1
Thursday 3 Dec 2020 10:27

ڈاکٹر کلب صادق خاندانی پس منظر اور سماجی خدمات

ڈاکٹر کلب صادق خاندانی پس منظر اور سماجی خدمات
تحریر: سید اسد عباس

ڈاکٹر کلب صادق 22 جون 1939ء میں لکھنؤ کے معروف اور علمی خانوادے، خاندان اجتہاد میں پیدا ہوئے۔ اس خاندان کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ اس نسل میں کئی ایک نوابغ اور علمی شخصیات پیدا ہوئیں۔ یہ خاندان سبزوار سے ہندوستان کے علاقے جائس میں آکر آباد ہوا۔ اسی خاندان کے بزرگ سید نصیرالدین کے سبب علاقے کا نام نصیر آباد پڑ گیا۔ کتاب مشجر المبارکہ کے مطابق سید نصیر الدین کا شجرہ: سید نصیر الدین بن سید علیم الدین بن علم الدین بن شرف الدین بن نجم الدین سبزواری بن علی بن ابو علی بن ابو یعلی محمد الدقاق بن ابو القاسم طاہر ثانی بن محمد الدانقی بن ابو القاسم طاہر بن امام علی نقی علیہ السلام بن امام محمد تقی علیہ السلام بن امام علی رضا علیہ السلام بن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بن امام جعفر صادق علیہ السلام بن امام محمد باقر علیہ السلام بن امام زین العابدین علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام بن امام علی علیہ السلام۔

سید نصیر الدین کی نسل سے ایک معروف عالم دین اور مرجع سید دلدار علی نقوی نصیر آبادی المعروف غفران مآب متولد ہوئے۔ مولانا جابر جوراسی ہندوستان میں شائع ہونے والے مجلے ماہنامہ اصلاح کے مرجعیت نمبر میں علامہ دلدار نقوی کے بارے میں لکھتے ہیں: آپ کی ولادت شب جمعہ ۱۱۶۶ ھ میں بمقام نصیرآباد ضلع رائے بریلی میں ہوئی۔ ورثۃ الانبیاء میں ہے کہ جب آپ پیدا ہوئے تو اس مکان میں ایک نور ساطع ہوا۔ "نجوم السماء" میں ہے کہ ابتداء میں کتب علوم عقلیہ فضلائے ہند مثلاً سندیلہ میں ملا حیدر علی پسر ملا حمداللہ سندیلوی سے اور الہ آباد میں رہ کر سید غلام حسین دکنی سے پڑھیں، پھر رائے بریلی میں مولوی باب اللہ شاگرد ارشد ملا حمداللہ ممدوح سے پڑھیں۔ پھر فیض آباد سے ہوتے ہوئے لکھنؤ تشریف لائے اور نواب سرفراز الدولہ مرزا حسن رضا خان صاحب کی مدد سے براستہ سندھ زیارات مشاہد مقدسہ سے مشرف ہو کر کربلائے معلیٰ میں آقا باقر بہبہانی اور آقا سید علی طباطبائی اور آقا سید مہدی موسوی شہرستانی سے اور نجف اشرف میں حضرت بحرالعلوم آقا سید مہدی طباطبائی یزدی سے تحصیل علوم فقہ وحدیث واصول فقہ وغیرہ فرمایا۔

۱۱۹۴ ھ میں زیارت مشہد مقدس سے مشرف ہوئے اور وہاں جناب سید مہدی بن سید ہدایت اللہ اصفہانی کی خدمت میں رہ کر کسب افادات فرمایا اور انہیں بزرگوں نے اجازہ ہائے اجتہاد دیئے اور ہندوستان تشریف لائے۔ آپ کا فضل و کمال و علو مرتبت و اجلال بیان سے باہر ہے۔ فقط یہی کافی ہے کہ ہندوستان میں دین اسلام آپ کے ہی وجود ذیجود سے پایا جاتا ہے۔ "شذورالعقیان" میں ہے کہ آیت اللہ فی العٰلمین الذی احی الدین فی الدیار الہند وطمس آثار البدع والجاہلیۃ مولانا السید دلدار علی النصیرآبادی۔ معروف محقق اور عالم دین آقا تہرانی آپ کے بارے میں لکھتے ہیں: "من اعاظم علماء الشیعۃ فی عصرہ ومن اشھر رجاال العلم فی الھند" اپنے دور کے عظیم علمائے شیعہ اور ھند کے معروف ترین علماء میں سے تھے۔

اس خاندان کے علماء نے جہاں دین اسلام کی تبلیغ اور اصلاح کا بیڑا اٹھایا، وہیں انھوں نے انگریز سامراج کے خلاف بھی شمع علم کے ذریعے مقاومت جاری رکھی۔ اسی خاندان کے علماء کے فتووں نے اودھ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو جوڑے رکھا۔ اودھ میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ اسی خاندان کے علماء نے دیا اور بعدہ اہل اودھ کے حقوق کی جنگ بھی اسی خاندان کے افراد نے لڑی۔ آیت اللہ سید دلدار علی نقوی کے خاندان میں آٹھ پشتوں سے مجتہدین اور مراجع کی ولادت کا سلسلہ جاری ہے، علامہ سید علی نقی نقوی المعروف علامہ نقن جو پاکستان میں متعدد مرتبہ تشریف لائے، اسی خاندان سے تھے۔ علامہ نقن کے علاوہ آیت اللہ سید کاظم، آیت اللہ سید مرتضیٰ، آیت اللہ باقر نقوی، آیت اللہ محمد نقوی، آیت اللہ علی انور نقوی، آیت اللہ آقا حسن، آیت اللہ کلب حسین کا تعلق بھی اسی خانوادے سے ہے۔
 
ڈاکٹر کلب صادق کے دادا آیت اللہ سید آقا حسن اپنے زمانہ کے مجتہد تھے۔ آپ کے والد آیت اللہ سید کلب حسین بھی ایک عظیم عالم دین تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گھر میں اپنے والد گرامی سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ سلطانیہ سلطان المدارس کا رخ کیا۔ وہاں سے صدر الافاضل کی سند حاصل کی، ساتھ ہی عصری تعلیم میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے عربی زبان میں پی ایچ ڈی کی۔ ڈاکٹر کلب صادق اپنی قوم اور مسلم امہ کے حالات میں بہتری کے لیے مسلسل کوشاں رہتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے مسائل کا حل علم میں ہے۔ علم کی طرف عوام کو راغب کرنا ان کا مستقل شیوہ تھا۔ اس کے لیے انھوں نے متعدد علمی اداروں کی بنیاد رکھی۔ مسلمانوں کی معاشی اور سماجی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے بھی انھوں نے متعدد فلاحی منصوبوں کا آغاز کیا۔

اپنی آخری ویڈیو جسے ایک طرح سے وصیت بھی کہا جاسکتا ہے، اس میں ڈاکٹر کلب صادق غربت کے خاتمے پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر کلب صادق دینی کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم میں مہارت پر بہت زور دیتے تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان ہر دو میدانوں میں کمال حاصل کریں، یہی مسلمانوں کی ترقی کا زینہ ہوسکتا ہے۔ آپ اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے، ان کے خطابات اکثر اسی موضوع پر ہوتے، آپ کی عملی کاوشیں بھی اسی مقصد کے لیے تھیں۔ آپ نے توحید المسلمین ٹرسٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جس کے تحت متعدد علمی اور فلاحی ادارے قائم ہیں۔ ان اداروں میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
یونیٹی کالج لکھنؤ
یونیٹی مشن سکول لکھنؤ
یونیٹی انڈسٹریل ٹریننگ سنٹر لکھنؤ
یونیٹی پبلک سکول الہ آباد
ایم یو کالج علی گڑھ
یونیٹی کمپیوٹر سنٹر لکھنؤ
یونیٹی فری ایجوکیشن پروگرام لکھنؤ، جونپور، جلالپور، الہ آباد، باربنکی، مراد آباد، علی گڑھ وغیرہ۔
ہزہ خیراتی ہسپتال لکھنؤ
ٹی ایم ٹی میڈیکل سنٹر شکار پور
ٹی ایم ٹی پینشن سکیم برائے بیوگان
ٹی ایم ٹی سکالرشپ سکیم برائے یتماء

ڈاکٹر کلب صادق ایرا میڈیکل کالج و ہسپتال لکھنؤ کے صدر، آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے سیکرٹری جنرل اور انجمن وظائف سادات و مومنین کے رکن بھی تھے۔ ڈاکٹر کلب صادق کے فرزند ڈاکٹر کلب سبطین نوری نے قلم کا میدان سنبھالا۔ آپ کئی کتابیں تحریر کرچکے ہیں اور حال ہی میں ڈاکٹریٹ مکمل کرکے تدریس کے میدان میں آنے کی تیاری میں ہیں۔ ڈاکٹر کلب صادق کے چھوٹے صاحبزادے سید کلب مہدی نقوی عرف منتظر، قرآن مجید کا ہندی میں ترجمہ کر رہے ہیں، جو آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی نظروں کے سامنے آئے گا۔ ہندوستان میں ہی نہیں پاکستان میں بھی اس خاندان کے علماء قومی خدمت انجام دینے میں مشغول ہیں۔ ان میں سرِفہرست افراد میں علامہ نصیر اجتہادی کے بعد پاکستان کے نامور شاعر اقبالؔ جائسی کے فرزند اور علامہ سید کلب احمد مانیؔ جائسی کے پوتے مولانا حسن ظفر نقوی صاحب کا نام آتا ہے، جو پاکستان کے معروف علماء میں سے ہیں، تحریر اور تقریر دونوں میں ان کی خدمتیں ہیں۔ مولانا نصیر اجتہادی بھی پاکستان کے ایک بڑے عالم اور مقرر و خطیب تھے، جو قومی امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ ڈاکٹر محسن نقوی جو ماہنامہ پیام کی مجلس مشاورت میں بھی ہیں، کئی ایک کتب کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے کا تعلق بھی اسی خانوادے سے ہے۔
خبر کا کوڈ : 901380
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش