1
Friday 27 Nov 2020 17:23

نوجوان لاپتہ، شہداء گمنام، آخر کب تک؟

نوجوان لاپتہ، شہداء گمنام، آخر کب تک؟
تحریر: سویرا بتول

"گمنام شہداء" جن کا ذکر کہیں نہیں ہے، جن کے مرقد تو موجود ہیں مگر آج بھی وہ اپنوں کے درمیان گمنامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ویران بستیوں میں اُن کے ویران کتبے آج بھی اپنی شناخت چاہ رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک شہید محرم علی ہیں۔ سپاہی امامِ زمان ؑ محرم على شہید لاہور کے موچی دروازہ سے تعلق رکھنے والے ایک شجاع اور باتقویٰ نوجوان تھے، جن کا دل گستاخ امام زمان (ع) پر ہر وقت کڑھتا رہتا تھا، شہید محرم علی شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے قریبی رفقاء میں شمار ہوتے تھے، انہیں لاہور سیشن کورٹ بم دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، وقت کے حکمرانوں اور متعصب عدلیہ کی ملی بھگت سے بم دھماکے میں مارے جانے والے سپاہ صحابہ کے قائد ضیاء الرحمان فاروقی اور دیگر تیس افراد جن میں اکثریت پولیس اہلکاروں کی تھی، کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی اور یوں 11 اگست 1998ء میں اس حال میں پھانسی دی گئی کہ وہاں انتہائی جرات اور بہادری کے ساتھ نعرہ حیدری کی گونج میں دار پر چڑھ گئے۔

شہید نے اپنی وصیت میں لکھا کہ ان کے جنازے کو بینڈ باجے کے ساتھ لے جایا جائے اور کوئی ان کی میت پر نہ روئے، جبکہ بعض شخصیات کا نام لیکر جنازے میں شرکت سے بھی منع کیا۔ انہوں نے یہ بھی وصیت کی کہ انہیں اپنے دوست (شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی) کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ شہید محرم علی کا مرقد ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی کے مزار کے قریب یعنی علی رضا آباد رائیونڈ روڈ پر واقع ہے۔ شہید محرم علی جیسے لوگ اُس وقت پیدا ہوتے ہیں، جب ریاست اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام نہیں دیتی۔ پھر ردعمل کے طور پر کچھ لوگ اٹھتے ہیں اور اپنے نظریات اور افکار کی جنگ لڑتے ہیں۔ یہ لوگ باقاعدہ طور پر کسی فوجی مشق سے نہیں گزرے ہوتے بلکہ یہ ہماری طرح عام انسان ہیں، جو اپنے نظریات کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ انہیں کسی خاص تنظیم تک محدود کرنا ان کی ارزش کم کرنے کے مترادف ہے۔

شہید محرم علی، شہید علی ناصر صفوی، شہید فیاض حیدر، شہید مختار حسین سیال، شہید شہزاد علی حیدری، شہید تابش حسین زیدی، نوید علی شہید، قاری ظفر شہید، بشارت زیدی شہید، حسن رضا شمسی، قیصر عباس بلوچ، اختر عباس شہید، محمد حسین حسینی، شہید عسکر عباس، لیاقت جعفری شہید اور  سید اسحاق اصغر کاظمی یہ سب شہداء ہمارا فخر ہیں۔ افکار و کردار شہداء آج بھی زندہ ہیں۔ ایسے شہداء کو گمنام نہیں ہونا چاہیئے۔ ؎‏
وہ لوگ جنہوں نے خون دے کر اس چمن کو زینت بخشی ہے 
دو چار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانے کتنے ہیں


خدا کی قسم شہداء کی جگہ خالی ہے، شہید علی ناصر صفوی کی جگہ خالی ہے، اُس کو پُر کرنے والے کہاں ہیں؟ شہدائے گمنام جنہوں نے جنابِ سیدہ کے عشق میں خدا سے شب کی تاریکیوں میں گمنامی مانگ کر حضرت زہراؑ کا قرب پالیا۔ وہ عاشقانِ خدا جو شہرت طلب نہ تھے، تبھی جنابِ سیدہؑ کی فرزندی میں جگہ پائی۔ شہادت ایک معاشرے کے بدن میں خون کا انتقال ہے، یہ شہید ہی ہے جو تازہ خون معاشرے کی شریانوں میں پہنچاتا ہے۔ شہداء کی یاد شہادت سے کم نہیں۔
ما قومی ھستیم کہ رکوع نمی کنیم جز در نماز 
و گریہ نمی کنیم مگر در عاشورا


یہ شہداء ہماری لیے آئیڈیل ہیں۔ یہ ہماری ملت کا فخر ہیں۔ ان پر زیادہ سے زیادہ کتب لکھی جانی چاہیئے۔ ان شہداء کو ہرگز فراموش نہ کریں۔ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے اہلِ بیتؑ کی محبت کے جرم میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ریاست کے ڈر سے ہم انہیں اس قدر بھی گمنام نہ کر دیں کہ آئندہ آنے والی نسلیں ہم سے استفسار کریں کہ اِن شہداء کا ریکارڈ کہاں ہے۔؟ اِن پر کتب کیوں نہ لکھی گئیں۔ ان کے افکار سے ملت کے جوانوں کو آگاہ کیوں نہ کیا گیا؟ یہ ملت کتنی مظلوم ہے کہ اس کے نوجوانوں کو اپنے وطن کے دفاع میں، اپنے وطن سے محبت کے جرم میں لاپتہ کیا جاتا ہے، لیکن جب یہ نوجوان شہید ہو جاتے ہیں تو اِن نوجوانوں کے کتبے گمنامی کا استعارہ بن جاتے ہیں آخر کب تک۔؟
خبر کا کوڈ : 900326
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش