1
Monday 19 Oct 2020 16:55

قیدیوں کا تبادلہ، یمن کی ایک اور بڑی کامیابی

قیدیوں کا تبادلہ، یمن کی ایک اور بڑی کامیابی
تحریر: علی الذھب
 
یمن کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں عرب فوجی اتحاد کی جارحیت چھٹے برس میں داخل ہو چکی ہے۔ اب تک نہ صرف سعودی اتحاد اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر پایا بلکہ اپنے دفاع میں مصروف یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس انصاراللہ کو کئی بڑی کامیابیاں حاصل ہو چکی ہیں۔ حال ہی میں یمنی فورسز کو ایک اور بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور سعودی اتحاد نے یمن فوج اور انصاراللہ یمن کے 671 قیدی رہا کر دیے ہیں۔ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد اور یمن کے درمیان جنیوا میں انجام پایا تھا۔ یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے زیر نگرانی مذاکرات کا نتیجہ ہے۔
 
قیدیوں کا یہ تبادلہ گذشتہ چھ برس میں یمن فوج اور انصاراللہ یمن کو حاصل ہونے والی سیاسی اور فوجی کامیابیوں کا ایک اور زرین ورق ہے۔ اس عرصے میں صنعا نے کئی محاذوں پر سعودی اتحاد کو شدید شکست سے دوچار کیا اور میدان جنگ کا توازن اپنے حق میں پلٹا دیا۔ یمن فوج اور انصاراللہ یمن کی پوزیشن اس قدر مضبوط ہو چکی ہے کہ انہوں نے سعودی اتحاد کو اس معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے مجبور کر ڈالا ہے۔ یہ معاہدہ درحقیقت میدان جنگ میں انہیں حاصل ہونے والی عظیم کامیابیوں کی تکمیل قرار پایا ہے۔ یہ ایک ابتدائی معاہدہ تھا اور اس کے بعد آخری قیدی تک تمام قیدیوں کے تبادلے کیلئے مزید معاہدوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ یمن کے فوجی اور سیاسی رہنماوں نے بھی اپنے تمام قیدیوں کی آزادی پر زور دیا ہے۔
 
جب جنگی قیدیوں کا حامل ہوائی جہاز صنعا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچا تو پورے شہر میں جشن کا سماں تھا۔ یمنی عوام اور حکومتی عہدیداروں نے قیدیوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کیلئے سرخ قالین بچھائے گئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن کی اس عظیم کامیابی میں جنگی قیدیوں کے صبر اور استقامت کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ عوام کی جانب سے اس عظیم استقبال نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے قیدیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں اپنا قومی ہیرو جانتے ہیں۔ قیدیوں کے تبادلے پر مبنی حالیہ معاہدہ مستقبل میں ممکنہ جنگ بندی اور امن معاہدے میں سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے۔ دوسری طرف جنگی قیدیوں کا تبادلہ یمنی فورسز کے حوصلے بلند ہونے کا بھی باعث بنا ہے۔
 
دوسری طرف جنگی قیدیوں کے کامیاب تبادلے نے یمنی قوم کے اندر جنگ کے ممکنہ خاتمے اور قیام امن کی امید زندہ کر دی ہے۔ مزید برآں، گذشتہ دو برس سے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے تمام تر رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود ان مذاکرات کا نتیجہ خیز ثابت ہونے سے یمنی رہنماوں کی سفارتی اور مذاکراتی صلاحیتوں کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اس سے پہلے سعودی جارح اتحاد نے ایک بار 2015ء اور دوسری بار 2018ء میں جنگی قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات معطل کر دیے تھے۔ ان مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ یمنی رہنماوں کے مقابلے میں بہت زیادہ فریقوں کی شرکت تھی جن میں سے ہر فریق ایک بیرونی طاقت سے وابستہ تھا۔ مختلف طاقتوں سے وابستگی کے باعث ان کے درمیان مفادات کا شدید اختلاف پایا جاتا تھا۔
 
یمن میں جنگی قیدیوں کی قومی کمیٹی نے بھی اس معاہدے کے بارے میں اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ ملک کے اہم ترین سیاسی ایشوز میں سے ایک ہے۔ یہ تبادلہ یمن کے خلاف تھونپی گئی جنگ میں بہت بڑی تبدیلی ہے۔ اس معاہدے میں اصل فتح جنگی قیدیوں اور ان کے اہلخانہ کو حاصل ہوئی ہے۔ یمن میں جو کچھ عوام پر بیت رہا ہے اس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے۔ ان مشکلات میں سے ایک جنگی قیدیوں کی مشکلات ہیں۔ صنعا تمام جنگی قیدیوں کی آزادی تک اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ یمن کے سیاسی ماہرین اور تجزیہ کار جنگی قیدیوں کے حالیہ تبادلے کو انتہائی اہم واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کی نظر میں سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ جنگ کا تسلسل اس کے فائدے میں نہیں ہے۔
 
گذشتہ چھ برس سے جاری جنگ نے انصاراللہ یمن تحریک کو ایک چھوٹی سطح کی سیاسی تحریک سے اٹھا کر ایک نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایسا نظام جس نے شدید محاصرے اور سخت پابندیوں کے باوجود ایک نئی فوج اور حکومت تشکیل دی اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر عظیم سیاسی اور فوجی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ انصاراللہ یمن کے تشکیل کردہ اس نظام نے قبائلی علاقوں میں بھی بڑی سطح پر عوامی کامیابیاں حاصل کیں جبکہ سعودی عرب نے ان قبائلی علاقوں سے اپنے شیطانی اہداف کے حصول کیلئے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ بعض علاقائی اور عالمی فریق سعودی عرب کو یمن کی دلدل میں مزید پھنسانا چاہتے ہیں اور یوں اسے ختم کرنے کے درپے ہیں۔ حتی خلیج تعاون کونسل کے بعض رکن ممالک یمن جنگ میں سعودی عرب کی ممکنہ فتح سے شدید پریشان ہیں اور ہر گز نہیں چاہتے اسے کسی قسم کی کامیابی حاصل ہو۔
خبر کا کوڈ : 892894
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش