8
Friday 20 Nov 2020 22:26

دنیا کی بڑی طاقتوں کی گریٹ گیم کا نیا مرحلہ

دنیا کی بڑی طاقتوں کی گریٹ گیم کا نیا مرحلہ
تحریر: محمد سلمان مہدی

یوں تو دنیا میں کئی ممالک کا ریجنل اور عالمی کلاؤٹ دیگر کی نسبت بہت زیادہ مستحکم اور موثر ہے، لیکن بنیادی طور پر اقوام متحدہ کی مرکزیت اور بین الاقوامی قانون (انٹرنیشنل لاء) کے تحت بین الاقوامی یا بین الریاستی تعلقات میں بڑی طاقتوں سے مراد اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کے پانچ مستقل اراکین یا ویٹو پاور ممالک ہی ہوتے ہیں۔ یعنی یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا، روس، برطانیہ، فرانس اور چین۔ یہ عالمی نظام دوسری جنگ عظیم کے بعد کا ہے۔ اس سے قبل لیگ آف نیشنز کے نام سے بین الاقوامی ادارہ ہوا کرتا تھا۔ اس میں برطانیہ، فرانس اور امریکا کے علاوہ اٹلی ایک بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا تھا۔ بنیادی طور پر یہ کھیل سترہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا۔ ہوا یوں کہ ویسٹ فیلیا معاہدے کے بعد کا مغرب (یورپ) نئی جغرافیائی حدود میں نئی نیشن اسٹیٹ تشریح کے ساتھ دنیا کے نقشے میں نئے انداز کے ساتھ ابھرا۔ اس کے بعد انقلاب فرانس سے پہلی جنگ عظیم تک کا مرحلہ بھی تحولات کے ساتھ طے ہوا۔ روس کا کمیونسٹ انقلاب اور پہلی جنگ عظیم کے بعد مغربی ایشیاء میں مسلمان ترکوں کی سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ۔

اس سقوط سے جنم لینے والا مسلم دنیا کا یکسر تبدیل شدہ جغرافیائی نقشہ اور اس کا سب سے بڑا بینیفشری سعودی عرب بنا۔ حجاز مقدس پہلے ترک مسلمان خلیفہ کی مرکزی حکومت کے مقرر کردہ انتظامی سیٹ کے تحت تھا، لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد شاہ عبدالعزیز آل سعود نے حجاز مقدس یعنی مکہ و مدینہ پر حملے کرکے اس کو اپنے تسلط میں لے لیا۔ یہ سب کچھ بڑی طاقتوں کی گریٹ گیم(بڑے کھیل) کا نتیجہ تھا۔ البتہ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین گریٹ گیم کی اصطلاح کو اس مسلم اکثریتی خطے یعنی وسطی ایشیاء اور بالخصوص افغانستان پر کنٹرول کے لیے برطانیہ اور روس کے مابین جاری چپقلش تک محدود رکھتے آئے ہیں۔ حالانکہ روس اور برطانیہ ہی نہیں بلکہ فرانس بھی مسلم اکثریتی خطے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرکے یہاں اپنا تسلط قائم کرنے میں مصروف تھا۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہے کہ گریٹ گیم برصغیر پاکستان و ہندستان، ایران، موجودہ عراق، پورے عربستان سے لے کر افریقہ کے مسلم اکثریتی علاقوں تک لڑی جارہی تھی۔

ایک رائے یہ ہے کہ اس گریٹ گیم میں یہودی فیکٹر کا پس پردہ کلیدی کردار رہا اور زایون ازم یا زایونسٹ (صہیونی) تحریک اور تنظیم کے نام سے انہوں نے اپنے سیاسی وجود کا اظہار بہت بعد میں کیا۔ یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ جس خفیہ معاہدے کو بعد ازاں سائیکس پیکو معاہدے کے نام سے پہچانا گیا، یہ بھی محض ان دو سفارتکاروں تک یا برطانیہ و فرانس تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا اور زار حکمرانوں کا روس بھی شامل تھا۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ راز بھی فاش ہو کہ پہلی جنگ عظیم، ترک سلطنت کے سقوط اور آل سعود کے حجاز مقدس پر قبضہ و تسلط پہلے سے طے شدہ خفیہ ڈیل کے نتیجے میں ہوئے۔ قصہ مختصر یہ کہ اسی خفیہ زایونسٹ سازش کے تسلسل میں دوسری جنگ عظیم ہوئی۔ بیلفر اعلامیہ کو بھی اسی خفیہ ڈیل کا ایک حصہ سمجھا جانا چاہیئے۔ اس مادی و فانی دنیا میں یہ ممالک بڑی طاقت کیسے بنے، اس میں روتھس چائلڈ یہودی خاندان کا جو کردار ہے، اس پر منصف مزاج محققین کو چھپے ہوئے حقائق کو مزید بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ روتھس چائلڈ خاندان کے اہم فرد نے چند سال قبل اسرائیل کے قیام میں روتھس چائلڈ خاندان کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا ہے۔

اس پس منظر میں یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بتدریج اور نہر سوئز کی جنگ کے بعد خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں برطانوی سامراج کے جانشین کی حیثیت سے منظم انداز میں باقاعدہ اور علی الاعلان قدم جمائے۔ پہلے دونوں سامراجی طاقتوں نے طے کر رکھا تھا کہ سعودی عرب کے تیل پر امریکا کا کنٹرول ہوگا اور عراق اور ایران کے تیل پر برطانیہ کا کنٹرول ہوگا۔  1950ء کے عشرے میں محمد مصدق کے ایران نے برطانوی کنٹرول ختم کرنے کے لیے تیل کو قومی تحویل میں لیا تو امریکا و برطانیہ نے مشترکہ اجکس آپریشن کرکے منتخب جمہوری حکومت کا خاتمہ کر ڈالا۔ مسلم دنیا میں ڈکٹیٹر شپ یا بادشاہوں کے عنوان سے امریکا نے اپنے مہرے بٹھائے۔ ایران نے اسلامی انقلاب 1979ء میں شاہ ایران یعنی امریکی کٹھ پتلی کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔ انقلاب کے فوری بعد اسلامی انقلابی ایران نے اسرائیل کا سفارتخانہ بند کر دیا اور زایونسٹ نسل پرست جعلی ریاست سے تعلقات ختم کر دیئے۔

تب سے آج تک مذکورہ زایونسٹ امریکی بلاک نے گریٹ گیم کے ہر مرحلے میں ایران کو خاص طور پر ٹارگٹ بنایا، لیکن سرد جنگ تک کسی نہ کسی حد تک کمیونزم کو امریکی بلاک نے حریف کے طور پر مشہور کیا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکی بلاک نے اسلام کو حریف کے طور پر پیش کیا۔ اسامہ بن لادن، القاعدہ، سپاہ صحابہ، تحریک طالبان، جند اللہ، جیش العدل، جماعت الاحرار، داعش وغیرہ وغیرہ، ان سبھی کی بنیاد گریٹ گیم کی سرد جنگ مرحلے میں رکھی گئی تھی۔ یہ انتہاء پسند تکفیری ٹولہ امریکی زایونسٹ سعودی اماراتی بلاک کے بڑے کام آیا۔ اسلام کو دنیا کے سامنے ایک متشدد اور غیر منطقی مذہب کے طور پر پیش کرنے کے لیے امریکی زایونسٹ بلاک نے انہی ٹولوں کو استعمال کیا۔ پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا میں اب انہی تکفیریوں کی باقیات کو از سرنو صف آراء کیا جا رہا ہے۔

اس وقت جو پانچ بڑی طاقتیں ہیں، ان میں امریکا، برطانیہ اور فرانس ایک ہی صف میں ہیں۔ روس اور چین کبھی ان کا ساتھ دیتے ہیں اور کبھی یہ اور بقیہ تین بڑی طاقتیں آپس ہی میں الجھتی رہتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی چار سالہ صدارت کے دور میں یہودی زایونسٹ یا اسرائیل فیکٹر کا کردار کھل کر سامنے آیا۔ امریکا سے بیٹھ کر نسل پرست یہودیوں نے کھل کر نسل پرست یہودی ریاست اسرائیل کے جعلی و غاصب وجود کو قانونی و اخلاقی حیثیت دینے کے لیے بڑے بڑے عملی قدم اٹھائے۔ سوویت یونین کے سقوط کے بعد کا روس پہلے جیسی شان و شوکت نہیں رکھتا۔ البتہ اپنے پڑوس میں روس نے اپنے کنٹرول اور اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یوکرین و کرائمیا  کے ایشو پر روس نے اپنی بالادستی کو ثابت کیا۔ البتہ مشرقی یورپ میں امریکی مغربی بلاک جمہوریت کے ایشو کو بہانہ بنا کر وہاں اپنے مہروں کو اقتدار میں لانے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔

رہ گئی دنیا کی پانچویں بڑی طاقت چین تو اس سارے کھیل میں غیر محسوس انداز میں چین بہت چالاکی سے امریکی اقتصاد پر بتدریج اپنے کنٹرول کو مستحکم کرتا چلا گیا۔ سیاسی محاذ پر چین لو پروفائل میں رہا، لیکن اقتصادی محاذ پر وہ فعال رہا۔ دنیا اب چین کو بڑی اقتصادی طاقت تسلیم کرتی ہے، لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ چین سیاسی منظر نامے میں بھی اپنی حیثیت کو نمایاں کرنے پر تلا ہوا ہے۔ موجودہ چینی صدر نئے سیاسی منظر نامے میں چین کو امریکا کا متبادل یعنی عالمی قائد بنانے کے خواہاں ہیں۔ یہ ہے عالمی سیاسی منظر نامے کی پرانی گریٹ گیم کا وہ نیا مرحلہ جو فیصلہ کن بھی کہا جاسکتا ہے اور اس نئے مرحلے میں زایونسٹ کیپٹلسٹ امریکی ڈیپ اسٹیٹ (یا امریکی اسٹیبلشمنٹ) کو امریکا کے خراب پبلک امیج کی وجہ سے اپنا سب سے زیادہ کارآمد مہرہ ڈونلڈ ٹرمپ قربان کرنا پڑگیا ہے۔ جوزف بائیڈن کو ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے سے پہلے ہی ایسوسی ایٹڈ پریس نے فاتح قرار دے دیا تھا۔  حتیٰ کہ کہیں دو لاکھ تو کہیں پانچ لاکھ ووٹوں کی گنتی کا عمل ابھی رہتا تھا۔

یوں لگا کہ امریکی ڈیپ اسٹیٹ اس قدر خوف کا شکار تھی کہ اس نے میڈیا کے ذریعے نہ صرف بائیڈن کی جیت کی قبل از وقت خبریں بھی چلوا دیں بلکہ اہم ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت نے بائیڈن کو صدر بننے کی مبارکباد بھی دے دی۔ ٹرمپ آج 20 نومبر 2020ء تک الیکشن میں دھاندلی کے الزام کی تکرار کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو وہ ناراض دکھائی دیتے ہیں لیکن زایونسٹ کیپٹلسٹ ڈیپ اسٹیٹ کے ابھی تک وفادار ہیں۔ جاتے جاتے لبنان کی اہم شخصیات پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ بیس نومبر امریکی محکمہ خزانہ نے ایک روسی تعمیراتی کمپنی اور روس میں کام کرنے والی ایک شمالی کوریائی کمپنی پر پابندی لگا دی ہے۔ زایونسٹ امریکی مغربی بلاک کا دعویٰ ہے کہ مولدووا میں ان کی اتحادی خاتون امیدوار صدارتی الیکشن جیت چکیں ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے 13 نومبر سے سات ملکی دورے کا آغاز کیا ہے، جو 23 نومبر کو اختتام پذیر ہوگا۔ اس دورے میں فرانس، ترکی، جارجیا، اسرائیل، متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب شامل ہیں۔ امریکی صدارتی الیکشن کے بعد ٹرمپ حکومت نے چینی حکومت کے مزید چار عہدیداروں پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

امریکی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی سے لگتا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کا لوزر قرار دے چکے ہیں۔ ان کی نظر میں بائیڈن ہی اگلا امریکی صدر ہے۔ بیس جنوری تک ٹرمپ خود کو بظاہر بائیڈن کا شدید مخالف ظاہر کریں، لیکن عملی اقدامات یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اگلے امریکی صدر کی حیثیت کو مستحکم کر رہے ہیں۔ بائیڈن کی ترجیحات میں جو کچھ اعلانیہ شامل ہے، اس میں روس، چین اور ایران پر دباؤ ڈال کر امریکی ڈکٹیشن منوانا سرفہرست ہے۔ ایران ایک ریجنل سپرپاور ہے، عالمی سطح پر ایران کی وہ حیثیت نہیں، جو روس اور چین جیسوں کی ہے، اس لیے گریٹ گیم کے اس فیصلہ کن مرحلے میں روس اور چین کی حکمت عملی دنیا کے مستقبل کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار اداکرے گی۔ روس سوڈان میں بحری اڈہ قائم کرنے کی سمت گامزن ہے۔ سوڈان کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے امریکا اور اسرائیل کی مدد سے ترکی اور قطر کے اثر و رسوخ سے آزاد کروایا ہے۔ امریکی و سعودی و اماراتی دباؤ پر سوڈان بھی اسرائیل کو تسلیم کر رہا ہے۔

یہاں روسی بحری اڈہ کس کس کو قبول ہوگا اور کون اس کی مخالفت کرے گا!؟، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ روس کی سوڈان کی سمندری حدود میں انٹری اور متحدہ عرب امارات کا یونان سے سیاسی و دفاعی معاہدے کرنا، کیا محض حسن اتفاق ہے، جبکہ ترکی اور یونان کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ یونان اور مصر نے پہلے ہی سمندری حدود کے حوالے سے معاہدے کی حتمی توثیق کر دی ہے۔  گو کہ ترکی زایونسٹ امریکی بلاک کے نیٹو اتحاد کا رکن ملک ہے لیکن اس مرتبہ ترکی پر سعودیہ و امارات کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں گریٹ گیم کا یہ نیا مرحلہ بہت زیادہ پیچیدہ نوعیت کا بھی ہے اور مشکل ترین مرحلہ بھی ہے، کیونکہ اس میں امریکی بلاک سارے اتحادیوں کو بیک وقت خوش نہیں رکھ سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی بلاک زایونسٹ کیپٹلسٹ مفادات کے لیے جغرافیائی نقشوں میں تبدیلیوں کے لیے گریٹ گیم کے نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ سال 2006ء میں آرمڈ فورسز جرنل میں سابق امریکی فوجی افسر رالف پیٹر نے مشرق وسطیٰ کا نیا جغرافیائی نقشہ تجویز کیا تھا۔ اس میں آرمینیا اور آذربائیجان میں بھی تبدیلیاں دکھائیں گئیں تھیں۔ وہ نقشہ آج سامنے رکھ کر دیکھ لیں کہ سال 2020ء میں خطے میں آرمینیا اور آذربائیجان کس طرح صف آرا ہوئے!؟

خاص طور پر پاکستان اور ایران دونوں کی قیادتوں کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نقشے کو عملی شکل دینے کے لیے ان دو ملکوں کے اندر کس طرح دشمنوں کے آلہ کاروں نے دہشت گرد حملے کیے۔ گریٹ گیم کے اس نئے مرحلے میں سی پیک کو ختم یا ناکام کرنا بھی امریکی بلاک کا ٹارگٹ ہے۔ اس لیے کاؤنٹر اقدامات کی ضرورت ہے۔ محض افغان امن عمل میں امریکی تعاون کا جھن جھنا وقتاً فوقتاً بجا دینے سے یہ خطرات ٹلنے والے نہیں۔ روس اور چین یہ نہ سمجھیں کہ اس مصنوعی جغرافیائی شکست و ریخت کے نئے مرحلے میں وہ اپنا وجود سالم رکھ پائیں گے۔ اب تک کی امریکی بلاک کی کارستانیاں یہ سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ محض ترتیب یا باری آگے پیچھے ہوسکتی ہے، لیکن بہرحال ایک مرحلے میں امریکی بلاک ان کے سامنے پوری قوت سے کھل کر سامنے آئے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ امریکی بلاک مغربی ایشیاء میں کسی نئی جنگ یا جنگی کارروائی کی تیاری میں مصروف ہو، جیسا کہ امریکی و اسرائیلی میڈیا میں آجکل یہ خبریں گردش کر رہیں ہیں۔ ٹرمپ کے جانے یا بائیڈن کے آنے سے مجموعی طور پر امریکی پالیسی میں کسی جوہری تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 899006
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش