8
Monday 23 Nov 2020 04:32

فرقہ و مسلک کے غلاف میں لڑی جانیوالی جنگ کی حقیقت

فرقہ و مسلک کے غلاف میں لڑی جانیوالی جنگ کی حقیقت
تحریر:  محمد سلمان مہدی

اس وقت عالم اسلام میں سب سے زیادہ مضحکہ خیز سیاسی منظر نامہ جس ملک کا ہے، وہ پاکستان ہے۔ یوں تو اس منظر نامے کو مضحکہ خیز بنانے میں پارلیمانی سیاست کرنے والی جماعتوں اور رہنماؤں کا کردار بھی کچھ کم نہیں ہے، لیکن خالص مذہبی سرگرمیوں میں مصروف مولوی حضرات میں سے چند ایک نے مسلکی اختلافات کی بنیاد پر عدم رواداری کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچانے کی پوری کوشش کی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان کے مذہبی مسلمان ان دنوں تقسیم در تقسیم کے گرداب میں پھنسے دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ بہت سے محققین یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مصنوعی اور کنٹرولڈ کھیل ہے۔ ایسے اہل نظر کا موقف ہے کہ ان مولوی حضرات میں سے بعض کو بعض کے خلاف ایک چھتری تلے جمع کرنے کے لیے ”نادیدہ“ قوتوں کی کوششیں چھپائے نہیں چھپتیں۔ اس نئی صف آرائی اور محاذ آرائی کے پس پردہ اصل مقصد و ہدف کیا ہے، یہ ہے وہ ملین ڈالر کا سوال جس کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا یہ پس پردہ کرداروں کی کسی فوری نوعیت کی ضرورت کے تحت ہے یا کوئی قلیل المدت یا طویل المدت ضرورت اس کا سبب ہے؟ بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ پاکستان پر مسلکی کنٹرول یا مخصوص مسلکی بالادستی کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے یا اصل ہدف کچھ اور ہے۔؟ پہلے تو یہ سمجھا جائے کہ اس مخصوص تناظر میں مسلک سے مراد کیا ہے۔ جیسا کہ ایک رائے یہ ہے کہ یہ سب ایک ضرورت کے تحت ہو رہا ہے تو کس کس کو اس مسلکی تناؤ، تصادم، محاذ آرائی کی ضرورت ہے اور کیوں ہے۔؟ بات جب ضرورت تک جا پہنچی ہے تو یہ بھی یاد رہے کہ ضرورت کو ایجاد کی ماں کہا جاتا ہے، کیونکہ ایجاد کی پیدائش ضرورت کے بطن سے ہوا کرتی ہے۔ اسی لیے پاکستان پر تو یہ کہاوت اس لیے بھی زیادہ فٹ بیٹھتی ہے کہ یہاں تو ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے باقاعدہ ”نظریہ ضرورت“  کو قانونی حیثیت دی۔ لیکن برصغیر پاک و ہند میں برطانوی سامراج نے نوآبادیات کے عنوان سے جب سامراجی قبضہ کیا، تب بھی ضرورت بہت سی ایجادات کا باعث بنی تھی اور ان نئی ایجادات میں مسلمانوں میں نئے عنوانات کے تحت ذیلی مسالک وجود میں آئے تھے۔

 اس مخصوص ماحول میں برصغیر میں تین اصطلاحات کے عنوان سے تین مسالک ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوئے۔ بھارت کے دیوبند شہر میں قائم جامعہ دارالعلوم کی وجہ سے ایک مسلک دیوبندی کہلایا۔ رائے بریلی شہر کے فاضل بریلوی احمد رضا خان کی وجہ سے ان کا بریلوی مسلک منصہ شہود پر آیا۔ ایک طبقہ محمد بن عبدالواہاب نجدی کے پیروکار ہونے کی وجہ سے وہابی کہلانے لگا۔ پھر یوں ہوا کہ دیوبندی و بریلوی دونوں ہی خود کو حنفی مقلد کہنے کے باوجود باہم متصادم ہوئے اور دونوں کے خلاف غیر مقلد وہابی میدان میں تھے۔ برصغیر کے مذہبی طبقے کی یہ سہ طرفہ اندرونی جنگ اس طرح شروع ہوئی کہ آج تک جاری ہے۔ البتہ جس دور میں یہ شروع ہوئی، تب اس کا فائدہ برطانوی سامراج ہی کو ہوا تھا۔ یہ سنیوں کے اندر کی لڑائی کی بات ہو رہی ہے، جو سنی شیعہ اختلافات سے ہٹ کر ایک ناقابل تردید حقیقت کے طور پر اپنا ناقابل نظر انداز وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ چونکہ اس نئی صف بندی اور محاذ آرائی میں شدت پیدا کرنے کے پیچھے سعودی عرب کے لاڈلے مولویوں کا نمایاں کردار ہے، اس لیے کہا یہ جارہا ہے کہ بنیادی طور پر یہ ضرورت سعودی عرب کی ہے اور پاکستان میں اس کے ہرکارے سہولت کار بنے ہوئے ہیں، لیکن اس شر میں سے خیر کے چند پہلو بھی نمودار ہوئے۔

ہوا یوں کہ برصغیر میں سارے صوفی سلسلوں کو غلط طور پر بریلوی مسلک کے کھاتے میں ڈالا جاتا تھا، لیکن اب صوفیاء سلسلوں اور بریلوی مسلک کے مابین جو فرق اور فاصلہ ہے، وہ خواص کے سامنے کھل کر سامنے آگیا اور کافی حد تک عوام بھی اس فرق سے آشنا ہوئے، ایسا پہلی مرتبہ ہوا، اس طرح بریلوی مسلک لوزر ٹھہرا۔ ستم ظریفی یہ بھی ہوئی کہ انتہاء پسند دیوبندی اور وہابی بھی منقسم ہوگئے۔ ایک طبقہ احمد رضا خان فاضل بریلوی کو شیعوں کے کھاتے میں ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہوا۔ دوسرا طبقہ انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ البتہ بڑے پیمانے پر دوریاں برقرار ہیں۔ دیوبندی مسلک کے بعض خواص نے اس مرتبہ بریلوی مسلک افراد کو پاکستان مخالفت کے الزام کا جواب بھی دیا کہ خود مصطفیٰ خان بریلوی بھی تو پاکستان کے مخالفین میں سے تھے۔ یاد رہے کہ احمد رضا خان صاحب تو علامہ اقبال کی زندگی ہی میں رحلت فرما گئے تھے اور تحریک پاکستان تا قیام پاکستان کے ماہ و سال میں فاضل بریلوی احمد رضا خان کے بیٹے مصطفیٰ رضا قادری حیات تھے۔

اب مشکل یہ ہے کہ تاریخ کہتی ہے کہ سعودی عرب کا یا ان کے لاڈلے مولویوں کا پاکستان کے قیام میں کوئی مثبت کردار نہیں رہا۔ اس لیے پاکستانی قوم کے پاس سعودی عرب یا اس کے لاڈلے مولویوں کی اس صف بندی کی حمایت کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ مخالفت کے لیے دلیل بہت مضبوط و مستحکم بنیادوں پر استوار ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ مخصوص ٹولے نے ایک بیانیہ پیش کیا۔ اس میں اکیس رمضان یوم علی امیر المومنین ؑ کے جلوس سے لے کر یوم عاشورا اور اربعین کے جلوسوں کی مخالفت سرفہرست تھی۔ خیر سے بارہ ربیع الاول کو بریلوی مسلک کی طرف سے عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر بھی جلوس نکالے گئے۔ عدل کی بنیاد پر رائے قائم کریں تو ان نئے اتحادیوں نے پورے سال مذہبی جلوسوں کے خلاف جو بیانیہ پیش کیا،  عید میلاد النبیﷺ کے جلوسوں نے پچھلے منافقانہ بیانیہ کی اصلیت بے نقاب کر دی۔ ویسے تو نئے اتحادیوں کی ذلت و رسوائی و ناکامی کے لیے بارہ ربیع الاول کے عید میلاد النبیﷺ کے بریلوی مسلک جلوس ہی کافی تھے۔ لیکن غیر فطری اتحادیوں نے یہ کوشش کی کہ ڈھکے چھپے الفاظ میں عید میلاد النبیﷺ کے جلوسوں سے عوام الناس کو دور کریں۔

اس ضمن میں مفتی منیب بریلوی کے موقف شائع شدہ روزنامہ جنگ کو بنیاد بنا کر بھی مخالفت کی گئی۔ البتہ مفتی عطاء اللہ بندیالوی، مفتی طارق مسعود اور دیگر صاحبان نے تو بارہ ربیع الاول کے عید میلاد النبی ﷺ کی یاد کے جلوسوں کی مخالفت میں ایک اور مرتبہ کھل کر بیان دیا، بلکہ بندیالوی صاحب نے تو بارہ ربیع الاول بریلوی مسلک جلوسوں کو محرم کے جلوسوں سے زیادہ بڑا خطرہ بنا کر پیش کیا۔ لو جی کرلو گل۔ یک نہ شد دو شد، ایک اور اہم واقعہ رونما ہوا۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی بریلوی مسلک نے علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر غالباً مزار اقبال سے نزدیک ہی ایک عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔ اس اثناء میں اذان کی آواز آئی اور خادم رضوی بریلوی مسلک نے اس اذان پر جو تبصرہ کیا، وہ آواز ریکارڈ ہوگئی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ مولوی خادم رضوی بریلوی مسلک نے اذان سننے پر کہا کہ یہ وہابیوں کی اذان ہے، اس کا کیا ادب، وہابی تو سور ہوتے ہیں سور۔

اس کے بعد وہابی مولویوں کی طرف سے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر جوابی کارروائی کی گئی۔ انما الاعمال بالنیات۔ جس صف بندی یا نام نہاد اتحاد کرنے والوں کی نیت ہی فتنہ و فساد اور انتشار و افتراق تھا تو نتیجہ تو یہی نکلنا تھا۔ مسلکی اختلافات کی بنیاد پر مسلمانوں پر تکفیر و رفض و شرک کے فتوے لگانا اور عام مسلمانوں کو تصادم پر اکسانا، نفرت پھیلانا، اس بدنیتی کا یہی انجام ہونا تھا، ہونا ہے اور ہوگا۔ ان الدین عنداللہ الاسلام۔ یہ اللہ کا دین ہے اور وہی اس کی حفاظت کا اہتمام کرتا ہے۔ ورنہ امام حسین علیہ السلام کے قتل پر بھی اس وقت کے مولویوں کے فتوے موجود تھے۔ آج بھی یزید کے دفاع کرنے والے مولوی موجود ہیں۔ لیکن یہ ملک نیک نیتی سے بنایا گیا ہے اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والوں کا خلوص اور اسلام سے وفاداری ایسی ہے کہ یہ اپنی مثال آپ ہے۔ ذرا کبھی سوچیں، غور کریں کہ اس مملکت کا بانی، بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ایک شیعہ مسلمان ہے۔ اس کا نظریہ ساز علامہ اقبال جیسا عظیم تفضیلی سنی ہے۔ یہ پاکستان کے قیام کا بھی فارمولا تھا اور یہی اس کی بقاء کے لیے آب حیات ہے۔ اتحاد امت، سنی شیعہ اتحاد ہی سے پاکستان کا قیام ممکن ہوا اور اسی اتحاد سے یہ اب تک ایک منفرد و ممتاز حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ اس پر مسلکی کنٹرول ممکن نہیں، کیونکہ نظریہ پاکستان مسلک نہیں مسلم شناخت کا مظہر ہے۔

اب اس حقیقت کو دوسرے رخ سے دیکھیں۔ ہماری مسلم شناخت کی مرکزیت خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ ہیں۔ ہم انہی کی امت ہیں۔ مائنس ختم نبوت و خاتم الانبیاءﷺ،  ہماری کوئی شناخت نہیں، حیثیت نہیں، اوقات نہیں۔ ہماری عزت، حیثیت، حتیٰ کہ ہمارا ہی کیا اس پوری کائنات کا وجود ہی خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کے صدقے میں ہے۔ اس معصوم ترین نوری بشر ہستی کی شان اقدس میں کسی توہین و گستاخی کو ہم میں سے کوئی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔  یہ غیر مشروط اطاعت ہے۔ یہ عقیدت و محبت کا مرکز و محور ہے۔ فرانس کے جریدے چارلی ہیبڈو نے دوبارہ تضحیک آمیز کارٹون شائع کیے اور فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے اس خبیث و ناقابل معافی عمل کی حمایت کی۔ اس کے خلاف امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے فرانسیسی قونصلیٹ کے سامنے مظاہرہ کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا۔ دیگر شیعہ اسلامی جماعتوں نے بھی ملک بھر میں احتجاجی اجتماعات کیے۔ یہ پوری پاکستانی قوم کی غالب اکثریت کا متفقہ مطالبہ تھا اور ہے کہ فرانس کے ساتھ تعلقات منقطع کیے جائیں، فرانسیسی سفارتخانہ بند کرکے فرانسیسی سفیر سمیت پورے غیر ملکی سفارتی عملے کو پاکستان سے نکالا جائے اور فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ یہ مطالبہ ایسا ہے کہ اس پر پوری قومتحد ہے۔

لیکن بدقسمتی سے اس ایشو پر تنہاء تحریک لبیک کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد کے فیض آباد میں دھرنا دیا گیا۔ افسوس کا مقام تھا کہ ان کے خلاف ایکشن لیا گیا  اور علامہ خادم حسین رضوی بریلوی مسلک بیماری کے باوجود وہاں لائے گئے۔ مذاکرات کے بعد دھرنا ختم ہوگیا اور جمعرات کی شب خادم حسین رضوی صاحب کی موت کی خبر آئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ یہاں سیاسی حقیقت کا ایک اور رخ سامنے آتا ہے۔ باضمیر منصف مزاج انسان اس ساری صورتحال پر غور کرے تو یہ سبھی کچھ ایک عبرتناک مثال ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہفتہ کے روز مینار پاکستان پر جو لوگ علامہ خادم کے جنازے کے جلوس اور نماز میں شریک ہوئے، کیا فیض آباد میں اس کا پچیس فیصد بھی آئے تھے!؟ یہاں سے مسئلہ واضح ہے۔ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ جو خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ پوری دنیا کے مسلمانوں کو اپنی جان و مال و عزت و ہر شے زیادہ عزیز اور محترم ہیں، اس معصوم ترین ختم المرسلینﷺ کی ناموس رسالتﷺ کے دفاع میں اتنے لوگ فیض آباد نہیں پہنچے، لیکن مینار پاکستان میں جلوس جنازہ و نماز جنازہ میں آگئے۔ بس یہی فرق اگر پاکستان کے مذہبی مسلمان سمجھ کر سبق سیکھیں تو دشمن کی چال ناکام بنانا آسان ہو جائے گا۔

فیض آباد کے دھرنے کا اصل مطالبہ یعنی فرانس کے خلاف جو اقدامات کہے ہیں، ان پر تو عمل نہیں ہوا، کیوں؟ اسی فیض آباد دھرنے میں عوامی شرکت کا موازنہ ان اجتماعات سے کر لیں، جو کراچی، ملتان اور اسلام آباد میں محرم کے مہینے میں بعض مولوی حضرات کی ایماء پر ہوئے تھے۔ یہاں سے بھی مسئلہ واضح ہے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کے نام پر بھی جو لوگ متحد ہونے کے لیے تیار نہیں، وہ عام لوگوں کو صحابہ کے نام پر کس کے کہنے پر اکٹھا کر لیتے ہیں۔ جو لوگ دس محرم اور بارہ ربیع الاول کے جلوسوں کی مخالفت میں قرآن و سنت کو ڈھال بناتے ہیں، وہ یہ بھی بتا دیا کریں کہ قرآن و سنت کی رو سے انجمن سپاہ صحابہ کے یکم محرم اور بائیس جمادی الثانی یا اٹھارہ ذی الحج کے جلوس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور خود جو ناموس صحابہ کے عنوان سے جو جلوس نکالے ہیں، ان کی شرعی حیثیت کیا ہے۔؟ صاف ظاہر ہے کہ یہ ٹولہ بدنیت اور منافق ہے۔ یعنی رسول اللہﷺ اور آل ؑ رسولﷺ کی یاد میں نکلنے والے جلوس کو حرام کہتا ہے، گویا خود بڑے حلال قسم کے جلوس نکالتا ہے!

اب مسلک اور ضرورت دونوں کی اصل حقیقت کو اور زیادہ آسانی سے سمجھ لیں۔ قیام پاکستان سے آج تک کے حکمرانوں کی مسلکی شناخت بیان کر دیں۔ لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، بوگرہ و چوہدری محمد علی، فیروز خان نون سے نواز شریف اور عمران خان تک اور جنرل ایوب خان سے جنرل ضیاء اور جنرل مشرف تک ان حکمرانوں کا فرقہ بھی بیان کر دیں۔ سابق صدر فاروق لغاری اور ان کا خاندان تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جو نیا اتحاد بنا کر نفرت پھیلانے کے مشن پر ہیں، یہ بتائیں کہ ان کا کونسا ایسا مسلک ہے، جو اقتدار میں شریک نہیں؟!  فرانس کے خلاف جو اقدامات پاکستان نے کرنا ہیں، جو مطالبات ہیں، وہ کس مسلک کے حکمرانوں سے ہیں!؟ کیوں نہیں سمجھتے کہ پاکستان پر مسلکی کنٹرول کا سہانا سپنا دکھا کر اسلام دشمن اور پاکستان دشمن قوتوں نے بہت کامیابی سے پاکستان کے امن و سکون، اخوت و محبت کی فضاء کو ختم کر دیا ہے۔ کم سے کم عقل سے کام لے کر زمینی حقائق سے تو نظر نہ چرائیں۔

بہت واضح حقیقت ہے کہ پاکستان میں بعض مولوی حضرات مسلمان ممالک کو امریکی زایونسٹ کنٹرول میں لانے کی جنگ میں آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کام محض اتنا ہے کہ پاکستانی قوم کو تقسیم کرکے آپس میں گتھم گتھا کر دیں۔ ان مولویوں نے یہاں پاکستانی قوم کو منقسم کیا اور وہاں بیت المقدس قبلہ اول کے غاصب اسرائیل کے اصل دوست متحدہ عرب امارات، بحرین، وغیرہ کو اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔ اب سعودی عرب کی باری ہے۔ اس لیے ایک اور مرتبہ یہ مخصوص مولوی ٹولہ میدان میں نکلنے کے لیے تیار ہے۔ دشمن کو ہمیشہ مسلمانوں کی صفوں کے اندر ایسے لوگ ملے ہیں۔ ایک پاکستانی اسکالر کے مطابق جب ترک سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنا تھا تو بھارت کے ایک نامور عالم نے فتویٰ دیا تھا کہ خلافت قریش کا حق ہے، ترک دعویٰ غلط ہے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ آل سعود کس طرح مکہ و مدینہ پر قابض ہوئے۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور اسرائیل کے مخالف ہر ملک، حکومت، دین، مسلک، فرقے اور شخصیت کو راستے سے ہٹانا یا کمزور کرنا ان کا ہدف ہے۔ البتہ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان آلہ کار ٹولوں کی سرپرستی کرنیوالوں کو دو تین ماہ بعد خود سرپرستوں کی ضرورت پیش آئے گی۔
خبر کا کوڈ : 899397
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش