0
Thursday 3 Dec 2020 19:30

قومی مفادات کے تحفظ کیلئے اسٹریٹجک اقدام

قومی مفادات کے تحفظ کیلئے اسٹریٹجک اقدام
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

اسلامی جمہوریہ ایران کے اراکین پارلیمنٹ نے منگل کے روز "پابندیوں کے خاتمے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک اقدام" کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے، جس میں محکمہ ایٹمی توانائی کو یورینیم کی افزودگی کی سطح 20 بیس فیصد تک پہنچانے کا پابند بنایا گیا ہے۔ بل کے تحت ایران کا ایٹمی توانائی کا محکمہ پرامن مقاصد کے لیے ایک سو بیس کلوگرام تک بیس فی صد افزودہ یورینیم اندرون ملک ذخیرہ بھی کرنے کا پابند ہوگا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ارکان پارلیمینٹ نے ملک کے محکمہ ایٹمی توانائی کو اس بات کا بھی پابند بنایا ہے کہ بل کے قانونی شکل اختیار کرتے ہی، ملک کی بنیادی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، یورینیم افزودہ کرنے کی گنجائش، افزودگی کی سطح میں کم سے کم پانچ سو کلو ماہانہ کا اضافہ اور افزودہ یورینیم کی نگہداشت اور گودام تیار کرنے کے لیے لازمی اور مناسب اقدامات عمل میں لائے۔ اس بل کے تحت ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بل کی منظوری کے زیادہ سے زیادہ تین ماہ بعد، کم سے کم ایک ہزار سیکنڈ جنریشن آئی آر دو سینٹری فیوج مشنیوں کی تنصیب اور ضرورت کے مطابق یورینیم کی افزدوگی کے عمل کا باضابطہ آغاز کرے۔

علاوہ ازیں اسی مدت کے دوران کم از کم ایک سو چونسٹھ سکستھ جنریشن آئی آر سکس Ir6 سینیٹری فیوج مشینوں کے ذریعے یورینیم کی افزودگی اور تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات عمل میں لائے اور سال ختم ہونے تک ایسی ایک ہزار سینیٹری فیوج مشینوں کی چین مکمل کرلی جائے۔ اراکین پارلیمنٹ نے محکمہ ایٹمی توانائی کو بل کی منظوری کے پانچ ماہ کے اندر اندر اصفہان کے میٹل یورینیم تیار کرنے والے کارخانے کے افتتاح کا بھی پابند بنایا ہے۔ بل کے ذریعے محکمہ ایٹمی تونائی کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ بل کی منظوری کے ایک ماہ کے اندر اندر، طبی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اسٹیبل آئسوٹوپ کی تیاری کی غرض سے اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کی جدید کاری کے منصوبے اور مطلوبہ شیڈول سے پارلیمنٹ کو آگاہ کرے۔ ایران کے ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کو بھی اس بات کا پابند کر دیا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کے رکن ملکوں کی جانب سے ایران سے متعلق اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہ کرنے، بینکاری لین دین معمول پر نہ آنے، خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور برآمدات میں حائل رکاوٹیں مکمل طور پر ختم نہ ہونے اور برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کی مکمل اور فوری واپسی نہ ہونے کی صورت میں، اس بل کی منظوری کے ایک ماہ کے اندر اندر جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی ای ای کے اضافی پروٹوکول پر عملدرآمد بند کر دے۔

ایران پر پابندیوں کے خاتمے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اسٹریٹیجک اقدام کے بل کو ایران کی اعلیٰ نگراں کونسل نے متعلقہ اصلاحات کا تجزیہ کرنے کے بعد منظوری دے دی ہے۔ بدھ کی شام نگراں کونسل کی نشست میں اس بل میں کی گئی اصلاحات کے پیش نظر، بل کا جائزہ لیا گيا اور اسے مذہبی تعلیمات اور آئين کے خلاف نہیں پایا گیا۔ نگراں کونسل کے ترجمان عباس علی کد خدائی نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ اس بل کی چھٹی شق کے بارے میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والی اصلاح کے بعد کونسل نے اس کی توثیق کر دی ہے اور اب اس کی نظر میں اس بل میں آئین اور مذہب کے لحاظ سے کوئي تضاد نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب پارلیمنٹ اس قانون کو نفاذ کے لیے صدر کے پاس بھیج سکتی ہے۔ نگراں کونسل سے توثیق کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر نے یہ قانون، نفاذ کے لیے صدر مملکت کے پاس بھیج دیا ہے۔ اس سے قبل ایران کے صدر کے دفتر کے سربراہ محمود واعظی نے بدھ کے کابینہ کے اجلاس کے موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ نے ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور قومی مفادات کے تحفظ کے بل کے بارے میں وزارت خارجہ اور حکومت سے کوئی مشورہ نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یہ بل، مالی اور تکنیکی نفاذ کے لحاظ سے مسائل پیدا کرے گا۔

ادھر نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے سی این این کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مقالے میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران ایٹمی معاہدے پر دوبارہ عملدرآمد شروع کر دے تو امریکہ بھی اس معاہدے میں واپس آجائے گا اور تہران کے خلاف عائد پابندیاں ہٹا لی جائیں گی۔ جوبائیڈن اور ان کی نیشنل سکیورٹی ٹیم کا موقف یہ ہے کہ جیسے ہی ایٹمی معاہدے کے دونوں فریقوں یعنی تہران اور واشنگٹن کی جانب سے اس معاہدے پر دوبارہ عملدرآمد شروع ہو، ویسے ہی ایران میں نیوکلیئر فیوژن میں استعمال ہونے والے مواد کی تیاری کی مہلت بڑھانے اور تہران کے علاقائی کردار کے بارے میں فریقین کے درمیان مختصر مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا جانا چاہیئے۔ حقیقت بہ ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی ٹرائیکا نے امریکی ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کے بعد اس معاہدے کے تحت ایران کے اقتصادی مفادات پورے کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا نہیں ہوسکا۔ مذکورہ ممالک نے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کی زبانی اور سیاسی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بیانات ضروری جاری کیے، لیکن اس معاہدے کو باقی رکھنے کے لیے کوئی عملی اقدام انجام نہیں دیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے یورپی ملکوں کی عہد شکنی کے جواب میں ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں بتدریج کمی کا آغاز کیا تھا، جس پر پانچ مرحلوں میں عملدرآمد کیا گیا۔ ایٹمی معاہدے کی شق نمبر چھبیس اور چھتیس کے تحت ایران کو اس بات کا حق حاصل کہ وہ فریق مقابل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی یا عہد شکنی کی صورت میں اس معاہدے پر مکمل یا جزوی طور پر عملدرآمد روک سکتا ہے۔ ایران واضح طور پر اعلان کرچکا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی معاہدے میں مندرج مفادات پورے ہونے کی صورت میں تہران ایٹمی معاہدے پر دوبارہ عملدرآمد شروع کر دے گا۔ پارلیمنٹ کا حالیہ "پابندیوں کے خاتمے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک اقدام" کا بل اسی تناظر میں منظور کیا گیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کچھ عرصہ پہلے پولیس اکیڈمی میں پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے امریکہ کی گستاخی کی جانب اشارہ کیا اور اس بات پر تاکید فرمائی تھی کہ امریکہ جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ہر روز کوئی نہ کوئی شرارت اور شیطنت انجام دے رہا ہے، جس سے امام خمینی (رہ) کے فرمان کی سچائی ثابت ہوتی ہے، جس میں آپ نے امریکہ کو بڑا شیطان قرار دیا تھا اور حقیقت میں حکومت امریکہ، سب سے خبیث ترین شیطان ہے۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا تھا کہ ایٹمی مذاکرات کے دوران تمام تر وعدوں اور مباحثوں کے باوجود، ایٹمی مذاکرات اور اس کے نتائج کے بارے میں امریکہ کا رویہ مکمل ظالمانہ، ہٹ دھرمانہ ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر بھی تاکید فرمائی تھی کہ امریکیوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ ایران کے عوام ٹھوس اور اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اہم ترین قومی مفادات سے پسپائی کا لفظ اسلامی جمہوریہ ایران کی لغت میں موجود نہیں ہے۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے دیگر اقوام کے لیے رول ماڈل بن جانے کو ملت ایران سے دشمنی میں اضافے کی اہم ترین وجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ کے مفسد، دروغ گو اور فریب کار حکمراں بڑی بے شرمی کے ساتھ ایران کے عوام اور اسلامی حکومت پر دروغ گوئی کا الزام عائد کرتے ہیں، حالانکہ ایران کے عوام نے پوری صداقت کے ساتھ آگے قدم بڑھایا ہے اور پوری صداقت کے ساتھ اس راستے پر آخر تک گامزن رہیں گے۔ بہرحال ایران کئی برسوں سے ایٹمی معاہدے کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر اپنے وعدوں پر عمل کر رہا ہے، لیکن مغربی فریق نے اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا ہے۔ ایران اپنے وعدوں کو پورا کرتا رہا لیکن مغرب کا کوئی بھی وعدہ عملی جامہ نہیں پہن سکا۔ اب ایرانی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی نے یکطرفہ راستے پر چلنے کے ہر فیصلے کو ختم کر دیا ہے، البتہ اس نے مغرب کے حکام کو ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ایک موقع بھی فراہم کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 901464
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش