8
Monday 14 Sep 2020 15:51

اسرائیل کے تحفظ کیلئے امریکی بلاک کی پھرتیاں

اسرائیل کے تحفظ کیلئے امریکی بلاک کی پھرتیاں
تحریر: محمد سلمان مہدی

یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا اور اس کی قیادت میں جمع اتحادی ممالک اسرائیل کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے آئے ہیں۔ مگر سال 2020ء اس حوالے سے بہت زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ خلیجی تعاون کاؤنسل جی سی سی کے دو عرب مسلمان ممالک (یو اے ای اور بحرین) کے حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی سے کیا ہے۔ یعنی موجودہ امریکی حکومت اس کا اعلانیہ کریڈٹ لے رہی ہے کہ اس کی سرپرستی میں عرب مسلمان ممالک کے حکمران اسرائیل کو ایک ملک کی حیثیت سے تسلیم کر رہے ہیں۔ تیرہ (13 اگست) 2020ء کو صدر ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ رسمی نارمل تعلقات کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اب گیارہ ستمبر 2020ء کو بحرین کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ نارمل تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کا اعلان بھی صدر ٹرمپ نے کیا ہے۔ پندرہ (15) ستمبر بروز منگل واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صدر کے وائٹ ہاؤس میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل رسمی طور پر معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں۔

موجودہ امریکی حکومت بہت تیزی سے زایونسٹ منصوبوں کو پایہ تکمیل کو پہنچا رہی ہے۔ ٹرمپ حکومت نے انٹرنیشنل لاء کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا ہے۔ انٹرنیشنل لاء کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹرمپ حکومت نے مقبوضہ جولان کے شامی علاقے کو اسرائیلی علاقہ تسلیم کر لیا ہے اور اب امریکا جی سی سی امریکی اتحادی ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروا رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے لیے پچھلے چالیس برسوں میں ایک تکفیری ماحول بنایا گیا۔ امریکا، زایونسٹ، سعودی، اماراتی، بحرینی اتحاد نے شیعہ کافر کے نعرے کی ترویج کی، انجمن سپاہ صحابہ اور دیگر تکفیری دہشت گرد ٹولوں کی سرپرستی کی۔ ایران کے خلاف جھوٹ پر جھوٹ پھیلایا جاتا رہا اور چالیس سالہ تکفیری پروپیگنڈا کے بعد امریکی زایونسٹ سعودی، بحرینی، اماراتی بلاک اس نتیجے پر پہنچا کہ اب عالم اسلام میں کوئی بھی ایران اور ایران کے حامیوں کی بات نہیں سنے گا۔ یعنی یہ تجزیہ و تحلیل اور نتیجہ گیری کرکے انہوں نے فیصلہ کن مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکا میں یہ صدارتی الیکشن کا سال ہے۔ موجودہ ری پبلکن صدر ایک اور مدت کے لیے صدارتی مقابلے میں امیدوار ہیں۔ ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پرانے رہنماء اور سابق نائب صدر جوزف بائیڈن کے ساتھ ہے۔ نومبر کے اوائل میں یہ الیکشن ہوں گے۔ اس وقت امریکا میں صدارتی مہم جاری ہے۔ بظاہر یوں لگ رہا ہے جیسے امریکی زایونسٹ سعودی، اماراتی و بحرینی بلاک جیت چکا ہے اور اس وقت وہی چوکے چھکے لگا رہا ہے۔ لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے اور وہ رخ بہت واضح ہے کہ عراق میں عین الاسد کے فوجی اڈے پر ایران کے جوابی میزائل حملے نے یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کی سپرپاور حیثیت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔   اس کے بعد خطے سے امریکی فوجی انخلاء کا مطالبہ سامنے آیا۔ امریکی حکومت پر دباؤ بڑھا کہ وہ یہاں فوجی موجودگی ختم کرے۔ پچھلے چالیس برسوں سے وہ کسی نہ کسی بہانے علاقائی ممالک کو خوفزدہ کرکے فوجی موجودگی رکھتا آرہا ہے۔ اب امریکا دباؤ میں ہے کہ یہاں سے مکمل فوجی انخلاء عمل میں لائے۔

ہو یہ رہا ہے کہ اس وقت امریکی افواج عراق سے فوجی اڈے خالی کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ معاملہ یہاں تک محدود نہیں ہے بلکہ یورپ میں بھی یہ مقبول عوامی مطالبہ ہے کہ وہاں امریکا فوجی اڈے یا فوجی موجودگی نہ رکھے اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ٹرمپ حکومت ایک یورپی ملک سے دوسرے یورپی ملک کی طرف اپنے فوجی منتقل کر رہی ہے۔ کہیں تعداد کم کر رہی ہے جیسا کہ جرمنی۔ محض عراق یا شام کے عوام نہیں بلکہ افغانستان و پاکستان کے عوام بھی امریکی فوجی موجودگی اور اڈوں کے شدید مخالف ہیں۔ امریکا بہانے بازیاں کرکے اور دہشت گرد پراکسیز کے ذریعے عوام و خواص کو خوفزدہ کرکے اپنی موجودگی کو ناگزیر باور کرواتا آیا ہے، مگر اس کی موجودگی کے باوجود کسی بھی ملک کا امن و سکون بحال نہیں ہو پایا۔ اس زمینی حقیقت نے امریکا کی ناکامی کو ہر قوم کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔ اس لیے وہ سوئٹزرلینڈ کے ذریعے فیس سیونگ مشق میں مصروف ہے۔ امریکا سوئٹزرلینڈ کے ذریعے بیک ڈور چینل سفارتکاری کرکے ایران حکومت سے وقت مانگ رہا ہے کہ امریکی افواج کی محفوظ واپسی کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

حالانکہ امریکا کی فوجی موجودگی ایران کے اندر نہیں ہے بلکہ عراق اور شام میں ہے، لیکن چونکہ ایران ان ملکوں کے عوام اور حکومت کا اتحادی اور دوست ہے اور ان ممالک کی درخواست پر اپنا قانونی کردار ادا کر رہا ہے اور امریکا نے غیر قانونی حملہ کرکے ایران کے فوجی جرنیل القدس فورس کے سربراہ حاج قاسم سلیمانی کو عراقی رضاکار فورس کے کمانڈر ابو مہدی مھندس کے ساتھ شہید کر دیا تھا۔ تب سے ایران نے رسمی طور پر یہ مطالبہ کر رکھا ہے کہ امریکا کو خطے سے نکالا جائے۔ امریکی افواج نے جی سی سی ممالک کی سرزمین بھی ایران کے خلاف استعمال کی ہے۔ اس لیے ایران کا یہ مطالبہ ہر ملک سے ہے کہ جس کی سرزمین امریکا نے ایران کے خلاف استعمال کی ہے۔ یہ وہ پس منظر ہے کہ جس میں امریکی زایونسٹ سعودی اماراتی بحرینی بلاک کی موجودہ پھرتیوں کے اصل اسباب کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ امریکی مغربی بلاک نے سیاسی اسلام کو ایک خطرہ قرار دے رکھا ہے اور سیاسی اسلام کے پیروکاروں پر امریکی بلاک نے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

چونکہ ایک ملک کی حیثیت سے ایران سیاسی اسلام کا ایک رول ماڈل ملک ہے، فلسطین و لبنان و یمن و بحرین اور نائیجیریا سمیت جہاں بھی اسلامی تحریکیں فعال ہیں اور اسلامی نظام کا مطالبہ کیا جارہا ہے، یہ سب سیاست کو اسلامی قوانین اور اصولوں کے تابع کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔   اور مسلمان خواہ شیعہ ہو یا سنی، مقلد ہو یا غیر مقلد، اسلام سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔  زرخرید ملاؤں اور تنگ نظر فسادیوں کا معاملہ کچھ اور ہے۔  لیکن ایک راسخ العقیدہ عام مسلمان بھی جسے معلوم ہے کہ مسلمان کون ہوتا ہے، وہ یہ جانتا ہے کہ آل سعود کی بادشاہت بھی غیر اسلامی بلکہ اسلام دشمن ہے۔  اسی طرح متحدہ عرب امارات میں آل نھیان کی امارت ہو یا بحرین میں آل خلیفہ کی بادشاہت، یہ سبھی اسلامی اصولوں کے خلاف مسلط کی گئیں ہیں۔  سبھی کو معلوم ہے کہ یہ بادشاہتیں اور امارتیں، یہ شیوخ و شاہ بنو امیہ بنومروان کی ناصبی ملوکیت کے پیروکار ہیں۔  انکا تو خلافت راشدہ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

جی سی سی کے ان شاہ و شیوخ کو عوام الناس یا خواص نے حکمران نہیں بنایا، بلکہ یہ قبائلی ڈنڈے کے زور پر لڑائیوں کے بعد مسلط ہوئے ہیں۔ ترک خلافت عثمانیہ کے خلاف برطانوی امریکی سامراج کا سہولت کار بننے کے صلے میں آل سعود کو نجد و حجاز کی بادشاہت دی گئی۔ اسی طرح برطانوی سامراج نے جی سی سی کے مسلمانوں پر آل خلیفہ و آل نھیان جیسوں کو مسلط کیا۔ یاد رہے کہ بحرین کی اکثریتی آبادی شیعہ مسلمان ہیں لیکن حکمران آل خلیفہ اس اکثریتی آبادی سے تعلق نہیں رکھتا، بلکہ وہ خود کو سنی کہتا ہے۔ یہی حال سعودی عرب اور امارات کا ہے۔ چالیس برس پہلے انہوں نے شیعہ کافر کے نعرے کو پاکستان کی سرزمین پر ایکسپورٹ کیا تھا۔ آج چالیس سال بعد مسلمان خود دیکھ لیں کہ پچھلے چالیس برسوں میں فلسطین سمیت مقبوضہ عرب سرزمین اور مقامات مقدسہ کا مقدمہ کس نے لڑا اور کون اسلام و مسلمین کے دشمنوں، عربوں کے دشمنوں کا ساتھ دیتا رہا۔ یہ عبرت کا مقام ہوگا کہ اگر اس کھلی حقیقت کو بھی نہ سمجھا جاسکے۔

یہ تو ایک عام آدمی بھی دیکھ رہا ہے کہ کون زایونسٹ امریکی مغربی اتحاد میں شامل ہوکر بیت المقدس کے غیر قانونی قابض اور ارض مقدس فلسطین کے غاصب اسرائیل کے ساتھ علی الاعلان مل چکا ہے، پاکستان اور ہندستان کے عوام دیکھ لیں کہ اس وقت اسرائیل اور اسرائیل کو تسلیم کرنے والے خائن عرب حکمرانوں کی مذمت، مخالفت اور ان کے خلاف ریلیاں نکالنے کی بجائے مسلکی منافرت پھیلانے کے لیے جلسے جلوس ہو رہے ہیں۔ عالم اسلام و عرب کے سامنے دوست اور دشمن کی شناخت آسان ہوچکی ہے۔ دشمن نے حق و باطل کی اس جنگ کو فیصلہ کن فائنل راؤنڈ میں داخل کر دیا ہے، اب دنیا کے باضمیر، منصف مزاج انسان اور عالم اسلام و عرب خود دیکھ لیں کہ ایک صف میں کروڑوں انسانوں کے قاتل جنگجو امریکی مغربی بلاک اور اس کے اتحادی عرب شاہ و شیوخ اور متعصب فسادی ملاؤں کے ٹولے ہیں، اور دوسری صف میں عالم اسلام و عرب کے غیرت مند بیٹے ہیں۔ ہم اور آپ اپنا فیصلہ کر لیں کہ ہم کس طرف ہیں!؟
خبر کا کوڈ : 886189
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش