1
Monday 19 Oct 2020 10:27

نواز شریف کو پھانسی ہو جائے گی؟؟

نواز شریف کو پھانسی ہو جائے گی؟؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

پاکستان کے جس بھی سیاستدان نے پاکستان کی بات کی، پاکستان کی ترقی کی بات کی، پاکستان کو آگے بڑھانے کا بِیڑا اُٹھایا، اسے پاکستان کے دوست نما دشمنوں نے اُن (دشمنوں) کے بقول "نشانِ عبرت" بنا دیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی مثال دی جا سکتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی امریکہ سے دشمنی پاکستان اور پاکستان کے عوام کیلئے تھی۔ وہ شائد اس بات کا احساس کرچکے تھے کہ امریکہ کی دوستی پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرناک ہے۔ امریکہ کی پاکستان میں مداخلت حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی، صورتحال یہ تھی کہ بقول جنرل حمید گل پاکستان میں آرمی چیف تک کی تقرری امریکہ کرتا ہے۔ اس خیال کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے بھی ایک بار امریکیوں کو یقین دہانی کروا دی تھی کہ اِنہیں (مولانا فضل الرحمان کو) وزیراعظم پاکستان بنوا دیں، آپ کے ہر حکم کی تعمیل ہوگی۔

ذوالفقار علی بھٹو جب وزیرِ خارجہ تھے، تو پہلی بار اُنہیں احساس ہوا کہ پاکستان کے معاملات تو محکمہ خارجہ نہیں بلکہ "خارجی عناصر" چلا رہے ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار اُنہوں نے اپنے اس دو سالہ دورِ وزارت میں محکمہ خارجہ کو آزاد و خود مختار بنایا۔ جس کا غصہ بہرحال "خارجی عناصر" کو تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جوانی میں ہی اپنی سیاست کا آغاز کر دیا تھا، لیکن 1957ء میں جب وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے کم عمر رکن بنے، تو زیادہ مشہور ہوگئے، پھر انہیں وفاقی کابینہ میں لے لیا گیا اور وزارتِ پٹرولیم کا قلمدان انہیں سونپا گیا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کو کُھل کر کھیلنے کا موقع اس وقت ملا، جب انہیں وزیر خارجہ بنایا گیا۔ وہ پاکستان کی ترقی اور استحکام جمہوریت میں ہی دیکھتے تھے۔ 30 نومبر 1967ء میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ دی اور "طاقت کا سرچشمہ، عوام" کا نعرہ لگایا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے دسمبر 1971ء میں اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنی تقریر کے اختتام پر دستاویز پھاڑتے ہوئے کہا کہ میرے ملک کو میری ضرورت ہے اور مجھے اپنا وقت سلامتی کونسل میں ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔  وہ جان چکے تھے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل محض ایک ڈرامہ اور مغربی ممالک کے حقوق کی محافظ ہے، یہ ادارہ مسلمانوں کو حقوق نہیں دلا سکتا، اگر سلامتی کونسل اتنی ہی موثر ہوتی تو کشمیر کو اپنی قراردادوں کے مطابق کب کا حل کروا چکی ہوتی، مگر نہیں، کیونکہ یہ مسلمانوں کا معاملہ ہے اور سلامتی کونسل غیر مسلموں کے حقوق کی محافظ دکھائی دیتی ہے۔ اقوام متحدہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی یہ "حرکت" نام نہاد سپر پاور کو بہت زیادہ ناگوار گزری۔ تب سے ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر ریڈلائن لگا دی گئی تھی۔

ایک بار امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے ذوالفقار علی بھٹو کے دورہ امریکہ پر ملاقات کے دوران کہا کہ آپ امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں کھڑے ہیں۔ تو بھٹو نے دلچسپ انداز میں جواب دیا کہ بدقسمتی سے آپ کے وائٹ ہاؤس کا فرش میرے پیروں کے نیچے ہے، اس بات کو لیکر امریکی صدر نے انتہائی سنجیدہ انداز میں کہا کہ آپ کی ذہانت نے مجھے متاثر کیا، اگر آپ امریکہ میں ہوتے تو یقیناً ہماری کابینہ میں ہوتے، تو بھٹو نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ اگر میں امریکہ میں ہوتا تو میں آپ کی جگہ (امریکی صدر) ہوتا، جس پر امریکی صدر کینیڈی حیرت انگیز سوچ میں مبتلا ہوگئے۔ اس کے بعد فیصلہ کر لیا گیا کہ اس بندے کو اگر مزید زندہ رہنے دیا گیا تو یہ امریکہ کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور پھر امریکہ نے ضیاء الحق کی خدمات حاصل کیں اور بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد اُسی امریکہ نے اپنے "دوست" جنرل ضیاء الحق کے ساتھ کیا سلوک کیا، وہ بھی تاریخ میں موجود ہے۔

میاں نواز شریف نے جب بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے کئے تو امریکہ کی جانب سے بہت سی پیشکشیں کی گئیں، بل کلنٹن نے خود ٹیلی فون کیا۔ مراعات کا لالچ دیا، مگر نواز شریف نے امریکہ کی ہر پیشکش کو ٹُھکرا دیا۔ انہوں نے نہ صرف ہر امریکی پیشکش کو ٹھکرایا بلکہ اس کا بار بار تذکرہ بھی کیا کہ انہوں نے امریکہ کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے۔ یہ نواز شریف کا ایک بڑا "جرم" تھا۔ ظاہر ہے نواز شریف امریکہ کے دوست تھے۔ امریکہ کو توقع نہیں تھی کہ وہ انکار کر دیں گے۔ بس پھر بھٹو اور ضیاءالحق کی طرح نواز شریف کی تقدیر کا سیاہ فیصلہ بھی وائٹ ہاوس میں بیٹھنے والوں نے سیاہ قلم سے لکھ دیا۔ آج اسی فیصلے پر عملدرآمد کا وقت آتا دکھائی دے رہا ہے۔ آج امریکہ ہی نواز شریف سے بذریعہ سعودی عرب رابطے میں ہے۔ لندن میں ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں ہونیوالے جلسوں کے حوالے سے فنڈنگ بھی لگتا ہے کہ اُدھر سے ہی آرہی ہے اور امریکہ ایک بار پھر ایک پاکستانی کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کیلئے پاکستانیوں کو ہی استعمال کر رہا ہے۔

عمران خان کی اشتعال انگیز تقریر کہ جس میں انہوں نے کہا کہ "نواز شریف تم واپس آو تمہیں عام جیل میں ڈالوں گا۔" یہ وہ دھمکی ہے جو ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو دی تھی، یہ وہ دھمکی ہے جو پھر ضیاء الحق کو امریکی سفیر نے دی تھی اور آج وہی الفاظ عمران خان کے منہ سے ادا ہو رہے ہیں۔ اس ڈرامے کا سکرپٹ لکھنے والے نے سکرپٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ تبدیلی ہوئی ہے تو بس کردار بدلے ہیں۔ بدلے ہیں تو صرف چہرے بدلے ہیں، امریکہ نے ہمیشہ اپنے دوستوں کیساتھ ایسا ہی کیا ہے۔ کل تک یہی نواز شریف امریکہ کا "بیسٹ فرینڈ" تھا، آج اُسی نواز شریف کو امریکہ ایسے گھیر کر پاکستان لانے کا پلان بنا چکا ہے کہ اسے بھی پھانسی لگوا کر "عبرت کا نشان" بنا دے۔ میں چشمِ تصور سے نواز شریف کو پھانسی کے پھندے پر جُھولتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ ہم کھلی نشانیاں ہونے کے باوجود امریکہ کی اصلیت کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔

ماضی میں ہیلری کلنٹن اعتراف کرچکی ہیں، کہ طالبان امریکہ نے بنوائے تھے۔ آج انہی مجاہدین کو دہشتگرد قرار دیکر پاکستان کو ڈرایا جاتا ہے۔ انہی کو پاکستان کیخلاف بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بہرحال، ہمیں اپنی اور اپنے وطن کی بقاء کیلئے امریکہ کی غلامی سے باہر آنا ہوگا، کیونکہ امریکہ نے ہمیشہ اپنے دوستوں کو نقصان پہنچایا ہے اور اپنے دشمنوں سے خوف کھایا ہے۔ ایران امریکی دشمنی میں سب سے آگے ہے، یہ ایران کا بال بھی بیگا نہیں کرسکا۔ ہم دوستی میں سب سے آگے ہیں، لیکن ہماری ہر اہم شخصیت امریکی عتاب کا ہی نشانہ بنی ہے۔ تو ہمیں ایسی دوستی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ پوری دنیا اپنے مفاد میں سوچتی ہے، واحد پاکستانی حکام ہیں جو امریکی مفاد میں سوچتے اور کرتے ہیں۔ ہم نے اگر اپنی خودی بلند کر لی تو تقدیر بنانے والا بھی ہم سے مشورہ ضرور کرے گا۔ بصورت دیگر ہمارے فیصلے واشنگٹن میں ہوتے رہیں گے، جن میں فائدہ ہمارا نہیں واشنگٹن والوں کا ہی ہوگا۔ ہمیں اپنے ہر بھٹو اور ہر نواز شریف کو بچانا ہوگا۔ آج ہم نے خودی کا راستہ نہ چنا تو ہمارے نواز شریف پھانسیاں چڑھتے رہیں گے۔
خبر کا کوڈ : 892821
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش