0
Friday 23 Oct 2020 08:59

تیسری آنکھ اور عالمی جال

تیسری آنکھ اور عالمی جال
تحریر: عظمت علی
rascov205@gmail.com

آج کل ہم پوری دنیا سے جڑ کر بہت خوش ہیں۔ ہر انسان کے ہاتھ میں چھوٹا سا آلہ مواصلات ہے، جس سے وہ ہر لمحہ، دنیا کو اپنی نگاہوں میں بسائے رہتا ہے۔ کہیں ذرا کچھ کم و زیادتی ہوئی، اسے علم ہو جاتا ہے۔ یہ کتنا اچھا نظام ہے کہ ہم ہر لمحہ اپنے عزیزوں سے رابطہ میں ہیں مگر یہ حقیقت بھی بڑی تلخ ہے کہ اس نظام رابطہ سے ہم دور والوں سے نزدیک تو ہوگئے ہیں مگر نزدیک والوں سے بہت دور بھی جاچکے ہیں۔ جب اس موبائل نے ترقی کی تو انٹرنیٹ کو بھی اپنے ہمراہ لے لیا۔ انٹرنیٹ آتے ہی پوری دنیا بدل گئی۔ صدی کی سب سے بڑی ایجاد ،انٹرنیٹ۔ لوگ اس سے استفادہ کرنے لگے، جب لوگوں کا اس پر اعتماد بڑھ گیا تو اپنا سب کچھ اسی کے حوالہ کرنا شروع کر دیا اور یقین کر بیٹھے کہ اب ہمارے کندھے سے ذمہ داری کا بوجھ ہلکا ہوگیا۔

جی ہاں! اس سے بڑے بڑے کام آسان اور تیز رفتاری سے انجام پاتے ہیں، مگر اب یہی ہمارے لیے وبال جان بھی بنا جا رہا ہے۔ ہم اس کے جال میں پھنسے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ویب سائٹ کو کھولنے کے لیے ہم (www) کا استعمال کرتے ہیں، جس کا فول فارم (Worldwide Web) ہے۔ اس کا مطلب "عالمی جال" ہوتا ہے۔ ہم نے اسے جانا مگر پہچانا نہیں۔ اب جان کر بھی انجان بننے کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں، کیونکہ اب تو ہم اس کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ نکلنا چاہیں تو بھی نہیں نکل سکتے۔ اب اس کا وجود ہماری کمزوری ثابت ہو رہا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو ہماری زندگی سونی سونی ہو جاتی ہے۔ لطف حیات کِرکِرا ہو جاتا ہے۔ انسان کی کمزوری ہو جانا دراصل اسے غلامی کی طرف کھینچ لے جانا ہے۔

اب آپ ملاحظہ فرمائیں کہ ہم کہاں تک پھنس چکے ہیں۔ ہمارے سارے کاغذات انٹرنیٹ کے حوالہ ہیں۔ یہ ہم سے ایسا کروا گیا ہے۔ ہم نے اپنی دولت، بینک کے حوالے کر دی۔ اب جب بینک جاؤ تو وہاں کا ایک ہی شکوہ، سرور (Server) نہیں ہے۔ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ مطلب دونوں لاچار۔ نہ تو بینک والا کچھ کرسکتا ہے اور نہ ہی ہم۔ ہماری ساری باتیں تو انٹرنیٹ پر ہیں، مگر کیا ہم کو یہ معلوم ہے کہ ہم روزانہ جانے انجانے میں اپنی ذاتی معلومات ایسے ایجنٹ کو دیتے رہتے ہیں، جو ہمیں زندگی سے لاچار کرتے رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ بڑی پلاننگ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ہماری تمام تر معلومات ایک جگہ محفوظ ہیں۔ بس ایک کلک پر پوری زندگی کھل کر سامنے آسکتی ہے۔

ہیکرز کیا کرتے ہیں۔؟ ہماری ذاتی معلومات کو ہیک کرتے ہیں اور پھر یوں ہمیں کنگال بنا دیتے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کی باتیں صرف آپ کو اور دوسری جانب والے کو معلوم ہیں۔۔۔۔؟ اس گمان میں بھی مت رہیئے۔ ہر جگہ ایک تیسری آنکھ کارفرما ہے۔ ہم جو کچھ بھی انٹرنیٹ پر سرچ کرتے اور استعمال میں لاتے ہیں، تیسری آنکھ والے کو سب کچھ معلوم ہے بلکہ ہم تو بھول بھی جاتے ہیں، مگر وہ کبھی نہیں بھولتا۔ اس لیے ایسی جگہوں پر پھونک پھونک کر قدم رکھیئے۔ ابھی یہ تیسری آنکھ اپنے ایجنڈے پر مکمل طور پر نہیں اتری ہے، مگر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انٹرنیٹ کا جال "عالمی ایجنڈا" کا ایک اہم حصہ ہے۔ عالمی ایجنڈا یعنی دنیا سے تمام حکومتوں کا خاتمہ اور صرف ایک نظام کا نفاذ؛ دجال کا نظام۔ یہ لوگ "ایک عالمی حکومت" کے قیام کے درپے ہیں، جسے "نیو ورلڈ آرڈر" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ دجال کی آمد کا زمینہ ہے جسے انہیں بہرحال نافذ العمل بنانا ہے۔

ایجنڈا۔21 اور ایجنڈا۔2030 اسی کی ایک شاخ ہیں، جس کی رو سے تیسری آنکھ ہمیشہ ہمیں اور آپ کو اپنی جال میں پھنسا رہی ہے۔ ان کی تابعداری کرنا ہماری مجبوری بن جائے گی۔ آپ ان کی مخالفت کرنا چاہیں گے تو بھی نہیں کر پائیں گے۔ آپ کی ساری معلومات ان کے پاس ہیں۔ جیسے ہی آپ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، سب بند اور آپ زندہ ہوتے ہوئے مردہ ہو جائیں گے۔ یہ نہایت آسان اور سادہ طریقہ ہے پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کا۔ ابھی آج ہی اگر وہ چاہیں تو کائنات کے تسلسل کو روک سکتے ہیں۔ بس نیٹ ورک بند ہوا اور دنیا بند۔ بالکل اسی طرح جیسے کورونا میں پوری دنیا بند ہوگئی تھی۔ اس لیے ہر کس و ناکس کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنے سے پرہیز کریں اور خاص طور پر کسی چھوٹے فائدے کے طمع میں کچھ بڑا نقصان نہ کر بیٹھیں اور یہ بات تو یقینی ہے کہ دجال آئے گا اور اس کی راہیں ہموار ہوں گی، اس لیے ہر وقت دعا سہارا اور اللہ سے لو لگائے رہیں، کیونکہ شیطان مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکتا۔
خبر کا کوڈ : 893603
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش