0
Tuesday 1 Dec 2020 13:55

مشرق وسطیٰ سے افریقہ تک

مشرق وسطیٰ سے افریقہ تک
اداریہ
تکفیری دہشت گردی کا عفریت جن طاقتوں نے خلق کیا ہے، وہ اس سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔ وہ اس ہتھیار کو اپنی ضرورت کے مطابق مختلف خطوں اور ملکوں میں استعمال کرتے رہتے ہیں۔ دین اسلام کو بدنام کرنا اور اس سے اپنے مذموم اہداف حاصل کرنا صیہونی لابی کا وطیرہ رہا ہے۔ امریکہ اور اسکے مغربی اور عرب حواریوں نے کافی عرصہ سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کا انتخاب کر رکھا ہے اور ان خطوں میں تکفیری مائنڈ سیٹ کو جنم دیا اور پھر ان کو مسلح کرکے عراق و شام اور لبنان وغیرہ میں اسلام کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دیا اور اسرائیل کے تحفظ نیز مزاحمتی و استقامتی بلاک کو کمزور کرنے کے لیے نئی نئی سازشیں تیار کیں۔

مشرق وسطیٰ میں حالیہ شکستوں کے بعد تکفیری گروہ کی افریقی اور جنوبی ایشیاء کی شاخوں کو متحرک کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے افریقہ اور افغانستان میں تکفیری دہشت گردوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں خراسانی داعش کے نام سے افریقہ میں بوکو حرام کے نام سے کارروائیوں میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ حال ہی میں بوکو حرام نے شمالی مشرقی نائیجریا کے علاقے خوشوبہ میں ایک سو دس سے زائد ماہی گیروں اور کسانون کو خاک و خون میں غلطاں کرکے ان کی خواتین اور لڑکیوں کو اپنے ہمراہ لے گئے ہیں۔

بوکو حرام، داعش، القاعدہ، الشباب اور اس مائنڈ سیٹ کے دیگر دہشت گرد گروہ جن اہداف و مقاصد کے لیے سرگرم عمل ہیں، ان کا اصلی فائدہ غاصب اسرائیل اور اسلام دشمن طاقتوں کو ہو رہا ہے۔ بوکو حرام نے افریقی ملک میں بیسیوں افراد کو قتل کرکے اپنے آقاوں کو پیغام دیا ہے کہ وہ بدستور کارآمد ہیں اور اس پر مزید سرمایہ کاری کی جائے، تاکہ افریقہ میں بھی صیہونی اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ صیہونی لابی تکفیری دہشت گردوں سے دہرا فائدہ اٹھا رہی ہے، اسلام بھی بدنام ہو رہا ہے اور اسرائیل کے رستے کے کانٹے بھی صاف ہو رہے ہیں
خبر کا کوڈ : 901119
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش