0
Friday 8 Jan 2021 10:30

عوام سے زیادہ بے بس وزیراعظم

عوام سے زیادہ بے بس وزیراعظم
تحریر: ابو آیت

بلوچستان سونے کی چڑیا ہے۔ یہ ذخائر اور رقبے کے لحاظ سے پہلا بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کوئلہ، تانبا، سونا، خام لوہا اور ماربل (اونیکس) ماربل (آرڈینری) کرومائیٹ، بیرائیٹ، لائم اسٹون، گرینائیٹ سمیت 20 دیگر قیمتی معدنیات کے علاوہ تیل اور گیس کے بھی وسیع ذخائر موجود ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ دنیا میں سونے اور چاندی کا دوسرا بڑا ذخیرہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک میں موجود ہے۔ چاغی کے بہ ظاہر خشک اور سنگلاخ پہاڑ نظر آتے ہیں۔ ان میں ایک کروڑ 23 لاکھ ٹن تانبے اور دو کروڑ 9 لاکھ اونس سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ریکوڈک میں 58 فی صد تانبے اور 28 فی صد سونے کے ذخائر کی کل مالیت کا اندازہ قریباً 65 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ دنیا میں عقلمندوں کا اصول ہے کہ سونے کی چڑیا کی قدر کی جائے۔ اس کی حفاظت پر خرچ کیا جائے۔ بلوچستان سونے سمیت اس سے کئی گنا مہنگی  معدنیات سے مالا مال ہے۔ مگر بلوچستان کے معدنی وسائل کے ثمرات سے اہلیانِ بلوچستان محروم ہیں۔

یہاں آئے روز مصیبتوں کے پہاڑ عوام پر گرائے جاتے ہیں۔ عوام کا استحصال کیا جاتا ہے۔ بے خبری اور حقیقت سے لاعلمی یا کم علمی کی بنا پر مصیبت زدہ عوام کی مشکلات حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سیاسی طاقتیں برائے نام ہیں۔ دھونس، اسٹیبلشمنٹ، اشرافیہ اور وفاق کی جاگیرداری ہے۔ حکومتیں برائے نام اقتدار کی مالک ہوتی ہیں۔ قوم بھی ان کے ہتھے چڑھ جاتی ہے۔ عوام بیچارے نعرے لگاتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب!!  ہماری مشکلات حل کی جائیں۔ اب ان عوام کو کون سمجھائے کہ وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ یہ تو عوام سے بھی زیادہ بے چارے ہیں۔ سیاسی حکومت 5 سال کی ہوتی ہے۔ اس کے پانچ سال اپنی مشکلات ختم کرنے میں ہی لگ جاتے ہیں۔ سیاسی افراد یہی کہتے رہتے ہیں کہ ہم  نے بہت حد تک کنٹرول کیا ہوا ہے۔ آئندہ بھی کنٹرول کریں گے۔ اس طرح ہر حکومت ڈنگ ٹپاو پالیسی پر عمل پیرا رہتی ہے۔ جب بھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو حکومت قربانی کا بکرا بنتی ہے۔ جو امن و امان قائم کرنے کے ذمہ دار ہیں، وہ عوامی مطالبات پر ہنستے ہیں۔

بلوچستان میں مچھ کا حالیہ ہولناک واقعے کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟ آراء مختلف ہیں۔  تاحال دھرنے جاری ہیں۔ ملک بھر میں سڑکوں پر عوام کو لایا جا رہا ہے۔ عوام یا تو ماتم کر رہی ہے یا پھر نوحے پڑھ رہی ہے۔ وزیر داخلہ ناکام لوٹا دیئے گئے۔ وزیراعظم ممکن ہے ایک ہفتہ مزید کوئٹہ کا دورہ نہ کریں، وہ اس کے پیچھے بھی ضرور کوئی ملکی مصلحت دیکھ رہے ہیں۔ دھرنے کے شرکاء پرامن ہیں۔ اصلی قاتلوں کو یہ امن ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ عمران خان سے مزید مایوس ہوں۔ اس مایوسی کے بھی بڑے فائدے ہیں۔ وزیراعظم سے مایوسی یعنی اپنا انتقام خود لینے کی سوچ کی تقویت۔ انتقامی سوچ سے پھر اگر قتل و غارت ہو تو مزید کچھ لوگوں کی اجارہ داری مضبوط ہو جائے گی۔

یہ خبر خوش آئند ہے کہ بلوچوں کی بیٹی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے دھرنے میں آکر اپنے جیسی ہزارہ یتیم و بے سہارا بیٹیوں کو سینے سے لگایا ہے۔ مکار قاتلوں کی چال میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ بلوچ اور پشتون عمائدین اور انکے نمائندے دھرنے میں آرہے ہیں۔ بلوچوں اور پشتون بھائیوں کی طرف سے ہمدردی کی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ دینی قیادت بھی پہلے دن سے میدان میں ہے۔ یہ سب عناصر اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔ بلوچستان میں اس مسلسل قتل و غارت کے پیچھے داخلی ہاتھ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری ملکی ایجنسیاں دنیا کی نمبر ایک پروفیشنل ایجنسیز ہیں۔ انہوں نے بھارت جیسے اپنے سے 4، 5 گنا بڑے دشمن کی ناک میں نکیل ڈال رکھی ہے۔ ہم واقعی ان پر افتخار کرتے ہیں۔ سرحدوں پر موجود ہمارے جوانوں نے خون کی دیوار سے دشمن کے ہر وار کو روکا ہے۔ خود متاثرین کی تعداد نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں۔ ان پر لکھا ہوا ہے کہ دنیا کی نمبر ایک ایجنسی کے ہوتے ہوئے، 22 سال سے  بے گناہ شہریوں کے قاتل دندناتے پھر رہے ہیں۔ آخر کیوں۔؟
خبر کا کوڈ : 908816
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش