?>?> اقبال کی شخصیت تعلیمی زندگی کیلئے بہترین نمونہ(1) - اسلام ٹائمز
0
Thursday 3 Dec 2020 14:32

اقبال کی شخصیت تعلیمی زندگی کیلئے بہترین نمونہ(1)

اقبال کی شخصیت تعلیمی زندگی کیلئے بہترین نمونہ(1)
تحریر: محمد حسن جمالی

تعلیمی زندگی کی کامیابی کے لئے آئیڈیل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ جب طالب علم تعلیمی وادی میں قدم رکهتا ہے تو غیر محسوس طریقے سے خود بخود اس کی تعلیمی زندگی پر تقلید حاکم رہتی ہے، لیکن یہ اس کی کامیابی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا، اس لئے کہ ہر کس و ناکس قابل تقلید نہیں ہوسکتا ہے۔ وہ طالب علم تعلیم و تربیت کے میدان میں آگے نکل سکتا ہے، جو پوری شناخت اور آگاہی کے ساتھ کسی لائق، باصلاحیت اور تعلیم و تربیت سے آراستہ علمی شخصیت کو اپنے لئے آئیڈیل قرار دے اور اس کی رفتار کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی جدوجہد کرے۔ اس علمی شخصیت کا زندہ ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر وہ قید حیات میں نہ ہو، تب بهی اس کی مجاہدانہ زندگی کو طالب علم اپنے لئے سرمشق قرار دے سکتا ہے۔ البتہ دنیا سے کوچ کر جانے والی شخصیات کی زندگی سے متعلق آگاہی حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لئے انسان کو کافی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مطلوبہ شخصیت سے متعلق ذہن میں مختلف ذرائع سے معلومات کا ذخیرہ کرنا پڑتا ہے، لائبریریوں میں وقت گزارنا پڑتا ہے اور مختلف کتابوں کی ورق گردانی کرکے پڑهنا پڑتا ہے۔

فرض کیجئے اگر کوئی طالب علم علامہ اقبال کی شخصیت کو اپنے لئے آئیڈیل اور نمونہ بنانا چاہے تو اسے اقبال کی شخصیت کو سمجهنا ضروری ہے۔ ہمارے درمیان ان کے فقط علمی آثار ہیں، وہ خود نہیں۔ پس ضروری ہے کہ علامہ اقبال سے مربوط آثار اور کتابوں کے مطالعے کے ذریعے اسے سمجها جائے۔ اقبال کی شخصیت کو صحیح معنوں میں سمجهنے کے لئے معتبر ذرائع کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، جیسے ایران کے سپریم لیڈر، عادل، فقیہ، نابغہ روزگار، پوری دنیا کے لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنے والی اقبال شناس عظیم شخصیت آیت اللہ خامنہ ای اور اسلام کے عظیم و کم نظیر مفکر ڈاکٹر شهید مطہری (رہ) کے علامہ اقبال سے متعلق بیانات اور افکار کا مطالعہ کیا جائے۔ رہبر معظم نے اقبال کو مشرق کا ستارا، عظیم مصلح، حریت پسند، ہوشیار، نہایت زیرک انسان اور اتحاد مسلمین کا علمبردار کہا ہے تو شهید مطہری نے انہیں مصلح جہاں، بے بدیل شاعر اور مغربی تہذیب پر عظیم نقاد وغیرہ کے القابات سے نوازا گیا ہے۔

آثار شهید مطہری میں جابجا اقبال کے افکار کی تجلیاں دیکهنے کو ملتی ہیں۔ شهید مطہری (رہ) نے علامہ اقبال (رہ) کی عظمت، شخصیت اور ان کے مختلف فنون خاص طور پر ان کی شاعری پر جو کچھ لکها ہے، وہ تحقیق کرنے کے بعد ہی لکها ہے، جس میں مبالغہ گوئی وغیرہ کا عنصر شامل نہیں۔ مختصر یہ ہے کہ معتبر ذرائع سے اقبال شناسی کے بعد ہی اسے طالب علم اپنے لئے آئیڈیل قرار دے تو یقیناً زیادہ مفید ثابت ہوگا۔ توجہ رہے کہ اقبال شناسی کا مطلب فقط ان کے فن شاعری سے واقف ہونا نہیں، کیونکہ شاعری کی مہارت ان کے مختلف فنوں اور ذوابعاد شخصیت کا ایک حصہ ہے، انہیں نمونہ قرار دینے کے لئے ان کے پورے کمالات کی شناسائی ضروری ہے۔ ان کی شخصیت کے مختلف پہلووں سے اجمالی طور پر آگاہ ہونا لازم ہے۔ خاص طور پر ان رازوں کو جاننے اور کشف کرنے کی طالب علم کو کوشش کی جانی چاہیئے، جن کے بل بوتے پر اقبال کی شخصیت خاص و عام کے ہاں مقبول ہوئی۔ ان اسباب کو ڈهونڈنے کی جدوجہد کی جانی چاہیئے، جو اقبال کی شخصیت کو جامعیت اور وسعت بخشنے میں دخیل ہیں۔

اس حوالے سے اگر آج کے مغربی تہذیب و ثقافت سے متاثر ہونے والے نام نہاد اقبال شناس سے پوچها جائے تو بدون تردید ان کی طرف سے یہ سننے کو ملے گا کہ اقبال کی شخصیت کو شہرت ملنے کا راز ان کا بیرون ملک جاکر اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنا ہے۔ جرمنی اور انگلستان میں رہ کر علوم جدید حاصل کرنے کی بدولت علامہ اقبال شاعر مشرق اور عظیم مفکر بنے۔ ان میں تخلیقی صلاحیتیں تب ابهریں اور نکهریں جب انہوں نے فلسفہ غرب میں تخصص کیا و۔۔۔۔ لیکن خود علامہ کے آثار، گفتار، خصوصاً اشعار کا دقیق مطالعہ کیا جائے تو ان کی موفقیت، شہرت، اشعار کو ملنے والی مقبولیت، ان کی ذہانت، عبقریت اور ان کے اشعار میں پڑهنے والوں کے ذہنوں اور دلوں کو تسخیر کرنے کی طاقت و کشش کا راز فقط دیار غیر میں جا کر تعلیم حاصل کرنے میں منحصر نہیں بلکہ غور کرنے سے اس کے بہت سارے راز سمجھ میں آجاتے ہیں، اہم راز ان کا ایمان و یقین ہے۔

محکم ایمان اور یقین کامل کی دولت سے وہ مالا مال تهے۔ انہوں نے مغربی یونیورسٹوں سے کسب فیض ضرور کیا تها، مگر وہ ان کی ثقافت اور تہذیب سے ہرگز مرعوب نہ ہوئے، بلکہ ان کے اشعار میں اس حقیقت کا مکمل اظہار نظر آتا ہے کہ انہوں نے قریب سے مغربی کلچر اور تہذیب کو دیکها، اس کی خامیوں اور نقائص سے آگاہ ہوئے، مغربی معاشرے پر حاکم بے لگام آزادی کے مفہوم کو جانا، ان کی تہذیب کے برے نتائج اور نقصان دہ آثار پر غور کیا، پهر اس نتیجے پر پہنچے کہ مغربی کلچر اور تہذیب انسانیت کے لئے ہرگز مفید نہیں، ان کی تہذیب مسلمانوں کی جڑوں کو اکهاڑنے والی ہے، ان کی آزادی درحقیقت آزادی نہیں بلکہ غلامی کی زنجیر میں جهکڑنے کے مترادف ہے۔

البتہ مخفی نہ رہے کہ مغربی تہذیب کی عمدہ صفات اور خصوصیات کی علامہ اقبال نے تعریف کی ہے اور مسلمانوں کو انہیں اپنانے کی نہ فقط ترغیب دلائی ہے بلکہ شدت سے تلقین و تاکید کی بهی کی گئی ہے۔ آپ کے اس طرح اشعار میں اسی حقیقت کی جهلک نظر آتی ہے:
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

اقبال وہ ہے جس نے قدیم اور جدید علوم کو سمجھ کر پڑها، مشرقی اور مغربی  معاشرے کے مثبت اور منفی پہلووں کو پوری گہرائی سے دیکها، پهر عقل، منطق، برہان و استدلال کی روشنی میں ان کا تقابلی جائزہ لیا۔ ان کے تہذیب و تمدن اور کلچر کے ظاہر و باطن سے آگاہ ہوئے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقبال نے بعض قدامت پسندوں اور فکری جمود کے حامل افراد کی طرح نہ مغرب کو مکمل نفرت کی نگاہ سے دیکها اور نہ ہی بعض روشن خیال طبقے کی طرح اندہی تقلید کا شکار ہوکر مغرب کے فریفتہ ہوئے، بلکہ افراط و تفریط سے یکسر اجتناب کرتے ہوئے آپ نے درمیانی راستہ اختیار کیا، اس کی خوبیوں کو خوب سراہا اور مشرقی اقوام خاص طور پر مسلمانوں کو انہیں اپنانے کی تلقین کی۔ اسی طرح اس کی خامیوں اور نقائص پر پردہ ڈالنے کے بجائے اچهی طرح ان کو مسلمانوں کے سامنے نمایاں کیا۔

ایک جگہ آپ نے کہا:
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

مغربی اقوام کے نصب العین یعنی فقط مادی ترقی کو ان کی تباہی کا باعث بننے کی پیشنگوئی کرتے ہوئے کہا:
خبر ملی ہے خدایانِ بحر و بر سے مجھے
فرنگ رہگذر سیلِ بے پناہ میں ہے
یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات
یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
بے کاری و عریانی و میخواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات


مشرقی اقوام نے جب یورپ کی اندہی اور کور کورانہ تقلید کی تو علامہ اقبال نے اس طرح تنبیہ کی:
یہ حوریانِ فرنگی دل و نظر کا حجاب
بہشت مغربیاں جلوہ ہائے پا بہ رکاب
دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے جا
مہ و ستارہ ہیں بحرِ وجود میں گرداب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 901413
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش