1
Sunday 22 Nov 2020 22:06

حزب اللہ لبنان کے خلاف آل خلیفہ اور آل نہیان کی نئی سازش

حزب اللہ لبنان کے خلاف آل خلیفہ اور آل نہیان کی نئی سازش
تحریر: رامین حسین
 
حال ہی میں غاصب صہیونی رژیم کے ایک اعلی سطحی عہدیدار نے آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں کے تعاون سے اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان کے خلاف ایک سازش فاش کی ہے۔ یہوشوا زرقا کا کہنا ہے کہ بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکمران حزب اللہ لبنان کے خلاف تل ابیب سے تعاون کرنے میں مصروف ہیں۔ یہوشوا زرقا غاصب صہیونی رژیم کی وزارت خارجہ میں شعبہ اسٹریٹجک امور کا سربراہ ہے۔ حزب اللہ لبنان کے خلاف شروع کی گئی حالیہ سازش کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے تمام ممالک کو اس بات پر راضی کرنا ہے کہ وہ حزب اللہ لبنان کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر متعارف کروا دیں۔ یاد رہے گذشتہ چند سالوں میں بعض ممالک نے غاصب صہیونی رژیم، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے دباو پر حزب اللہ لبنان کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔
 
بعض ممالک کی جانب سے حزب اللہ لبنان کو دہشت گرد گروہ قرار دیے جانے کے باوجود آل خلیفہ، آل نہیان اور صہیونی رژیمیں اپنے اصلی اور بنیادی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ وہ اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش میں مصروف تھیں کہ حزب اللہ لبنان کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے لیکن انہیں اس مقصد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ گذشتہ چند سالوں میں اسرائیل، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اس مقصد کے حصول کیلئے سرتوڑ کوششیں انجام دی ہیں لیکن اس کے باوجود اب تک انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ درحقیقت اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور خطے میں اس کی اتحادی حکومتیں اسلامی مزاحمت کے روز بروز بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور پھیلاو سے شدید خوفزدہ ہو چکی ہیں۔
 
جغرافیائی لحاظ سے دیکھا جائے تو گذشتہ ایک عشرے میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کے دائرہ کار میں بہت زیادہ وسعت پیدا ہوئی ہے۔ یہ امر شام اور عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے معرض وجود میں آنے اور اسلامی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے اس کے خلاف بھرپور فوجی مہم انجام پانے کے بعد زیادہ واضح طور پر قابل مشاہدہ ہے۔ لہذا غاصب صہیونی رژیم اور اس کی ہم پیالہ عرب رژیموں نے کچھ عرصے سے عالمی سطح پر حزب اللہ لبنان کے خلاف سیاسی اور سفارتی مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔ ان کی نظر میں فوجی میدان میں اسلامی مزاحمتی بلاک سے عبرتناک شکست کھانے کے بعد سیاسی میدان میں حزب اللہ لبنان کو دہشت گرد تنظیم قرار دلوا کر ایک حد تک اس شکست کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔
 
عالمی سطح پر حزب اللہ لبنان کو دہشت گرد گروہ قرار دلوانے کا ایک اور مقصد اس کے پھیلاو کو بھی روکنا ہے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور اس کی اتحادی عرب حکومتیں خود بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ آج اسلامی مزاحمت اور اسلامی مزاحمتی سوچ ہر وقت سے زیادہ جغرافیائی سرحدیں عبور کر چکی ہے اور اب وہ ایک خاص جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بالا شیطانی مثلث اپنی پوری طاقت اور توانائیوں سے اسلامی مزاحمت کے مقابلے میں آن کھڑی ہوئی ہے۔ بحرینی اور اماراتی حکمران اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ اسلامی دنیا میں مزاحمتی سوچ کی ترویج مستقبل قریب میں امریکہ اور غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ سازباز کی سوچ اور پالیسی کو شدید متزلزل کر ڈالے گی۔
 
دوسری طرف متحدہ عرب امارات، بحرین اور غاصب صہیونی رژیم کی ان کوششوں کو امریکہ کی خارجہ پالیسی سے لاتعلق بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عالمی استکباری قوت ہونے کے ناطے امریکہ اسلامی مزاحمتی بلاک کو اپنا اصلی دشمن سمجھتا ہے اور ہر سطح پر اس کے خلاف سازشیں تیار کرنے میں مصروف ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران امریکی حکام نے حزب اللہ لبنان کے خلاف مختلف قسم کی پابندیاں عائد کی ہیں۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ آل نہیان، آل خلیفہ اور غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے حزب اللہ لبنان کے خلاف حالیہ مہم بھی واشنگٹن کی خارجہ پالیسیوں کا حصہ ہے۔ یہ رژیمیں امریکی حکام کے اشارے پر ہی دنیا کے ممالک کو اس بات پر قانع کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ حزب اللہ لبنان کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈال دیا جائے۔
 
متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش بھی درحقیقت اسلامی مزاحمتی گروہوں سے ان کے خوف کا نتیجہ ہے۔ وہ اسلامی مزاحمت کے روز بروز بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور طاقت کے نتیجے میں اپنا اقتدار خطرے میں پڑتا ہوئی دیکھ رہے ہیں لہذا خود کو طاقتور بنانے کیلئے اسرائیل کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔ لیکن امریکہ، اسرائیل اور خطے میں ان کی اتحادی عرب حکومتوں کی تمام تر کوششوں اور اقدامات کے باوجود آج اسلامی مزاحمتی بلاک شام، لبنان، عراق، یمن اور مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں تک پھیل چکا ہے۔ اسلامی مزاحمتی بلاک کی طاقت اور اثرورسوخ روکنے کیلئے انجام پانے والی کوششیں اب تک کامیاب ثابت نہیں ہو سکیں۔ موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں بھی ان کی کوششیں ناکامی کا شکار ہو جائیں گی۔
خبر کا کوڈ : 899357
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش