0
Tuesday 29 Sep 2020 01:17

ٹکٹ والے الیکٹیبلز کا دھندہ کیسے ختم ہو؟

ٹکٹ والے الیکٹیبلز کا دھندہ کیسے ختم ہو؟
تحریر: لیاقت علی انجم

گلگت بلتستان کی قسمت کا فیصلہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے بند کمروں میں ہونے کا سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتا، جب تک ہم پڑھے لکھے جاہل نہ بنیں اور خود کو "سٹاک ہوم سینڈروم" سے آزاد نہ کریں۔ ایک حلقے کا 20 ہزار کا ووٹ بنک ہے اور ان بیس ہزار ووٹروں کا نمائندہ کون ہوگا، یہ فیصلہ بیس ہزار لوگوں نے ہی کرنا ہے ٹکٹ نے نہیں۔ بدقسمتی سے ٹکٹ ذہنی غلامی کا ایک ایسا طریقہ واردات ہے، جس کے اعلان کے بعد لوگ اپنے ہاتھ پیر باندھ کر لائن بنا کر اپنی قربانی کا خود بندوبست کر رہے ہوتے ہیں اور جس سے اچھے خاصے لوگوں کے شعور کو بھی بریک لگ جاتی ہے۔ ٹکٹ کے اعلان کے بعد لوگ ہار مان جاتے ہیں اور کوستے ہوئے اپنے ووٹ اسی کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں، یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ آگے تباہی ہے، جب ہم خود تباہی کو ووٹ دینگے تو بربادی یقینی ہے اور پھر اس بربادی پر دوسروں کو کوسنے کا کیا مطلب۔؟

کیا ٹکٹ کوئی آسمانی صحیفہ ہے، جس پر ایمان لانا لازم ہو۔ کیا ہم نہیں دیکھ رہے کہ ایک بندہ جس کو ابھی ابھی ٹکٹ ملا ہے، یہ وہی بندہ ہے جو پچھلے تیس چالیس سال سے ہمارا حاکم ہے اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر ہے، کیا ہم نہیں دیکھ رہے کہ جس الیکٹیبل کو پھر سے ٹکٹ کا حقدار قرار دیا گیا ہے، وہی پچھلے بیس تیس سالوں سے اسمبلی میں ہونے کے باوجود الٹا علاقے کا بیڑا غرق ہوگیا۔ کیا ہم نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم نے ایک ایسے نمائندے کو منتخب کیا تھا، جو پانچ دس سال تک سو کر بیٹھا رہا، ایوان میں عوام کے مسائل پر ایک مرتبہ بھی لب کشائی نہیں کی۔ جس نے اپنے خاندان کے چند لوگوں کو ٹھیکیدار بنا کر کروڑ پتی تو بنا دیا، لیکن باہر ایک پرائمری سکول کی حالت تبدیل نہیں ہوئی۔

کیا انہی الیکٹیبلز کو آپ نہیں دیکھ رہے کہ جو ہر دور کے حاکم کے مدح خواں رہے ہیں۔ کسی بھی دور کے حاکم میں انہیں کوئی خامی نظر نہیں آتی اور جو ہر دور کے حاکم کے خوشامدی اور مدح خواں ہیں، وہ ہر صورت میں مفاد پرست ہیں۔ ایک بندہ عوام کیلئے اپنی پوری زندگی سڑکوں، چوک چوراہوں، حاکموں کے ایوانوں کے باہر دھرنوں اور پھر جیل سلاخوں میں گزار دیتا ہے، لیکن آخر میں ٹکٹ کا حقدار ایک پروفیشنل ڈاکو کو قرار دیا جاتا ہے تو کیا عوام میں یہ شعور بھی نہیں کہ یہ ٹکٹ بذات خود ایک ڈاکہ زنی ہے؟؟ کیا یہ شعور بھی نہیں کہ ووٹ تو عوام کیلئے اپنی زندگی وقف کرنے والے کو دیا جاتا ہے، نہ کہ ٹکٹ کو؟؟ ہم سوشل میڈیا پر افلاطون بن جاتے ہیں لیکن آخر میں ووٹ ٹکٹ کو دیتے ہیں۔ جب تک ہم "ٹکٹ ہولڈرز سینڈروم" کا شکار بنتے رہیں گے، یہ ٹکٹ والے الیکٹیبلز کا دھندا جاری رہے گا۔۔!!!
خبر کا کوڈ : 889033
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش