6
Sunday 18 Oct 2020 22:06

 ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ جوزف بائیڈن امریکی صدر؟

 ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ جوزف بائیڈن امریکی صدر؟
تحریر: محمد سلمان مہدی

یونائٹڈاسٹیٹس آف امریکا میں 3 نومبر 2020ء صدارتی الیکشن کا دن جوں جوں قریب آرہا ہے، وہاں صورتحال بہت زیادہ دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔  18 اکتوبر 2020ء کو برطانوی اخبار ڈی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق 10پول (سروے) کے نتائج کی روشنی میں جوزف بائیڈن کو نصف سے زیادہ امریکی (آبادی) کا حمایت یافتہ صدارتی امیدوار قرار دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ری پبلکن صدر ٹرمپ نے ایسی کیا غلطی کر دی کہ وہ دوسری مرتبہ صدر بننے میں ناکام رہیں گے یا ڈیموکریٹک جوزف بائیڈن نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا ہے، جس کی وجہ سے ان کو امریکی ووٹرز یا الیکٹورل کالج ترجیح دیں گے؟ یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 45ویں شخصیت ہیں جو امریکا کے صدر منتخب ہوئے۔ ان سے قبل 44 افراد عہدہ صدارت پر براجمان ہوچکے تھے۔ اب 45ویں شخصیت ٹرمپ ہی دوبارہ صدارتی الیکشن کا معرکہ جیت پائیں گے یا بائیڈن 46ویں شخصیت ہوں گے، جو امریکی صدر بننے میں کامیاب ہو جائیں گے!؟ اس سوال کا حتمی جواب تو صرف عام امریکی ووٹرز اور الیکٹورل کالج کے اراکین کی اکثریت کی رائے کی بنیاد پر سامنے آئے گا لیکن زمینی حقائق کے مطابق تاحال ٹرمپ کی نسبت بائیڈن کو زیادہ عوامی مقبولیت و حمایت حاصل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جتنی تیزی اور مستعدی سے زایونسٹ لابی کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں ہیں، اس کے مدنظر بائیڈن کی مقبولیت پر ایک عام تجزیہ نگار اور مبصر کا حیران و پریشان ہونا قابل فہم ہے۔ بظاہر طاقتور زایونسٹ یا جیوش لابی کو ٹرمپ سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیئے۔ لیکن حیرت انگیز سچ یہ ہے کہ بعض اہم اور نامور ری پبلکن رہنماؤں، چند سابق وزراء، حتیٰ کہ صدر ٹرمپ کی ٹیم کا حصہ رہنے والے یا ماضی میں ان کی حمایت کرنے والی بعض شخصیات نے بھی جو بائیڈن کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بڑے کاروباری اداروں سے وابستہ بڑی کاروبای شخصیات میں سے بھی بعض نے بائیڈن کی مہم کی حمایت کی ہے۔ یہ اہم شخصیات اتنا بڑا سیاسی جوا کیوں کھیل رہی ہیں!؟ ارب پتی سیٹھ بھی بائیڈن کی حمایت کر رہے ہیں۔ مارچ کے مہینے سے ہی انہوں نے بائیڈن پر سرمایہ کاری شروع کر دی تھی، حالانکہ انہوں نے مہم کا آغاز اپریل کے آخری دنوں میں کیا تھا۔ ایک سو ایک ارب پتی امریکی سیٹھوں اور ان کی بیگمات اب تک اڑھائی کروڑ ڈالر سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے لیے فنڈ دے چکے ہیں۔ بائیڈن کی مہم کے لیے چندہ دینے والوں میں 134 ارب پتی امریکی سیٹھ اور ان کی بیگمات ہیں، جنہوں نے ایک کروڑ چونتیس لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی ہے۔ بظاہر یہ رقم ٹرمپ کی مہم کے لیے جمع ہونے والی رقم سے کم ہے، لیکن جوبائیڈن کی حمایت کرنے والی سپر پولیٹیکل ایکشن کمیٹیوں کو ایک کروڑ نوے لاکھ ڈالر براہ راست چندہ بھی جمع ہوا ہے۔ یعنی یہ صدارتی انتخابی معرکہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوچکا ہے۔

چونکہ ٹرمپ خود ایک بڑے امریکی ساہوکار ہیں، اس لیے امریکی معیشت کے حوالے سے بڑے فیصلے کرتے رہے ہیں۔ اس شعبے میں انہیں بائیڈن پر فوقیت حاصل ہوا کرتی تھی۔ ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم میں معیشت کا کارڈ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب جو بائیڈن نے خراب معاشی صورتحال کا ذمے دار بھی ٹرمپ کی ناقص اقتصادی پالیسی کو قرار دے کر اسے بہت بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر کورونا وائرس کے بعد امریکی اقتصادی صورتحال بھی بحران کا شکار ہے۔ چھ اکتوبر کو سی این این سروے پول نتائج نے اقتصادی شعبے میں بھی امریکی عوام کا اعتماد بائیڈن کے حق میں ظاہر کیا۔ سوال کیا گیا کہ کون امریکی اقتصاد کو بہتر انداز میں چلا سکتا ہے، اس کے جواب میں 48 فیصد نے ٹرمپ اور 51 فیصد نے جوبائیڈن کا نام لیا۔ اسی طرح خواتین ووٹرز میں جو رجحان پایا جاتا ہے، وہاں بھی جوبائیڈن کی حمایت ٹرمپ کی نسبت 14 فیصد زیادہ ہے۔ بائیڈن خود سفید فام کیتھولک کرسچن ہیں۔ جولائی اگست میں پیو پولز کے مطابق ٹرمپ کو سفید فام کیتھولک ووٹرز میں 59 فیصد حمایت حاصل تھی لیکن پانچ اکتوبر کو ختم ہونے والے سروے کے مطابق اس حمایت میں 8 فیصد کمی واقع ہوچکی ہے۔ البتہ اس تبدیلی کے بعد تناسب کے لحاظ سے بائیڈن کی حمایت 40 فیصد سے 43 فیصد ہوئی ہے یعنی محض 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مذہبی ووٹرز میں سیاہ فام پروٹسٹنٹ، یہودی اور ہسپانوی زبان امریکی کیتھولک ووٹرز میں بائیڈن کو حاصل حمایت کا تناسب ٹرمپ کی نسبت بدرجہا زیادہ ہے۔

انتخابات کی سیاست میں اعداد و شمار کی روشنی میں بھی فیصلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ہر دن زمینی حقیقت میں تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ ٹرمپ کے ان حامیوں کی تعداد کہ جو اپنے فیصلے میں اٹل ہیں، ان کی تعداد بائیڈن کے ایسے اٹل ووٹرز کی نسبت زیادہ ہے۔ یعنی بائیڈن کی حمایت کرنے والوں میں متزلزل ووٹرز کا تناسب ٹرمپ کی نسبت تھوڑا زیادہ ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ امریکی سیاسی اسٹیبشلمنٹ میں جوزف بائیڈن ایک بہت قد آور شخصیت ہیں۔ وہ صدر باراک اوبامہ کے ساتھ امریکا کے نائب صدر کے عہدے پر آٹھ سال برقرار رہ چکے ہیں۔ سینیٹ کے رکن کی حیثیت سے بھی مختلف کمیٹیوں کی سربراہی کرچکے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کارپوریٹوکریسی اور زایونسٹ لابی کو جو کام ڈونلڈ ٹرمپ جیسے چرب زبان اور غیر سنجیدہ ساہوکار سے لینے ہیں، وہ زیادہ بہتر انداز میں جو بائیڈن سے بھی لیے جاسکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر تو کوئی ایسی غلطی نہیں کی کہ جس کا ملبہ کارپوریٹوکریسی یا زایونسٹ جیوش لابی ان پر ڈال کر انہیں قربانی کا بکرا بنانے پر مجبور ہو۔ اسرائیل کے مفاد میں جتنا تیزی اور مستعدی سے ٹرمپ حکومت نے زایونسٹ لابی کے لیے خدمات انجام دیں ہیں، اس کی نظیر امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں ملنا ممکن نہیں ہے۔ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ہے، جس نے متحدہ عرب امارات اور بحرین سے بھی اسرائیل کو منوا کر دکھایا ہے۔ جس نے مقبوضہ یروشلم بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت رسمی طور پر قبول کر لیا ہے اور اب سعودی عرب کو ڈکٹیشن دے رہا ہے کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا رسمی اعلان کرنے میں دیر نہ کرے۔

کیا سعودی بادشاہت امریکی الیکشن سے محض چند روز قبل اسرائیل کو تسلیم کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوبارہ امریکی صدر بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی یا الیکشن کے نتائج کے بعد اعلان کرے گی۔؟ کیا سعودی شاہ و شیوخ یہ ”اعزاز“  اگلے امریکی صدر کو دینا چاہتے ہیں جو کہ جوزف بائیڈن بھی ہوسکتے ہیں!؟ آخری اطلاعات تک سعودی ولی عہد سلطنت یہ معاملہ پس پردہ زایونسٹ لابی کے ساتھ طے کر رہے ہیں اور پچھلے دنوں تک خبر یہ تھی کہ صدارتی الیکشن کے بعد تک کا وقت ایم بی ایس نے مانگا تھا۔ یہ ایک فیکٹر اپنی جگہ لیکن یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب ہے کہ ٹرمپ حکومت نے ایسی کیا خطا کی ہے کہ اس کی جگہ بائیڈن کو لایا جائے۔ جوزف بائیڈن کے حق میں اتنی کامیاب لابنگ اور خاص طو پر ایسی کامیاب میڈیا مہم کیوں کر چلائی جا رہی ہے۔ اتنی کامیاب مہم کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پورے مین اسٹریم امریکی میڈیا کو لیم اسٹریم فیک نیوز میڈیا کہہ کر اس کی ساکھ اور صحت پر بہت بڑا الزام اور سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ 18 اکتوبر کو ان کے ٹویٹس میں جوزف بائیڈن کو بدعنوان سیاستدان قرار دیا گیا اور ناقد میڈیا پر تنقید بھی کی گئی۔ البتہ زایونسٹ نیویارک پوسٹ کی ٹرمپ نے تعریف کی، بلکہ اس پر فخر کا اظہار بھی کیا، کیونکہ اس اخبار نے بائیڈن اور ان کے حامیوں کے خلاف ٹرمپ کی حمایت پر مبنی خبریں شائع کیں۔

امریکی صدارتی الیکشن کے نتائج سے جو حقیقت دنیا کے سامنے منکشف ہوگی، وہ ان دو میں سے ایک ہی ہوگی۔ اگر جوزف بائیڈن جیت جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا خوفزدہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں بظاہر عالمی سیاسی منظر نامے میں امریکا نے کھل کر من مانیاں کیں۔ دیگر ممالک کے معاملات میں کھل کر اعلانیہ غیر قانونی مداخلت بھی کی۔ حتیٰ کہ ایران کے حاضر سروس فوجی جرنیل حاج قاسم سلیمانی اور عراق کی نیم فوجی رضاکار حشد الشعبی کے کمانڈر مھدی ابو مھندس کو دیگر ساتھیوں کے ساتھ عراق میں غیر قانونی حملے میں شہید بھی کر دیا۔ یعنی زایونسٹ مفادات کے تحفظ میں جتنا آگے امریکا ڈونلڈ کی صدارت کے دور میں گیا ہے، اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ دیگر بھی ایسے ایشوز ہیں، جن پر امریکا کے روایتی اتحادی بھی امریکا سے دور نظر آئے۔ بین الاقوامی سطح پر امریکا محض مسلمان اور عرب دنیا کی حد تک منفور نہیں ہوا بلکہ عالمی سطح پر آئسولیشن کا شکار ہوا۔ چین کے ساتھ کشیدگی نئی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ روس کو ناراض کرنے کی حدیں بھی پھلانگیں جا چکیں۔ اس لیے ممکن ہے کہ اب امریکا دنیا کے ردعمل سے خوفزدہ ہوکر بائیڈن کو لائے کہ جو بد اچھا بدنام برا کے مصداق اسی ایجنڈا پر چرب زبانی کے بغیر کام انجام دے اور اگر ٹرمپ جیت جاتے ہیں تو اس کا مطلب امریکی اسٹیبلشمنٹ اور زایونسٹ لابی پوری دنیا سے بے خوف ہو کر علی الاعلان سامراجی ایجنڈا پر عمل کرنا چاہتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 892762
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش