0
Wednesday 16 Sep 2020 17:01

آپ حسینی ہیں یا یزیدی؟

آپ حسینی ہیں یا یزیدی؟
تحریر: توقیر کھرل

عمومی طور پر ایک جملہ مجالس میں کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی شیعہ یا سنی نہیں ہے، صرف دو ہی فرقے ہیں، انسان یا تو حسینی ہوتا ہے یا یزیدی ہوتا ہے۔ گذشتہ دنوں کراچی میں یزید زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا گیا، اس نعرے کی سوشل میڈیا سے مذمت بھی کی گئی ہے اور اس جملہ کو دوبارہ دہرایا گیا ہے کہ کربلا کے بعد دو ہی فرقے باقی ہیں، حسینی یا یزیدی۔ اگر تاریخِ کربلا کا جائزہ لیا جائے تو اِن دونوں فرقوں کا آغاز دس محرم 61 ہجری سے پہلے ہی ہوگیا تھا۔ حضرت حُر کا امام حُسین علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہونا حُسینی ہونے کا اعلان تھا۔ شہید کربلا حضرت وہب کلبی کا مسیحت ترک کرکے لشکرِ حسین میں شامل ہونا بھی حُسینی ہونا ثابت کرتا ہے۔ اب ایک اور شخصیت کا ذکر کرنا لازم سمجھوں گا، جنابِ زہیر قین کا تعلق عثمانی فرقہ سے تھا، وہ حضرت عثمان کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے تھے، لیکن آخر میں تمام غلط فہمیاں دُور ہونے کے بعد لشکرِ امام حؐسین میں شامل ہوئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔

دس محرم کو امام حُسین کی شہادت سے چند لمحہ پہلے خوارج اور لشکر یزید سے دو بھائی لشکرِ امام میں شامل ہوئے اور حسینی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے شہید ہوئے۔ پسرِ سعد اور ضحاک عبد اللہ اور متعدد غیر جانب دار جید بزرگان یہ جانتے ہوئے بھی کہ امام کا قیام برحق ہے، یزید کے حامی رہے۔ حُسینی اور یزیدی کا سفر کربلا کے بعد کاروانِ حُریت کے شام پہنچنے تک بھی جاری رہا۔ عیسائی اور غیر شیعہ افراد نے امام حُسین کے حرم کے لیے قربانیاں پیش کیں۔ حسینی اور یزیدی دو الگ الگ کردار ہیں، جو 61 ہجری سے تا صبح قیامت سامنے آتے رہیں گے۔ امام حسین ؑ نے میدانِ کربلا میں حق و باطل کے درمیان ایسی لکیر کھینچی، جو رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 886674
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش