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کے افکار کی اس زمانے میں قبولیت کا پتہ دیتے ہیں، وہیں ان میں بتائی گئی تعداد اصل تعداد سے کم ہے، کیونکہ اس زمانے میں وہابی کہلائے جانے والے لوگ انفرادی زندگی میں اپنے مسلک کو ظاہر نہیں کرتے تھے۔ وہابیوں میں تقیہ کے اس رجحان کی طرف لاہور کے گزیٹئر میں اشارہ کیا گیا ہے: ”وہابیوں کی گنتی انکی اصلی تعداد سے بہت کم ہے؛ شاید اکثر وہابی مسلمانوں نے اپنی وہابی شناخت کو ظاہر کرنا محفوظ نہ سمجھا“۔[11] مولوی نور احمد چشتی نے اپنی کتاب ”یادگار چشتی“ مطبوعہ 1859ء میں لکھا ہے کہ: ”اہلِ اسلام میں اب ایک اور فرقہ نکلا ہے اور اس کو وہابیہ فرقہ کہتے ہیں۔ اس زمانے میں دیکھتا ہوں کہ اکثر عالم لوگ اس طرف متوجہ ہیں۔ العیاذ باللہ! خدا ان کے عقائد کو درست کرے۔“[12]۔

اس کتاب کے مندرجہ ذیل اقتباسات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب کی شہری مڈل کلاس میں سید احمد بریلوی کے پیروکار پیدا ہوچکے تھے اور وہ عزاداری پر حملے کرنے لگ گئے تھے: ”اور ہر بازار میں لوگ واسطے دیکھنے کے جمع ہوتے ہیں۔ ہر طرف سے گلاب کا عرق اس (ذوالجناح) پر چھڑکا جاتا ہے مگر بعض تعصب سے اس کو ہنسی کرتے ہیں۔ بعض لوگ ان کو ”مدد چار یار“ کہتے ہیں اور اکثر اس پر کشت و خون ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ جب میجر کر کر صاحب بہادر لاہور میں ڈپٹی کمشنر تھے، تب سنی شیعہ میں بہت فساد ہوا اور بہت لوگ مجروح ہوئے۔ تب سے اب ہمیشہ شہر لاہور میں ڈپٹی کمشنر صاحب اور کوتوال اور تحصیل دار اور سب تھانے دار لوگ اور ایک دو کمپنی پلٹن کی اور ایک ملٹری صاحب اور ایک رسالہ، شیعہ لوگوں کی محافظت کے واسطے گھوڑے کے ساتھ ہوتا ہے، تاکہ کوئی سنی دست درازی نہ کرسکے۔ مگر تو بھی وہ لوگ باز نہیں آتے۔“ [13]

کنہیا لال نے اپنی کتاب ”تاریخ لاہور“، مطبوعہ وکٹوریہ پریس لاہور، سن 1884ء، میں لکھا ہے: ”1849ء میں اس مکان (کربلا گامے شاہ) پر سخت صدمہ آیا تھا کہ 10 محرم کے روز جب ذوالجناح نکلا تو رستہ میں، متصل شاہ عالمی دروازے کے، مابین قوم شیعہ و اہل سنت کے سخت تکرار ہوئی۔اور نوبت بزد و کوب پہنچی۔ قوم اہلسنت نے اس روز چاردیواری کے اندرونی مکانات گرا دیئے۔ مقبرہ کے کنگورے وغیرہ گرا دیئے۔ چاہ کو اینٹوں سے بھر دیا۔ گامے شاہ کو ایسا مارا کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔ آخر ایڈورڈ صاحب دپٹی کمشنر نے چھاونی انارکلی سے سواروں کا دستہ طلب کیا تو اس سے لوگ منتشر ہوگئے اور جتنے گرفتار ہوئے، ان کو کچھ کچھ سزا بھی ہوئی“[14]۔ فرقہ وارانہ دہشتگردی کا یہ سلسلہ بیسویں صدی میں بڑھتا چلا گیا۔ 1940ء میں ہی بات بم دھماکوں تک پہنچ چکی تھی۔ نارمن ہولسٹر اپنی کتاب “دی شیعہ آف انڈیا” کے صفحہ 178 میں 1940ء کے عاشورا کی نیوز کوریج کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”محرم میں شیعوں اور سنیوں کے درمیان جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔ شہروں میں پولیس کو جلوس کے ساتھ جانا پڑتا ہے، جلوس بھی مخصوص راستوں سے ہی گزر سکتا ہے۔

ایک اخبار میں چھپنے والے یہ جملے معاملے کی سنگینی کا احساس دلاتے ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ اگر حکومت حالات کو کنٹرول میں نہ رکھے تو کیا کچھ ہوسکتا ہے: "مناسب اقدامات نے ناخوشگوار واقعات کو ہونے سے پہلے روک لیا"، "محرم پرامن طریقے سے گزرا"، "سب دکانیں بند رہیں، تاکہ امن برقرار رہے"، "الہٰ آباد سے بیس کلو میٹر دور متعدد خواتین نے جلوس ِعزا کے سامنے ڈیرہ ڈال دیا، وہ اپنے علاقے سے جلوس گزرنے پر احتجاج کر رہی تھیں"، "امن دشمنوں کی طرف سے متوقع فساد کو روکنے کیلئے پولیس نے مناسب اقدامات کئے"، "مہندی کے جلوس پرپولیس کا لاٹھی چارج، مسلمان محرم نہ منا سکے، تعزیہ کا جلوس برآمد نہ ہوسکا، ہندو اکثریت والے علاقوں میں کاروبار جاری رہا"، "جلوسِ عزا پر بم حملہ۔" اگرچہ اس قسم کے سب واقعات کی وجہ فرقہ وارانہ تعصب نہیں، لیکن اکثر واقعات کے پیچھے فرقہ واریت ہی ہے۔ برڈ ووڈ کے بقول بمبئی میں، جہاں ماہ محرم کے پہلے چار دن مختلف گروہ دوسروں کے تابوت خانوں میں جا کر سلام کرتے ہیں، خواتین اور بچوں سمیت لوگ وہاں جاتے ہیں، لیکن پولیس نے ہدایت کی ہے کہ سنیوں کو نہ آنے دیا جائے، تاکہ کوئی دہشتگردی کا واقعہ نہ ہو جائے۔“[15]

تحریکِ پاکستان کے دوران مسلکی فتنہ انگیزی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے اتحادی علماء کی طرف سے جناح کے مسلک کو بنیاد بنا کر ان کو سیاسی قیادت کیلئے نااہل ثابت کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔ لیکن یہ علماء اپنے کمزور سیاسی پروگرام اور تحریک خلافت میں ہونے والی حماقتوں کی تاریخ کی وجہ سے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ مسلم لیگ مسلمان عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہی کہ شیعہ سنی فساد بھڑکانے سے کانگریس کا مقصد مسلمانوں کے آئینی حقوق کے معاملے کو پس پشت ڈالنا ہے۔ جنگ عظیم دوم کے دوران آزادی کی تحریک نے سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تو شیعہ مخالف تشدد میں کافی کمی آگئی، لیکن   1944ء میں لاہور کے نواحی قصبے امرتسر میں ”تنظیم اہل سنت” کے نام سے ایک شیعہ مخالف دیوبندی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا[16]۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد لکھنو کے شیعہ سنی فسادات کے معمار مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور شہر بہ شہر فسادات بھڑکائے۔ ان فسادیوں میں مولانا نورالحسن بخاری، مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا سرفراز گکھڑوی، مولانا دوست محمد قریشی، مولانا عبد الحق حقانی اور مولانا مفتی محمود وغیرہ ملوث تھے۔

ڈاکٹر انڈریاس ریک کی کتاب “دی شیعاز آف پاکستان” کے مطابق 1949ء میں چوٹی زیریں اور 1950ء میں نارووال میں عزاداری پر حملے ہوئے۔ 1951ء میں پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں شیعہ امیدواروں کے خلاف فرقہ وارانہ بنیادوں پر مہم چلائی گئی اور انھیں کافر قرار دیا گیا۔ 1955ء میں پنجاب میں پچیس مقامات پر عزاداری کے جلوسوں اور امام بارگاہوں پر حملے کیے گئے، جن میں سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔ اسی سال کراچی میں ایک مولانا صاحب نے افواہ اڑائی کہ شیعہ ہر سال ایک سنی بچہ ذبح کر کے نیاز پکاتے ہیں، اس افواہ کے زیر اثر کراچی میں ایک بلتی امامبارگاہ پر حملہ ہوا اور بارہ افراد شدید زخمی ہوگئے[17]۔ 1957ء میں ملتان کے ضلع مظفر گڑھ کے گاؤں سیت پور میں محرم کے جلوس پر حملہ کرکے تین عزاداروں کو قتل کر دیا گیا۔ حکومت کی طرف سے عدالتی کمیشن قائم کیا گیا اور اس واردات میں ملوث پانچ دہشت گردوں کو سزائے موت دی گئی۔ اسی سال احمد پور شرقی میں عزاداری کے جلوس پر پتھراؤ کے نتیجے میں ایک شخص جان بحق اور تین شدید زخمی ہوئے۔

جون 1958ء میں بھکر میں ایک شیعہ خطیب آغا محسن ؒکو قتل کر دیا گیا۔ قاتل نے اعترافی بیان میں کہا کہ مولانا نور الحسن بخاری کی تقریر نے اس کو اس جرم پر اکسایا تھا، جس میں شیعوں کو قتل کرنے والے کو غازی علم دین شہید سے نسبت دی گئی تھی اور جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ مولانا نور الحسن بخاری کو کوئی سزا نہ ملی، جس سے فسادی علماء کی حوصلہ افزائی ہوئی۔[18] پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں 1963ء کا سال سب سے زیادہ خونریز ثابت ہوا۔ اسی سال جنرل ایوب نے مذہبی سیاسی جماعتوں کے بعض مطالبات تسلیم کئے تھے۔ 3 جون 1963ء کو بھاٹی دروازہ لاہور میں عزاداری کے جلوس پر پتھروں اور چاقوؤں سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دو عزادار قتل اور سو کے قریب زخمی ہوئے۔ نارووال، چنیوٹ اور کوئٹہ میں بھی عزاداروں پر حملے ہوئے۔ اس سال دہشت گردی کی بدترین واردات سندھ کے ضلعے خیرپور کے گاؤں ”ٹھیری“ میں پیش آئی، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عاشورا کے دن 120 عزاداروں کو کلہاڑیوں اور تلواروں کی مدد سے ذبح کیا گیا۔

16 جون کو لاہور میں جمعیت علمائے اسلام کے مفتی محمود، شورش کاشمیری اور مولانا غلام غوث ہزاروی وغیرہ نے اس قتل عام کی حمایت میں جلسہ کیا، جس میں اس قتل عام کا ذمہ دار مقتولین کو قرار دیا اور عزاداری پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا۔[19]  انہوں نے حکومت کی طرف سے ان واقعات پر افسوس کے اظہار کو شیعہ نوازی قرار دیا۔ ان جرائم میں ملوث افراد کو آج تک کوئی سزا نہ مل سکی نہ ہی تنظیم اہلسنت پر پابندی لگی۔ ساٹھ کی دہائی کی اہم ترین پیشرفت سوشلزم کی لہر تھی، جس نے عوام میں علماء کے اثر و رسوخ کو کم کیا۔ اسی وجہ سے 1965ء سے 1977ء تک کے عرصے میں شیعہ مخالف تشدد میں نمایاں کمی نظر آتی ہے۔ جب جولائی 1977ء میں جماعت اسلامی کی فکر سے متاثر جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا تو اگلے محرم، فروری 1978ء میں لاہور میں 8 جبکہ کراچی میں 14 شیعہ قتل ہوئے[20]۔ جنرل ضیاء کے دور اور اس کے بعد کے ادوار میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 1930ء میں بننے والی مجلس احرار اور 1944ء میں بننے والی تنظیم اہلسنت جیسی دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والی فرقہ پرست جماعتوں کو سپاہ صحابہ کی شکل میں زیادہ شدت سے کھڑا کیا گیا۔ نوے کی دہائی میں مسجدیں قتل گاہ بن گئیں، کلاشنکوف اور دستی بم عام ہوگئے۔

اس صورت حال میں 1993ء میں اہل تشیع نے سپاہ محمد کے نام سے ایک دہشت گرد تنظیم بنائی، جس کے قیام کا مقصد شیعوں کے قتل کا انتقام عام دیوبندیوں  سے لینا تھا۔ البتہ چونکہ یہ تنظیم ریاست کے اسٹریٹجک ڈیپتھ والے منصوبے میں فٹ نہیں ہوتی تھی، لہذا اسے چند سالوں کے بعد ایک جامع پولیس آپریشن کرکے ختم کر دیا گیا۔ گیارہ ستمبر 2001ء میں امریکا پر ہونے والے حملے کے بعد امریکا نے افغانستان پر طالبان حکومت کے خلاف جنگ چھیڑی تو کراچی کے جامعہ بنوری سے مفتی نظام الدین شامزئی نے ریاست پاکستان کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا۔ اس فتوے کے مطابق ہر قسم کا تشدد جائز قرار پایا۔ اس پر عمل کرنے کیلئے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے ایک دہشتگرد گروہ سامنے آیا تو شیعہ مخالف تشدد میں خودکش حملوں کا اضافہ ہوگیا۔ پاکستان کے کوچہ و بازار آگ سے جل اٹھے اور خون میں نہا گئے۔[21]

وقت آگیا ہے کہ فرقہ وارانہ دہشتگردی کی دو سو سالہ تاریخ کا تجزیہ کیا جائے۔ اسکے پیچھے سید احمد بریلوی کے ویژن کے مطابق سیاسی اقتدار کے حصول کی خواہش کو سمجھا جائے۔ اس کو سعودی ایران پراکسی یا پاکستان کو بدنام کرنے کی انڈین یا امریکی سازش کہنا حقائق کا انکار ہے۔ یہ کہنا کہ یہ بیرونی قوتوں کی سازش ہے اور افغان جہاد سے پہلے اس علاقے میں ایسا کچھ نہ تھا، دراصل غلط جگہ پر نشانہ لگانا ہے۔ بیرونی ہاتھوں پر ذمہ داری ڈالنے کا مطلب ہے کہ ہم خود کچھ نہیں کرسکتے۔ اس سوچ کو بدل کر اس مسئلے کی مقامی حیثیت کو تسلیم کرکے اس کے حل کی ذمہ داری قبول کرنے اور اپنی آنے والی نسلوں کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب مرض کی تشخیص ٹھیک ہو جائے تو علاج بھی ہو جایا کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[1]  Tabari, vol. 3, p. 361; Ibn al-Athîr (Kâmi1), vol. 5, p. 596; Ibn Khaldûn vol. 3, p. 422.
[2] Al-Beruni, “Kitab ul Hind”, translated by C. Sachau, Alberuni’s India, pp. 117, (1964).
[3] S. A. N. Rezavi, “The Shia Muslims”, in History of Science, Philosophy and Culture in Indian Civilization, Vol. 2, Part. 2: “Religious Movements and Institutions in Medieval India”, Chapter 13, Oxford University Press (2006).
[4] S. A. A. Rizvi, “A Socio-Intellectual History of Isna Ashari Shi’is in India”, Vol. I, pp. 233–234, Mar’ifat Publishing House, Canberra (1986).
[5] Sajjad Rizvi, “Shi’i Polemics at the Mughal Court: The Case of Qazi Nurullah Shushtari”, Studies in People’s History, 4, 1, pp. 53–67, SAGE (2017).
[6] A. Truschke, Aurangzeb The Man and the Myth, ch. 5, Penguin Books, 2017.
[7] Charles Allen, “God’s Terrorists: The Wahhabi Cult and the Hidden Roots of Modern Jihad”, pp. 63–64, Abacus, (2006).
[8] B. Metcalf, “Islamic revival in British India: Deoband, 1860–1900”, p. 58, Princeton University Press (1982).
[9] Makateeb-i-Syed Ahmed Shaheed, p. 75; Dr. Mubarak Ali, “Almiyah-i-Tarikh”, Chapter 11, pp. 107-121, Friction House, Lahore (2012).
[10] Dehli Urdu Akhbar, 22 March 1840, edited by: Khawaja Ahmad Farouqi, Jamal Printing Press, Delhi, (1972).
[11] Gazetteer of Lahore District, p. 94, (1894).
[12] Maulvi Noor Muhammad Chishti, “Yadgar-i-Chishti”, p. 152, Majlis-i-Taraqi-i-Urdu Adab, Lahore.
[13] Maulvi Noor Muhammad Chishti, “Yadgar-i-Chishti”, p. 237, Majlis-i-Taraqi-i-Urdu Adab, Lahore.
[14] Kanhaiya Lal, Tareekh-i-Lahore, p. 305, Victoria Press, Lahore (1884).
[15] J. N. Hollister, “The Shi’a of India”, p. 178, Luzac and Co, London, (1953).
[16] A. Rieck, “The Shias of Pakistan”, p. 47, Oxford University Press, (2015).
[17] A. Rieck, “The Shias of Pakistan”, pp. 88-90, Oxford University Press, (2015).
[18] A. Rieck, “The Shias of Pakistan”, pp. 94-97, Oxford University Press, (2015).
[19] A. Rieck, “The Shias of Pakistan”, pp. 110-111, Oxford University Press, (2015).
[20] Kunwar Khuldune Shahid, “Shiaphobia”, The Friday Times, April 04-10 , 2014 – Vol. XXVI, No. 08.
[21] C. Christine Fair, “Explaining Support for Sectarian Terrorism in Pakistan: Piety, Maslak and Sharia”, Religions, vol. 6, pp. 1137–1167, (2015).
خبر کا کوڈ : 886158
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش