0
Saturday 21 Nov 2020 02:44

بھارتی تخریب کاری کو بے نقاب کرنیکا فیصلہ

بھارتی تخریب کاری کو بے نقاب کرنیکا فیصلہ
رپورٹ: سید عدیل زیدی

پاکستان اور بھارت کے تعلقات تقسیم ہند کے بعد سے کشیدہ چلتے آئے ہیں، دونوں ممالک کو انتہائی محدود مواقع پر ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشیاں اور مداخلت کے الزامات کی کہانی بھی کوئی نئی نہیں۔ مسئلہ کشمیر سے لیکر سرحدی تنازعات، خالصتان، بلوچستان اور دہشتگردی کے واقعات نے اسلام آباد اور نئی دہلی کو مسلسل محاذ آرائی کی کفیت سے دوچار کئے رکھا ہے۔ پاکستان نے ماضی میں صرف بلوچستان میں تخریب کاری اور علیحدگی پسند گروہوں کی پشت پناہی کا الزام ہندوستان پر عائد کیا۔ تاہم ہندوستان کی جانب سے رویہ پاکستان کے مقابلہ میں ہمیشہ ہی سے زیادہ جارحانہ رہا ہے۔ کشمیر سمیت بھارت میں پیش آنے والے لگ بھگ ہر افسوسناک واقعہ کو اسلام آباد سے جوڑا گیا۔ یعنی اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان اس الزام تراشی کے معاملہ میں قدرے محتاط رہا تو غلط نہ ہوگا۔ تاہم بھارتی رویہ کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھی اپنے رویہ میں کچھ تبدیلی پیدا کی ہے۔

ذرائع نے ‘‘اسلام ٹائمز’’ کو بتایا ہے کہ پاکستان نے اب فیصلہ کیا ہے کہ یہاں ہونے والی تمام تر بھارتی مداخلت، تخریب کاری اور دہشتگردوں کی معاونت سمیت ہر منفی عمل کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا اور اس کیساتھ ساتھ باقاعدہ شواہد اور ثبوت بھی منظر عام پر لائے جائیں گے۔ پاکستان کی سلامتی کے اداروں نے اس حوالے سے کچھ سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں، جن میں ہندوستان کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے چند ثبوت سامنے لائے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر بھارت میں موجود دہشت گردی کے ان تربیتی مراکز کی ہیں، جہاں خطرناک ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ مختلف جسمانی و ملٹری تربیت دی جاتی ہے۔ ان کیمپس میں بلوچستان کی دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کے ساتھ ایم کیو ایم  کے درجنوں ارکان کو تربیت دی گئی ہے۔ سی پیک کو نقصان پہنچانے کے لیے 700 دہشت گرد تیار کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے سلیپرز سیل اور لوکل آپریٹرز کو بھی تربیت دی گئی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ درجنوں داعش کے دہشت گرد افغانستان میں "را" کے تربیتی مراکز میں تربیت پا رہے ہیں، جنہیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا جا رہا ہے، ملکی سلامتی کے اداروں نے بھارت کے جن دہشتگردی مراکز کا کھوج لگایا ہے، ان میں ایک بڑا مرکز پاکستانی بارڈر کے قریب بھارتی علاقہ جودھ پور راجستھان میں رائے پور میں ہے، یہ ایک بڑی چھاونی/ہیڈ کوارٹر ہے، جس میں قریباً ایک بڑا علاقہ 26.29193, 73.05574 (سیٹیلائٹ میرمنٹ) پر بھارتی آرمی یونٹ XII یعنی کونارک کے زیر استعمال ہے۔ یہاں پر 26.43509، 73.10304 کے علاقے میں ہیلی بیس ہے اور  26.43509، 73.10304 کے علاقے میں بنار سینٹرل آرڈیننس ڈپو ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا بڑا دہشت گردی کا کیمپ چکراٹا ہے۔ اس میں ایس ایف ایف (اسپیشل فرنٹیئر فورس) کا اڈہ ہے، جو تبتیوں کو ٹی آر آر (تبت خود مختار علاقہ) میں جاسوسی اور تخریب کاری کی تربیت دیتا ہے۔

ایس ایف ایف جو بنائی ہی اسی مخصوص مقصد کے لئے تھی اور حال ہی میں چائنہ کی پیپلز لبریشن آرمی نے لداخ خطے میں SFF کے 5 ایجنٹ پکڑے تھے۔ SFF چکراٹا بیس 30.67764، 77.86572 پر واقع ہے۔ بھارت کا تیسرا کیمپ شیو پوری ہے، شیو پوری کو ہندوستان میں بیس کیمپ کی خصوصی حیثیت حاصل ہے، جہاں دہشت گردوں کو پاکستان کے اندر آپریشن کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس میں ہندوستانی نیم فوجی دستوں کے لئے 2 تربیتی اسکول قائم ہیں، جہاں ممکنہ طور پر تربیت ہوتی ہے اور ایک بڑا نامعلوم کمپاؤنڈ ہے۔ علاوہ ازیں انوپ گڑھ میں 29.17252، 73.201 (سیٹلائٹ میرمنٹ) پر واقع بی ایس ایف کا بیس بی ہے۔ یہ پاک انڈیا انٹرنیشنل بارڈر سے 10 میل سے کم دور ہونے کی وجہ سے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس مرکز کو بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

بھارت کا پانچواں اڈا مہاجن میں ہے، یہ انڈیا کا آرمی ملٹری اسٹیشن ہے، جو فیلڈ آرٹلری ڈپووں میں سے ایک ہے اور دہشت گردی کے لیے سپلائر کا کام انجام دیتا ہے، اس کے علاوہ انڈین آرمی کی 159 فیلڈ رجمنٹ، ایچ اے ڈبلیو ایس (ہائی الٹیٹیوٹ وارفیئر اسکول) کا ایک حصہ گلمرگ ہے، جو 34.05996، 74.37457 پر واقعہ ہے۔ ان تمام تر مراکز کو عرصہ دراز سے صرف اور صرف پاکستان کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اب بھارت کی اسلام آباد کیخلاف پس پردہ تمام تر منصوبہ بندی اور کئے جانے والے اقدامات کو ثبوت اور شواہد سمیت منظر عام پر لایا جائے گا اور اس حوالے سے حکومتی سطح پر بعض شخصیات کو باقاعدہ ٹاسک بھی سونپا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو معاملہ کے بعد سے پاکستان کے پاس ہندوستان کی تخریب کاری اور دہشتگردی میں ملوث ہونے کے متعدد ناقابل تردید ثبوت منظر عام پر آچکے ہیں، عین ممکن ہے کہ پاکستان جلد ماضی کے مقابلہ میں زیادہ بہتر اور منظم انداز میں اقوام متحدہ سے رجوع کرے۔
خبر کا کوڈ : 898802
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش