0
Friday 25 Sep 2020 02:07

بھارت کی افغانستان کے راستے پاکستان کیخلاف طبی جنگ

بھارت کی افغانستان کے راستے پاکستان کیخلاف طبی جنگ
رپورٹ: سید عدیل زیدی

تاریخ گواہ ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم اور مشکلات سے دوچار کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، کبھی دہشتگردی و تخریب کاری، کبھی سیاسی عدم استحکام، کبھی فرقہ واریت تو کبھی وسائل پر قبضہ کی کوشش۔ ہندوستان نے ہمیشہ وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی۔ ایک وقت تھا کہ نئی دہلی کی جانب سے اسلام آباد کو ایک سرحد (مشرقی سرحد) سے مشکلات درپیش رہتی تھیں، تاہم نائن الیون کے بعد سے ہندوستان نے افغانستان کی سرزمین کو بھی پاکستان کیخلاف انتہائی منظم انداز میں استعمال کرنا شرع کیا اور قبائلی اضلاع سے ملنے والی افغان سرحدوں سے بھی پاکستان کو ہر طرح سے مشکلات سے دوچار کرنے کی کوششیں کیں۔ دفتر خارجہ اور ملکی سکیورٹی اداروں کے اس حوالے سے تحفظات اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ اس تناظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان کیخلاف طبی سطح پر بھی جنگ لانچ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

اس جنگ میں ہندوستان افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو کسی نہ کسی سظح پر نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا ہے کہ بھارت نے افغانستان کے راستے غیر قانونی اور انتہائی مضر صحت ادویات پاکستان منتقل کرنے کا سلسلہ کافی عرصہ سے شروع کر رکھا ہے، ان ادویات کے استعمال سے انتہائی خطرناک بیماریاں پھیلنے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں غیر قانونی طریقے سے افغانستان کے راستے بھارتی ادویات پہنچائی جاتی ہیں، ان ادویات میں جراثیمی اجزاء کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے قبائلی علاقہ جات اور ان سے ملحقہ علاقہ جات میں کئی پراسرار بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ادویات کے استعمال سے حاملہ خواتین بھی مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوتی ہیں، اکثر زچگی کے دوران اُن کی موت واقع ہو جاتی ہے یا بعد میں مختلف امراض کا شکار ہو جاتی ہیں جبکہ ان کے پیدا ہونے والے بچے بھی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ مختلف عمر کے افراد میں غیر معمولی طور پر بیماریوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ غیر قانونی طریقے سے آنے والی ان ادویات کا سب سے بڑا مرکز پشاور کی کارخانو مارکیٹ ہے۔ (یہ مارکیٹ پشاور اور قبائلی ضلع خیبر کے سنگم پر واقع ہے)۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی محمد فہیم نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ کارخانو مارکیٹ میں ان ادویات کی ترسیل کیلئے بڑے بڑے گودام کرائے پر حاصل کئے گئے ہیں، جہاں سے پشاور اور ملک کے دیگر حصوں کو بذریعہ خواتین اور بچے یہ دوائیاں سپلائی کی جاتی ہیں اور اسی طرح ان ادویات کا دوسرا بڑا مرکز شمالی وزیرستان کا صدر مقام میرانشاہ ہے۔ یہاں پر ان ادویات کو خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بھیجا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشاور اور شمالی وزیرستان ملک کے دیگر اضلاع کی نسبت بیماریوں کا گھڑ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں جب علاقے کا سروے کیا گیا تو معلوم ہُوا کہ پاکستانی ادویات کے مقابلے میں ان ادویات کی قیمت بھی انتہائی کم ہے۔

فہیم خان کے مطابق ادویات پر تحریر کئے گئے لیٹریچر کے مطابق ایک ٹیبلیٹس میں تین/چار فارمولے استعمال کئے گئے ہیں۔ مثلاً ان کی ایک ٹیبلیٹس (ڈیکلیسین فولڈ) میں پیراسٹامول، ڈیکلوفینک سوڈیم، میگنیشئم ٹرائی سیلیکیٹ استعمال کی گئی ہے۔ محمد فہیم خان کا کہنا تھا کہ ویسے تو یہ تین فارمولے سستے ہیں، لیکن اتنے بھی سستے نہیں کہ ان کی دس ٹبلیٹس کی قیمت صرف 3.25 روپے ہو۔ اگر حساب کیا جائے تو افغانستان کے مشرقی صوبوں تک پہنچانے میں ان پر دوگنے اخراجات آتے ہیں۔ یہ تو عام مارکیٹ میں 3.75 روپے میں دستیاب ہیں، جو ان کے کاروبار کرتے ہیں، ان کو تو اس سے بھی سستے داموں میں دستیاب ہونگی۔ ان ادویات کیساتھ ساتھ جنسی صلاحیت بڑھانے والے ادویات بھی اس مارکیٹ میں انتہائی سستے داموں اور سرعام فروخت کیلئے دستیاب ہیں۔ سرائیکی علاقوں میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ ’’اگر دشمن کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے تو کم از کم اس کی دودھ دینے والی گائے کا بھچڑا کھول دو‘‘ تاکہ وہ اس کا دودھ پی لے اور کم از کم تم دشمن کو ایک دن کے دودھ سے تو محروم کر دو۔

یہاں یہی صورتحال ہندوستان کی دکھائی دیتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا کہ پاکستان کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ شمالی وزیرستان اور خاص طور پر صوبائی دارالحکومت میں حکومت کی ناک کے نیچے صحت عامہ جیسے اہم مسئلہ کو لیکر دشمن ملک کی سازش سے حکمرانوں کا بے خبر رہنا لمحہ فکریہ ہے۔ مذکورہ بالا حالات کا جائزہ لیتے ہوئے واضح ہوتا ہے کہ یہ کاروبار نہیں بلکہ سب کچھ منظم طریقہ کار سے کیا جا رہا ہے، اس دھندے میں کئی منافع خور پاکستانی تاجر اور عین ممکن ہے کہ کوئی منظم مافیا ملوث ہو اور یہ سمگلنگ سرکاری اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہونا نظر نہیں آتا۔ حکومت پاکستان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس حساس مسئلہ پر فوری ایکشن لینے اور اس کے سدباب کی ضرورت ہے، تاکہ ہندوستان اور افغانستان کے گٹھ جوڑ سے ہونے والی اس طبی جنگ کو روکا جاسکے۔
خبر کا کوڈ : 888250
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش