0
Thursday 17 Sep 2020 14:36

تفرقہ، عقل سے ناجائز استفادہ کرنیوالوں کا محبوب مشغلہ

تفرقہ، عقل سے ناجائز استفادہ کرنیوالوں کا محبوب مشغلہ
تحریر: محمد حسن جمالی

انسانی عقل کی راہنمائی کی بدولت آج پوری دنیا میں ناقابل یقین ترقیاں ہو رہی ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نت نئی اختراعات، ایجادات اور انکشافات ہو رہے ہیں، مختلف علوم کے دریچے انسان پر کھلتے جا رہے ہیں، تمام شعبہ ہائے زندگی میں حیرت انگیز پیشرفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ عقل کی اہمیت اور عظمت کو صحیح معنوں میں سمجھنے کا اصلی منبع اللہ تعالیٰ کی لاریب کتاب اور عصمت کی مالک ذوات مقدسہ کے عالی ارشادات ہیں، امام علی (ع) فرماتے ہیں: انسانی وجود کا سب سے بہترین حصہ اس کی عقل ہے، جب اس کی رسوائی ہوتی ہے تو عقل اسے عزت بخشتی ہے، اگر وہ پستی کی طرف جاتا ہے تو عقل اسے رفعت عطا کرتی ہے اور اگر گمراہ ہوتا ہے تو عقل اس کی ہدایت کرتی ہے۔ رسول خدا (ص) فرماتے ہیں کہ جہالت سے بڑھ کر کوئی فقر نہیں اور عقل سے زیادہ منفعت بخش کوئی سرمایہ نہیں۔

صاحب تفسیر المیزان لکھتے ہیں کہ انسان کے وجود میں سب سے زیاده شریف قوت عقل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انسانوں کو اس خداداد طاقت سے استفاده کرنے کا حکم تین سو سے زیاده مرتبہ دیا ہے۔ حضرت علی (ع) نے انبیاء کی بعثت کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: اللہ نے نبیوں کو لوگوں کی طرف بھیجا، تاکہ وه ان کی سوئی ہوئی عقل کو بیدار کریں۔ آیات قرآن غور و فکر اور سوچنے سمجھنے کی دعوت دیتی ہیں۔ جیسے تفکر، تذکر، تدبر، تعقل، تعلم، تفقہ، ذکر اور عقل و خرد جیسی تعبیریں استعمال ہوئی ہیں۔ یہ تمام چیزیں بنیاد ہیں اور دوسری چیزوں کی نسبت ان کی طرف زیادہ توجہ دلائی گئی ہے۔ قرآن کریم میں کلمہ علم اور اس کے مشتقات ٧٧٩ بار، ذکر ٢٧٤ بار، عقل ٤٩ بار، فقہ ٢٠ بار، فکر ١٨ بار، خرد ٦١ بار اور تدبر ٤ بار آیا ہے۔ اسلام کی نظر میں عقل انسان کی بنیاد، اس کی قدر و قیمت کا معیار، درجات کمال اور اعمال کے پرکھنے کی کسوٹی، میزان جزا اور خدا کی حجتِ باطنی ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دنیا کے انسانوں نے اپنے مادی مفادات کے حصول کے لئے عقل سے ضرور استفادہ کیا، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج افراد بشر مادی دنیا میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے رہے ہیں، ہر کوئی اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ سب سے زیادہ میرا بینک بیلنس ہو، سب سے قیمتی گاڑی میرے پاس ہو، سب سے خوبصورت کوٹهی اور بنگلہ میرا ہو، لوگ سب سے زیادہ میری عزت کریں، لوگ مجھے ہی دولت مند اور ثروتمند کہیں وغیرہ، ان مادی اہداف کے حصول کے لئے ہر انسان اپنی قوت عقل سے غور و خوض کرتا ہے، منظم منصوبہ بندی کے ساتھ شب و روز تلاش کرتا ہے اور مادی مفادات کے حصول کی راہ میں جو چیز ان کی نظر میں مانع بن رہی ہے، اسے راہ سے جلد ہٹا کر اپنے مقاصد کو پا لینے کی سعی کرتا ہے۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف مادی مفادات حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا ہی زندگی کا ہدف ہے؟ کیا مال دنیا جمع کرکے عیاشی میں زندگی گزارنا معقول زندگی ہے؟ جواب نفی میں ہے، اس لئے کہ یہ خواہش تو حیوانات بھی رکھتے ہیں جبکہ وہ نعمت عقل سے محروم ہیں، حیوان کی ساری تلاش و تگ و دو بھی اپنے ذاتی منافع کے گرد گومتی ہے، اگر عقل جیسی عظیم دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود انسان کی زندگی کا مقصد بھی مادیات میں منحصر رہے تو نہ صرف انسان حیوان جیسا ہوگا بلکہ حیوان سے بهی بدتر متصور ہوگا، ایسے مادی مفادات کے دائرے میں محبوس زندگی انسانی و معقول زندگی نہیں بلکہ یہ حیوانی زندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا اس لئے نہیں فرمائی کہ انسان اس سے صرف مادی دنیا سنوارنے کے لئے استفادہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اس لئے عطا کی ہے کہ انسان اس خداداد قوت کے بل بوتے پر طبیعت و مادیات کی دیوار پھلانگ کر ماوراء طبیعت امور کے بارے میں بھی سوچیں۔

حیوانی زندگی سے نکل کر انسانی، معقول زندگی میں اپنی حیات کے لمحات گزاریں۔ معقول زندگی وہ ہے کہ جو رنگ الہیٰ سے سرشار ہو، جس کا مقصد دنیا نہ ہو بلکہ دنیا قرب خدا حاصل کرنے کا وسیلہ ہو، دنیا آخرت کی کھیتی ہو، معقول زندگی یہ ہے کہ جس میں احترام آدمیت و انسانیت کا خیال رکھا جاتا ہو، جو عدل و انصاف، مظلوم کی حمایت اور ظالم سے نفرت جیسے اچھے اوصاف سے لبریز ہو۔ آج مسلمانوں کو درپیش اقتصادی، امنیتی، سیاسی، مذہبی اور دوسرے اجتماعی و انفرادی، کلی و جزئی مسائل کی اگر ہم ریشہ یابی کرکے ان مسائل کے اصلی و فرعی اسباب و علل کو ایک ہی سبب میں سمو کر خلاصہ کرکے دیکھنا چاہیں تو وہ سبب مادی مفادات ہے۔

اسلام امن و سکون کا دین ہے، مگر اسی اسلام کے ماننے والے آج سب سے زیادہ پریشانی اور اضطراب کا شکار دکھائی دیتے ہیں، کیوں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ اگر ہم عمیق فکر کریں گے تو اس کیوں کے جواب میں یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ چونکہ مسلمانوں نے اپنے مادی مفادات کو سب سے زیادہ مقدم جانا، انہیں سب سے زیادہ اہمیت دی، دین پر دنیا کو ترجیح دے کر دنیا کے پیچھے چل پڑے، اپنی خداداد عقلی صلاحیتوں کو فقط مادی امور میں استعمال کیا، اسلام کے فطرت و عقل بشر کے موافق زندگی کے زرین اصول و قوانین سے منہ موڑا، جس کے سبب آج مسلمان طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہیں۔ عقل و دین مسلمانوں کو جهنجھوڑتے رہتے ہیں کہ اے مسلمان! یہ دنیا اور مال دنیا فانی ہے، دنیوی لذتیں وقتی ہیں، تمہاری زندگی اس دنیا میں محدود ہے۔ آخرکار تمہیں موت آکر رہے گی اور یہ حقیقت بهی مسلم ہے کہ موت کا وقت کسی انسان کے علم میں نہیں، موت کسی بھی وقت انسان کو آسکتی ہے۔ اس نے نہ جوانی کو دیکھنا ہے اور نہ بڑهاپے و بچپنے کو۔

جب ایسا ہے تو انسان تکبر کیوں کرے، بد اخلاق کیوں بنے، مسلمان لسانی، مذہبی، علاقائی تفرقے کا شکار کیوں ہو جائے، قرآن کے حق و حقيقت پر مبنی اصولوں سے روگردانی کیوں کرے، حضرت علی (ع) فرماتے ہیں کہ اے بے بصیرت انسان! تم اپنے آپ کو ایک چھوٹا سا جثہ خیال کرتے ہو جبکہ تمہارے اندر عالم اکبر سمویا ہوا ہے۔ عقل کی یہ آواز آتی رہتی ہے کہ اے انسان اس نیلگون آسمان اور وسیع زمین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے خلق کیا ہے، پس اس ارض خدا پر سارے انسانوں کو جینے کا حق دو، اے انسان! تم جو اپنے لئے پسند کرتے ہو، اسے دوسروں کے لئے بھی پسند کیا کرو. مگر آج کل کے مسلمان فطرت، دین اور عقل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے معقول زندگی گزارنے کے لئے حاضر نہیں، مادی مفادات نے مسلمانوں کو اندھا کر دیا ہے، مال دنیا کے طمع اور لالچ نے مسلمانوں کو بے چارہ کر دیا ہے، مسلمان معنویات اور غیر محسوس امور کے بارے میں اپنی عقل سے بہت کم غور و خوض کرتے ہیں، جس پر گواہ ہمارے ملک کے حالات ہیں۔

پاکستان اسلام کے نام پر بنا، تاکہ مسلمان پرسکون ماحول میں رہتے ہوئے فطرت، عقل اور دین کے تقاضوں کو پورا کرسکیں اور انہیں معقول زندگی بسر کرنے کا موقع میسر آجائے، در نتیجہ مسلمان پاکستان کے اندر بھائی بھائی بن کر آپس میں پیار و محبت کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے سامنے متحد ہوکر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں، مگر مادی مفادات اور خواہشات نفسانی پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت کی عقل پر غالب آگئی اور وطن عزیز کے اکثر مسلمانوں نے اسلام اور قرآن کی بے بدیل و بے نظیر تعلیمات کو چھوڑا، آپس میں دشمنی اور دشمنوں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ مادی مفادات کے حصول کے لئے اسلام کے دشمنوں کے جهانسے میں آگئے، ان کی چالوں اور سازشوں کا شکار ہوگئے، آج مسلمان رنگ،نسل، زبان اور مذہب کے اختلاف کی بنیاد پر تقسیم ہیں اور ہمارے دشمن روز بروز ان اختلافات کو ہوا دے کر ان کے درمیان نفرت، کینہ، بغض اور عداوت کو وسعت دینے کی جدوجہد کررہے ہیں، جس کے لئے وہ مٹھی بھر ناصبی یزیدی مولویوں کو خوب استعمال کررہے ہیں۔

چنانچہ 12 ستمبر 2020ء کو عقل کے اندھے مولوی اپنے مدارس کے  بے چارے طلباء کو لیکر ریلیاں نکالتے ہیں اور کنٹینر کے اوپر سے مجمع سے مخاطب ہوکر شیعہ مسلمانوں کی تکفیر کرواتے ہیں اور یزید پلید کو مسلمانوں کے سر کا تاج بنانے کے نعرے لگواتے ہیں۔ انہی عقل سے پیدل، پیٹ کے پجاری، اسلامی تعلیمات سے عاری جاہل مولوی اور مفتیوں کی غلط تبلیغات اور بے بنیاد فتوے کے سبب پاکستان کی سرزمین پر دہشتگردوں کو پھر سے سر اٹھانے کی ہمت ملی اور شیعہ مسلمانوں کو کافر سمجھ کر سرعام گولی سے بھوننا شروع  کر دیاـ دو دن پہلے کوہاٹ میں ہنگو  کے علاقہ ابراہیم زئی سے تعلق رکھنے والے دو جوانوں کو شہید کر دیا گیا، اس سے پہلے قیصر عباس کو شہید کیا گیا۔ اسی طرح منڈی بہاوالدین میں جلوس کے لائسنس ہولڈر کو شہید کیا گیا۔ اہل علم و دانش جانتے ہیں کہ ہٹلر کے ایک وزیر باتدبیر گوٹے بلز کا کہنا تها کہ جهوٹ کو اگر پرکشش الفاظ میں زوردار و موثر طریقے سے دہرایا جائے تو وہ بھی سچ معلوم ہونے لگتا ہے، بالکل یہی صورتحال پاکستانی معاشرے کے اندر ہے۔ ناداں مولویوں کی غلط باتیں سن سن کر عوام کو ان کی باتیں سچ معلوم ہوتی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خود سے تحقیق اور مطالعہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔

حالیہ کراچی میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لئے مولویوں کی نکالی گئی ریلی کے بعد اس ریلی کی قیادت کرنے والے مفتی منیب الرحمن اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں: (تاریخ پاکستان کا یہ پہلا ملین مارچ ہے کہ فجر کی نماز کے بعد سے شروع ہوا اور طے شدہ پروگرام کے مطابق ٹھیک دو بجے سہ پہر اختتام کو پہنچا، نہ کسی نے کوئی کنکر پھینکا، نہ کسی کو دھکا دیا، کوئی گملا تک نہیں ٹوٹا، کسی کے خلاف کوئی نفرت انگیز نعرہ نہیں لگا، خطابات اور نعروں کو صرف اپنے مشن تک محدود رکھا، وقت پر ریلی شروع ہوئی اور مقررہ وقت پر پُرامن طریقے سے اختتام کو پہنچی۔نہ یہ ریلی کسی فرقے کے خلاف تھی اور نہ ہم فرقہ پرستی کے علمبردار ہیں) ہم  مفتی صاحب کی خدمت میں عرض کریں گے کہ جناب! اسلام کی تعلیمات میں جھوٹ بولنا اور لکھنا گناہ کبیرہ ہے۔ پوری دنیا سمجھ چکی ہے کہ آپ کی ریلی کا مقصد سو فیصد فرقہ واریت کو ہوا دینا تھا، جس پر گواہ ریلی کے اجتماع میں شیعہ مسلمانوں کی کھلی تکفیر کروانا ہے۔

مفتی صاحب آپ کی بصیرت کو ہمارا سرخ سلام ہو کہ ایک جاہل ذاکر کی غلط حرکت کو بہانہ بنا کر آپ نے اہلسنت مسلمانوں کو پوری ملت تشیع کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی، اس کے بعد پاکستان کی سرزمین پر دفاع معاویہ اور یزید کی کامیاب ریلی نکالنے کے عوض مدافع اعظم یزید کا لقب آپ کو ہی سجتا ہے، خوش رہیں۔ مفتی صاحب نے اپنی تحریر کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے (ہم تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کے پیروکاروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے بارے میں توہین آمیز گفتگو اور دوسروں کی دل آزاری سے گریز کریں، یہ ملکی عدمِ استحکام کا باعث بنے گی، ہمارا ملک کسی قسم کی فرقہ واریت اور منافرت کا متحمل نہیں ہوسکتا‘‘۔) بے شک یہ باتیں تو ہر مسلمان کے دل کی آواز ہیں، مگر جب تک ان باتوں کو عملی جامہ نہیں پہنائیں گے، ایسی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ جس دن پاکستان کی سرزمین پر مولوی اور مفتی حضرات ان باتوں پر ایمان لاکر عمل کرنا شروع کریں گے، یقین جانیئے ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ ہوگا۔

وہ آگے لکھتے ہیں (پاکستان کی تہتّر سالہ تاریخ میں کبھی اہلِ تشیّع کی جانب سے پبلک سٹیج پر اہل سنّت و جماعت کے مقدّسات کی اس طرح اعَلانیہ توہین نہیں کی گئی، 74ویں سال میں یہ پہلی مرتبہ ہوا اور اس میں تمام حدوں کو عبور کر دیا گیا ہے) یہاں مفتی صاحب کی عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، کیونکہ ان دو سطروں میں انہوں نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ غلط بات لکھی ہے۔ ایک ممیز نابالغ بچہ بھی سمجھتا ہے کہ کسی جاہل انسان کی غلط بات کو بنیاد بنا کر پورے مکتبہ فکر کو متہم کرنا ناانصافی ہے، مگر مفتی صاحب نے موقع سے زبردست سوء استفادہ کیا، البتہ اس سے آپ کی شخصیت کو ہی ٹھیس لگی، کسی اور کا کچھ نہیں بگڑا۔ تبھی تو امام علی ؑ نے فرمایا ہے: عاقل پہلے سوچتا ہے پھر بولتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ  ریلی کے بعد ایسی ویڈیو بھی دیکھنے کو ملیں، جن میں مفتی صاحب کسی مولوی سے توبہ بھی کروا رہے ہیں۔ بے شک تفرقہ، عقل سے ناجائز استفادہ کرنے والوں کا محبوب مشغلہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 886804
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش