0
Tuesday 24 Nov 2020 17:10

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازشیں؟

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازشیں؟
تحریر: ارشاد حسین ناصر

ایک دفعہ پھر عالمی سطح پر بعض خبروں نے سب کو چونکا دیا ہے، اسرائیل کے وزیراعظم کیساتھ سعودی کرائون پرنس محمد بن سلمان کی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کے دعووں سے عالمی سطح پر ایک ہلچل، بحث اور تبصرے شروع ہوچکے ہیں۔ کسی طرف سے مذمت اور کسی طرف سے اس ملاقات کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں پاکستان اور پاکستانیوں کی دلچسپی کے بھی بہت سے پہلو ہیں، جو قابل ذکر و توجہ طلب ہیں۔ بالخصوص جب پاکستان پر اس کے قریبی دوست ممالک سمجھے جانے والے ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کا ایک سلسلہ چلا ہوا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو کہاں کھڑا ہونا ہے اور وہ کہاں کھڑا ہے، بہت ہی اہم ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان ایک ایٹمی مسلم ملک ہے، جس کے اسرائیل کیساتھ کبھی بھی تعلقات نہیں رہے بلکہ پاکستان کے پاسپورٹ پر یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کیلئے کارآمد نہیں۔ اسی طرح اسرائیل کے بارے قائداعظم کے فرامین کو نصب العین قرار دیا جاتا ہے۔

گذشتہ دنوں ملک کے وزیراعظم جناب عمران خان نے ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر بعض قریبی دوست ممالک کی طرف سے بہت پریشر ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں۔ یاد رہے کہ اس وقت متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں۔ یہ ممالک سعودیہ کے بنائے نام نہاد انتالیس ملکی اتحاد میں ساتھ ہیں اور یمن کے خلاف فوجی جارحیت کا بھی فوجی شکل میں ساتھ دے رہے ہیں۔ لہذا یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سعودیہ کے زیر اثر ان ممالک نے سعودی شاہی حکم کی بجا آوری میں ہی اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور ایسے ہی پاکستان پر سعودیہ اور امارات پریشر ڈال رہے ہیں۔ یہ پریشر کئی اطراف و انداز سے سامنے آچکا ہے، بالخصوص ان ممالک میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی لیبر یا کاروبار کی شکل میں موجودگی اور ان کیلئے مشکلات کھڑی کرنے، انہیں حیلوں بہانوں سے تنگ کرنے، انہیں ملک سے بغیر بتائے بے دخل کرنے، حتیٰ ہزاروں افراد کو امارات میں بلا جرم جیلوں میں ڈالنے یا غائب کرکے پریشان کرنے اور امارات میں پاکستانیوں کی دکانوں کو جرمانے و خوف زدہ کرنے جیسے واقعات معمول بن چکے ہیں۔

جن پر ابھی تک حکومتی سطح پر کسی بھی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا، حالانکہ اس پر متاثرہ پاکستانی فیملیز نے احتجاج بھی کیا، مگر یہ احتجاج بھی سوشل میڈیا تک محدود رہا، قومی میڈیا پر ریاستی پالیسی کا اثر نمایاں رہا۔ اب جب امریکہ میں حکومت تبدیل ہونے جا رہی ہے اور اختیارات نئی حکومت کو ملنے جا رہے ہیں تو ٹرمپ حکومت جس نے یہودی و صیہونی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں بہت زیادہ کام کیا اور صدر ٹرمپ نے بڑی کوشش سے اپنے داماد کشنر کے ذریعے ڈیل آف دی سنچری جیسا معاہدہ بھی کروایا، جسے امت مسلمہ سمیت فلسطینیوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، جاتے جاتے اپنا کام کرنے کی کوشش میں دکھائی دیتی ہے۔ سعودیہ اندرونی طور پر بے شک اسرائیل اور صیہونیوں کی جتنی بھی مدد کر لے، جب تک ظاہری طور پر اسے تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کرتا، اس وقت تک اس کے فوائد اسرائیل اٹھانے سے قاصر ہی دکھائی دے گا۔

لہذا اندرون خانہ پکنے والی کھچڑی اب باہر آنا چاہتی ہے۔ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ بن سلمان سے ٹرمپ انتظامیہ جاتے جاتے اسرائیل کو تسلیم کروانے کا باقاعدہ اعلان کروانا چاہتی ہو، جبکہ بعض ذرائع نے ان ملاقاتوں اور پیدا ہونے والی صورتحال کو ایران سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے کہ بعضخبروں میں ایران پر حملہ کی باتیں بھی کی گئی ہیں، جو کہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ امریکہ میں ایران پر حملہ کرنے کی طاقت نہیں رہی، اگر یہ طاقت ہوتی تو عراق میں امریکی ایئر بیسز کو ڈائریکٹ نشانہ بنانے کے وقت ایسا ضرور کیا جاتا۔ حقیقت یہی ہے کہ امریکی نام نہاد سپر طاقت ہونے کا غرور خاک میں مل چکا ہے۔ ہم بات کر رہے تھے کہ پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کی بحث اور میڈیا میں آنے والی خبروں نیز تجزیہ کاروں کے خدشات پر کہ اسرائیل کو تسلیم کروانے کیلئے میڈیا کو ایکٹو کیا گیا ہے، تاکہ ایک طرف جانچا جا سکے کہ پاکستانی عوام کیا چاہتے ہیں اور دوسرا عوام میں اسرئیل کے حق میں فضا ہموار کی جائے۔

اس مقصد کیلئے بے باک سمجھے جانے والے معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کا اسرائیلی ٹیلی ویژن کو دیا گیا تاثراتی انٹرویو اور پھر سعودی ولی عہد شہزادہ بن سلمان کی نیتن یاہو کیساتھ ملاقات کی خبروں پر ہونے والے تبصروں میں بہت کچھ پنہاں و ظاہر ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ بعض صحافی یہ انکشاف کرچکے ہیں کہ بعض مقتدر حلقوں کی جانب سے صحافیوں کو کافی پہلے یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ اس بحث کو سامنے لائیں اور فضا ہموار کریں۔ پاکستانی واحد غیر عرب ریاست ہے، جس نے اسرائیل کے خلاف پہلے دن سے ایک واضح موقف اپنا رکھا ہے، اس پر قائم ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ واحد اسلامی  ایٹمی پاکستان اسرائیل کے نشانہ پر رہا ہے۔ پاکستانی ایجنسیوں نے اسرائیل کے کئی خطرناک منصوبوں کو خاک میں ملایا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت کو کشیمریوں کو کچلنے کیلئے اسرائیل کی عملی مدد حاصل رہی ہے، جو اسرائیلی طرز پر معصوم کشمیریوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل اور بے اماں کئے ہوئے ہے

جس طرح صیہونیوں نے فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور آبائی زمینوں نیز مقدس سرزمین سے بے دخل اور بے خانماں و برباد کیا ہوا ہے، ایسے ہی بھارت نے کشمیر کے اپنے مقبوضہ حصے میں مظلوم کشمیریوں کا جینا دو بھر کیا ہوا ہے اور غاصبانہ قبضہ کے ذریعے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو روندتے ہوئے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ پاکستان کس طرح اہل کشمیر کو اکیلا چھوڑ سکتا ہے، اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو اسے پاکستانی عوام تو کسی بھی طور قبول نہیں کریں گے۔ اس کیساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے تہتر سال سے جاری مسئلہ کشمیر کے دعوے سے اخلاقی طور پر پیچھے ہٹنا ہوگا، اس لئے کہ اگر فلسطین میں غاصب اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کیا جا سکتا ہے تو پھر کشمیر میں بھارت کے جابرانہ قبضے کے خلاف جانا اخلاقی دیوالیہ پن ہی ہو سکتا ہے، جو کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہوگا۔ لہذا کوئی بھی حکومت اگر ایسا اقدام اٹھاتی ہے تو اسے کشمیر سے ہاتھ دھونے کے مترادف سمجھتے ہوئے اہل پاکستان اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔

بعض لوگ اسے عربوں کیساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر عربوں کو مسئلہ نہیں ہے تو ہم کیونکر اتنے جذباتے ہوئے جاتے ہیں، ایک جدید ترقی یافتہ ملک سے کیوں فائدہ نہیں اٹھا رہے اور دنیا کو کیوں اپنے خلاف کیا ہوا ہے۔ ان کیلئے عرض ہے کہ پاکستان کا موقف عرب دوستوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ظالم، مظلوم اور قابض و مقبوضین کے عنوان سے ہے۔ جیسے بھارت ناجائز قابض ہے، ایسے ہی صیہونی فلسطین پر ناجائز قابض ہیں، جسے سند قبولیت دینا حق سے دستبردار ہونا ہے۔ عربوں سے مراد سعودی عرب اور امارات ہی نہیں، عربوں میں لبنان، شام، عراق اور یمن بھی آتے ہیں۔ عربوں میں خود اہل فلسطین بھی شامل ہیں، جو آٹھ دہائیوں سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، قتل ہو رہے ہیں، اجاڑے جا رہے ہیں۔ جن کے گلے گھونٹے جا رہے ہیں، جن کو ظلم و ستم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔ جن کے بچے، بڑے، مرد، خواتین اور جوان سب ہی نام نہاد انسانی حقوق کے درس دینے والوں کی بے رحمی کا شکار ہیں۔ ہم انہی فلسطینیوں کیساتھ ہیں، ہم مظلوم فلسطینیوں کیساتھ ہیں اور رہیں گے۔
خبر کا کوڈ : 899744
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش