0
Thursday 3 Dec 2020 16:47

جواد ظریف کا انتباہ

جواد ظریف کا انتباہ
اداریہ
ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو کئی نشیب و فراز کا سامنا رہا ہے۔ اس معاہدے کو اس وقت سخت دھچکہ پہنچا، جب امریکی صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کر دیا۔ امریکہ کے نکلنے کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک اس عالمی معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے، لیکن تین جوہری ممالک پر مشتمل ٹرائیکا نے زبانی جمع خرچ کرنے کے علاوہ کچھ نہ کیا۔ امریکہ میں صدارتی تبدیلی کے بعد ایک بار پھر اس بات کا عندیہ دیا جا رہا ہے کہ جوبائیڈن وائٹ ہاوس میں پہنچ کر اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے کی کوشش کریں گے، لیکن ساتھ یہ بھی شوشہ چھوڑا جا رہا ہے کہ جوبائیڈن اور اس کی ٹیم کچھ نئی شرائط اور دوبارہ مذاکرات کا ڈول ڈالنا چاہتے ہیں۔ عالمی ایٹمی معاہدے کے انعقاد سے لیکر اب تک ایران نے اپنے ذمہ تمام امور انجام دیئے ہیں، لیکن معاہدے کے شریک دوسرے ممالک نے شروع سے لیت و لعل سے کام لیا ہے۔

اب ایک بار پھر اس معاہدے کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات کو ایران ہرگز تسلیم نہیں کرے گا۔ اسی تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے واضح کیا ہے کہ اگر ایٹمی معاہدے کے دیگر فریقوں نے مختلف حیلے بہانوں سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہ کیا تو پابندیوں کے خاتمے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اسٹریٹیجک ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اس ایکشن پلان پر عمل درآمد کی صورت ایران ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے اضافی پروٹوکول پر عمل درآمد روک دے گا۔ اس رضاکارانہ پیشکش کی واپسی کے بعد آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی ایٹمی تنصیبات تک رسائی مشکل بلکہ ناممکن ہو جائیگی، اسی طرح یورینیم کی افزدگی اور سینیٹری فیوجز کی تعداد میں اضافے پر بھی کوئی روک ٹوک نہیں کرے گا۔
خبر کا کوڈ : 901478
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش