0
Saturday 9 Jan 2021 17:41

کوثر اور تکاثر (3)

ایام فاطمیہ سلام اللہ علیہا 2020ء، علی پور
کوثر اور تکاثر (3)
ترتیب و تنظیم: سعید علی پٹھان
علامہ زکی باقری صاحب قبلہ تیسری مجلس سے اقتباس

ابتداء ہی میں دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک میرا کوئی دشمن نہیں ہے، میرا دشمن میرا نفس ہے اور میں کسی سے ناراض نہیں ہوتا، اگر ہوتا بھی ہوں تو اپنے گناہوں سے ہوتا ہوں۔ میں نے گزشتہ مجالس میں بتایا تھا کہ تکاثر لوٹ مار، بے انصافی، اور دولت کی جمع آوری کو کہتے ہیں جبکہ کوثر بٹنے والے مال اور عدالت کا مظہر ہے۔ آج کی دنیا کا مسئلہ مال کا ایک جگہ جمع ہونا اور چند افراد کے ہاتھوں جمع ہو جانا ہے۔ اس دولت کی تقسیم سوشل ازم یا کمیونزم نہیں کرسکتا مگر اسلام کرسکتا ہے۔ عقل کی دو اقسام ہیں ایک عقل نظری (Speculative intellect) اور دوسرے عقل عملی (Practical intellect)۔ قرآن کا سمجھنا عقل نظری ہے اور اہلبیت کی سیرت عقل عملی ہے۔ انسان جب تک عملی میدان میں نہیں آئیگا آگے نہیں بڑھے گا۔ یعنی عقل نظری کے ساتھ عقل عملی کا ہونا ضروری ہے۔

میں المھدی سینٹر ٹورنٹو میں قرآنی مومن کے عنوان سے مجالس پڑھ رہا ہوں۔ ان مجالس میں کووڈ نمبر 19 میں اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ آج سب سے پاورفل کون ہے؟ آج ملک کس کا ہے؟ لمن الملک الیوم۔ امریکہ جو اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھ رہا ہے سب سے زیادہ مسائل وہیں پر ہیں۔ ہوا میں 10000 فلائٹس ہوتی تھیں، پندرہ لاکھ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے تھے۔ اب جھازوں کو قبروں کی طرح کھڑا کیا گیا ہے۔ اب آواز آ رہی ہے کہ ملک کس کا ہے؟ کارساز اللہ پاک ہے جب تک اس کا ارادہ نہیں ہوگا کوئی کامیاب نہیں ہوگا۔ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ زندگی دینے والا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام ٹوٹ رہا ہے۔ قرآن نے قارون کی مثال دی ہے۔ جو اپنے خزانوں سمیت دھنس گیا اور آج کے قارون بھی دھنسنے والے ہیں۔ وہی لفظ آج بھی استعمال کئے جا رہے ہیں کہ معیشت ڈوب رہی ہے۔ ہاں! مکمل ظلم سے نجات ظہور امام کے ذریعہ سے ہوگی۔

دنیا کے ہر یزید اسی غم میں مرگئے
سر مل گیا حسین کا بیعت نہیں ملی

تقسیم مال کے سلسلہ میں ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ہر سکول، مدرسہ، مسجد، امام بارگاہ میں قرض الحسنہ کی اسکیم چلائیں۔ ورنہ ہم تکاثر کی طرف چلے جائیں گے۔ اور جو حال چرچوں اور مندروں کا ہوا ہے وہی حال ہمارا بھی ہوگا۔ حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں تین مندروں کے پاس اتنا سونا ہے جتنا امریکی حکومت کے پاس بھی نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں عقل عملی کیا کہتی ہے؟ حضرت ابراہیم نے تبلیغ کی ابتداء ہی میں بتوں کو توڑ دیا لیکن سرکار نے 40 برس تک بتوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ فتح مکہ کے بعد بت توڑے گئے۔ حالات مختلف ہوتے ہیں۔ آج ہمارا کام بھی بتوں کا توڑنا نہیں ہے بلکہ نفس کے بتوں کو توڑنا ہے۔ دین کے نام پر سونا اور چاندی جمع کرتے اور اپنی دنیا آباد کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ ذرا مشھد میں آستان قدس رضوی کے کاموں کا بغور جائزہ لیں۔ مشہد میں امام رضا (ع) کے نام پر جو کچھ جمع ہوتا ہے اس سے یونیورسٹی، اسکول اور کھانے چلتے ہیں اور وہاں پر دین کے نام پر دولت کو تقسیم کیا جاتا ہے۔ جتنا مال آتا ہے تقسیم ہوتا ہے۔

یہ محبت امام علی کا ایک اثر ہے۔ اگر محبت علی ہماری زندگی میں پریکٹکل نہ ہو تو یہ لفاظی ہے۔ ہم کسی کے خلاف نہیں بول رہے ہیں بلکہ انسانی افکار کو بلند کرنا اور ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہماری ذمہ داری ہے۔  مولا امیرالمومنین کی خلافت اور دوسری خلافتوں میں کیا فرق ہے؟ ایک خلافت کوثری ہے تو دوسری خلافتیں تکاثری۔ اس کی طرف مولانا مودوی نے خلافت و ملوکیت کتاب کے اختتام پر لکھا ہے کہ تیسری خلافت ملوکیت میں بدل چکی تھی لیکن میں ان کی روح سے کہنا چاہتا ہوں کہ جناب جس دن مولا علی کا حق نہیں دیا گیا اسی دن سے خلافت ملوکیت میں بدل چکی تھی۔ یعنی خلافت کوثری نہیں رہی بلکہ تکاثری بن چکی تھی۔ آج بھی ہم اگر غدیر کا راستہ اور علماء حق کی پیروی چھوڑ دیں تو کوثر سے منحرف ہو جائیں اور یہ انحراف ظلم کی طرف لے جائے گا کہ جس کے نتیجہ میں رسول کی بیٹی مرثیہ پڑھنے لگتی ہے۔

آپ کے گریہ اور اٹھارہ سالہ حیات کو سمجھنے کے لئے صدیاں بھی کم ہیں۔ سیدہ نے اپنی حیات کو دین کی خدمت میں گذارا اور دین کو حسن و حسین کی صورت میں محافظ دین دیئے۔ اور وصیت میں فرمایا اے ابو الحسن تین راتوں تک میری قبر پر قرآن پڑھنے کے لئے آنا۔
امام علی دنیا کے وہ پہلے شوہر ہیں جنہوں نے اپنی بیوی کی قبر کھودی ہے۔ اور قبر میں لٹا کر مرثیہ پڑھا ہے کہ یا رسول اللہ آپ کی بیٹی آپ کے پاس آئی ہے اس سے پوچھ لیں کہ کیا ہوا ہے۔ اور امت نے کیا کیا ہے؟؟؟ پوری امت نے مل کر سیدہ پر ظلم ڈھایا ہے۔ یا رسول اللہ جب فاطمہ میرے گھر آئیں تھیں تو اس کی پسلیاں صحیح اور سالم تھیں۔ اور آج جو آپ کے حوالے کر رہا ہوں پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 908184
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش