0
Wednesday 30 Sep 2020 21:59

یہ اسلام کا مشن ہے یا شیطان کا

یہ اسلام کا مشن ہے یا شیطان کا
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

آیئے ایک دوسرے کے گلے کاٹیں، ایک دوسرے کو گالیاں دیں، ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائیں، ایک دوسرے کی توہین کریں، جب ایسی دعوتیں روشنیوں کے شہر کراچی میں دی جائیں تو پھر بہت کچھ سوچنا چاہیئے۔ کراچی کو ہم اتنا نہیں جانتے جتنا ہمارا دشمن جانتا ہے، ہم زیادہ سے زیادہ اسے شہر قائد کہہ لیتے ہیں، بہت ہمت کریں تو یہی کہیں گے کہ یہ منی پاکستان ہے، لیکن اس منی پاکستان کی ان گنت خوبیوں کا شاید بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا۔ اس کی سمندری تجارت، دیگر تجارتی مراکز اور آثار قدیمہ سے ہونی والی آمدن باقی پورے پاکستان سے زیادہ ہے۔ اسی لئے اسے پاکستان کا تجارتی دارالخلافہ بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا کے بلند ترین فواروں میں سے ایک کراچی جیٹ فونٹین، پاکستان کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ، تمام تجارتی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر، دنیا کے بڑے ائیر پورٹس میں شامل جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ، دنیا کی بڑی بندرگاہوں میں سے دو بڑی بندرگاہیں، دنیا کی ایک گنبد والی سب سے بڑی مسجد، مسجد طوبیٰ، پاکستان ائیر فورس میوزیم، قومی عجائب گھر، دنیا کے خوبصورت ترین ساحلوں میں سے ایک وسیع و عریض اور حسین و شاد ساحل بھی کراچی میں ہے۔

ہماری دشمن طاقتیں ایران اور عراق کی جنگ کروا کر دونوں کو کئی صدیاں پیچھے دھکیل چکی ہیں، افغانستان اور شام کو کھنڈر بنا دیا گیا ہے اور کتنے ہی عرصے سے کراچی کو ویران کرنے اور اس کا امن پامال کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ابھی  کراچی میں ایک فرقہ وارانہ ریلی کو چند دن نہیں گزرے تھے کہ یہ خبر گرم ہوگئی کہ خلافت راشدہ چوک کو پولیس نے مسمار کر دیا ہے، ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایسے میسج وائرل ہونے لگے کہ سب لوگ وہاں پہنچ جائیں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ عزادار چوک بھی گرایا جائے۔ دوطرفہ زبردست نعرے بازی ہوئی، گالی گلوچ اور فائرنگ وغیرہ تو ہونی ہی تھی، کسی نے یہ نہیں کہا کہ بھائی احتجاج ہونا چاہیئے اور ضرور ہونا چاہیئے، لیکن یہ احتجاج تو سرکاری اداروں میں بیٹھی اُن کالی بھیڑوں کے خلاف ہونا چاہیئے، جن کی یہ کارستانی ہے، نہ کہ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے کسی دوسرے فرقے کے عام لوگوں کے خلاف۔

اس آگ کو مزید بھڑکانے کیلئے سرکاری اہلکار عزادار چوک بھی پہنچ گئے۔ مقصد صرف دوسرے فرقے کو بھی مشتعل کرنا تھا۔ پس پردہ طاقتوں نے یہ کھیل کھیلا اور بیٹھے بٹھائے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔ یہاں پر چند کردار ہماری توجہ چاہتے ہیں، ان کرداروں کو سمجھنا ضروری ہے، پہلا وہ کردار ہے جس نے اس ڈرامے کی سٹوری لکھی، جس کی پلاننگ کے مطابق یہ نفرت اور تعصب کا کھیل کھیلا گیا۔ دوسرا کردار اُن باوردی اہلکاروں پر مشتمل ہے جنہیں سانحہ ساہیوال کی طرح  ہمیشہ بدنام کرنے کیلئے آگے کر دیا جاتا ہے، وہ اہلکار یہاں بھی آگے بڑھے، انہوں نے بیٹھے بٹھائے، خواہ مخواہ خلافت راشدہ چوک گرا دیا اور پھر مزید حالات خراب کرنے  کیلئے عزادار چوک پہنچ گئے۔ تیسرا کردار وہ ہے، جس نے اس شیطانی منصوبے کو کامیاب کروایا، عوام کو بیوقوف بنایا، اس مکار ترین گروہ نے لوگوں کو خلافت راشدہ چوک گرانے والے اصلی شیطانوں کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے، احتجاج کا رُخ ایک دوسرے فرقے کے خلاف موڑ دیا۔ چنانچہ باقاعدہ منصوبے کے تحت خلافت راشدہ  چوک کو گرایا گیا اور پھر بیچارے عوام کو بھڑکایا گیا۔

اب جہاں پر انسانی جانوں اور جذبات سے کھیلنا، لوگوں کو مشتعل کرکے تماشا دیکھنا اور بیرونی استعماری آقاوں کے ایجنڈے کی تکمیل کو جرم ہی نہ سمجھا جاتا ہو، وہاں عام آدمی کو اتنے جلدی مشتعل نہیں ہونا چاہیئے، یعنی کبھی بھی مخالفت اور مذہبی جذبات میں اندھا نہیں ہونا چاہیئے۔ جب بھی کسی کی حق تلفی ہو یا  اُس کے جذبات کو ٹھیس پہنچے تو اسے حق ہے کہ احتجاج کرے، لیکن وہ اتنا تو سوچے کہ مجھے کس کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ وہ لوگ کو مذہبی معاملات میں فوراً مشتعل ہو جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر ہی کوئی پوسٹ دیکھ کر مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں، کسی کی ایک آڈیو یا ویڈیو کے بعد سروں پر کفن باندھ کر میدان میں آجاتے ہیں، اُن سے ہماری یہ دست بستہ عرض ہے کہ وہ اتنا تو سوچیں کہ ہمسائے کو ہمسائے اور بھائی کو بھائی سے لڑوانا، یہ اسلام کا مشن ہے یا شیطان کا۔
خبر کا کوڈ : 889450
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش