0
Thursday 15 Oct 2020 20:50

کراچی میں عالم دین کا قتل، فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش

کراچی میں عالم دین کا قتل، فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش
رپورٹ: ایم رضا

ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے مختلف حلقے جن خدشات کا اظہار کر رہے تھے، اس کی حقیقت کراچی میں اس وقت سامنے آئی ہے جب مسلح ملزمان نے شاہ فیصل کالونی کے علاقے میں معروف عالم، جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان کو ان کے ڈرائیور کے ساتھ فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ واقعے کی اطلاع شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، شہریوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ آرمی چیف، وزیراعظم، وزیراعلیٰ سندھ سمیت دیگر اہم شخصیات نے مولانا عادل کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مولانا عادل معروف عالم دین مولانا سلیم اللہ خان کے صاحبزادے تھے۔ وہ طویل عرصے ملائیشیاء میں قیام پذیر تھے۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ وطن واپس آئے اور جامعہ فاروقیہ فیز 2 حب ریور روڈ کے مہتمم کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔ وہ حال ہی میں ملک بھر میں ہونے والے عظمت صحابہ ریلیوں کے روح رواں بھی تھے۔

کراچی علماء کمیٹی نے حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کو گرفتار کرے، ورنہ علماء، اہل مدارس اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ فوری طور پر اگلے راست اقدام پر مجبور ہوں گے، جس میں ملک گیر پہیہ جام ہڑتال، ملک بھر میں شدید احتجاحی مظاہرے، بھرپور جلسے اور پرامن احتجاجی جلوس شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مرا علی شاہ نے پولیس حکام کو فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات دیئے ہیں۔ ادھر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے مطالبہ کیا ہے کہ شیخ رشید کو مولانا عادل قتل کیس میں شامل تفتیش کیا جائے۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کے بیان کے بعد مولانا عادل پر حملہ ہوا، معلوم کیا جائے کہ ان کے پاس کون سے ذرائع سے معلومات آتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ملک دشمن عناصر پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کا بھی یہی کہنا ہے کہ بھارت پاکستان میں علماء کو نشانہ بناکر افراتفری پیدا کرنا چاہتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کے پاس یہ تمام معلومات موجود تھیں تو اس نے علماء کرام کی سکیورٹی کے حوالے سے خاطر خواہ انتظامات کیوں نہیں کئے؟ مولانا عادل کو جب دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تو ان کے ساتھ ایک بھی محافظ موجود نہیں تھا، حکومت کی اس لاپرواہی کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا ہے، جس کے مستقبل میں خوفناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

پولیس کی جانب سے اس واقعہ کے بعد وہی روایتی اقدامات سامنے آئے اور شہر میں ڈبل سواری پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، بعد ازاں مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد اس نوٹیفکیشن کو واپس لے لیا گیا۔ پولیس کو چاہیئے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان کا پیچھا کرے اور نہ صرف ملزمان کو گرفتار کرے بلکہ واقعہ کے اصل محرکات کو بھی سامنے لائے۔ ادھر حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ علماء کرام کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرے، اگر کوئی دشمن ملک پاکستان میں فسادات کی سازش کر رہا ہے تو اس کو ناکام بنانا ہمارے اداروں کی ذمہ داری ہے، صرف دشمنوں کی نشاندہی کرکے حکومت اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 892065
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش