0
Wednesday 25 Nov 2020 21:31

آبروئے تہذیب لکھنو کی رخصتی

آبروئے تہذیب لکھنو کی رخصتی
تحریر: سویرا بتول

کہا جاتا ہے کہ ایک عالِم کی وفات، ایک عَالم (دنیا) کی موت ہے۔ گذشتہ شب خبر ملی کہ ممتاز شیعہ عالم دین مولانا ڈاکٹر کلب ِصادق صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے۔اتنی بڑی علمی، سماجی اور فلاحی شخصیت کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا یقیناً ایک عظیم سانحہ ہے۔ ایک وقت تھا جب ہندوستان میں تہذیب کا گہوارہ کہلانے والے شہر لکھنو سے شیعہ سنی فسادات کی خبریں آتی تھیں، لیکن حالیہ برسوں کے دوران وہاں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ یوں کہا جائے کہ مسلکی کشیدگی کو کم کرنے اور اتحاد کی فضاء کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار مولانا کلبِ صادق کا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ مرحوم اکثر کہا کرتے تھے کہ شیعہ سنی کو نہیں لڑاتا، سنی شیعہ کو نہیں لڑاتا، دونوں کو جہالت لڑاتی ہے، جب تک ہمارے بیچ جہالت قائم رہے گی، ہم زندہ قوم نہیں بن سکتے۔

لکھنو کی تہذیب اور لکھنو کو ہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا تو کیا ہوا، کچھ کردار تو ایسے دیکھے کہ جنہیں دیکھ کر حسرت میں کمی آئی۔ مولانا ضمیر اختر نقوی کی شخصیت اور انکی تصانیف جن میں لکھنوی انداز جھلکتا تھا کے بعد مولانا کلبِ صادق کا شمار بھی انہی کرداروں میں ہوتا ہے، جنہوں نے لکھنو کی ادبی اور مذہبی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مرحوم اکثر کہا کرتے تھے کہ باب العلم کے ماننے والے اکثر وہ کام نہیں کرتے جو کرنا چاہیئے تھے۔ت علیم پر توجہ نہیں دی جاتی، ہمیں اسکول بنانے چاہیئ،ے نہیں بناتے جنکی وجہ سے جہالت فروغ پا رہی ہے۔

مولانا ڈاکٹر کلب صادق خاص طور پر مفت تعلیم پروگرام T.M.Ts کے ساتھ منسلک رہے ،جو معاشرے کے انتہائی مستحق اور پسماندہ طلبہ کو معیاری تعلیم، آمد و رفت، یونیفارم، اسٹیشنری، کتابیں وغیرہ بالکل مفت فراہم کراتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت لکھنؤ، الہ آباد، جونپور، علی گڑھ، مراد آباد، جلال پور، بارہ بنکی وغیرہ جیسے بھارت کے مختلف شہروں میں تقریباً 4000 طلباء معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ڈاکٹر کلب صادق نے لکھنؤ میں ایک مکمل مفت تعلیمی مرکز قائم کیا ہے۔ جو یونٹی مشن اسکول کے نام سے جانا جاتا ہے، یہاں 1800 طلباء زیر تعلیم ہیں اور ان کےتمام اخراجات بشمول کتابیں، کاپیاں اور یونیفارم مہیا کراتی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 2016ء میں ایک پروگرام کے دوران انھوں نے کہا: "مسلمانوں کو خود جینے کا طریقہ معلوم نہیں اور وہ نوجوانوں کو مذہب کا راستہ دکھاتے ہیں۔ انھیں پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی، تاکہ مسلم نوجوان ان کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔ آج مسلمانوں کو مذہب سے زیادہ اچھی تعلیم کی ضرورت ہے۔"
جان کا صرفہ ہو تو ہو لیکن
صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے


نہ صرف لکھنؤ بلکہ پوری دنیا میں شیعہ عالم دین کی حیثیت سے اپنی ایک الگ پہچان رکھنے والے مولانا کلبِ صادق پوری زندگی تعلیم کے فروغ اور مسلم معاشرے سے روایتی اور فرسودہ سوچ کے خاتمے کے لیے کوشاں رہے۔ آپ نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے برصغیر کا اثاثہ تھے۔ بے شک آپ کی جدائی نے نہ صرف امتِ مسلمہ بلکہ تمام برصغیر کو سوگوار کر دیا اور شاید ایسی ہی علمی شخصیت کے حوالے سے کسی نے کہ تھا کہ
تھے وہ بھی دن کہ خدمتِ استاد کے عوَض
دل چاہتا تھا ہدیۂ دِل پیش کیجیے
خبر کا کوڈ : 899964
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش