?>?> ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان - اسلام ٹائمز
0
Sunday 10 Jan 2021 15:34

ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان

ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان
تحریر: سید شکیل بخاری ایڈووکیٹ

پاکستان تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے پہلے جو نعرہ لگایا وہ تھا تبدیلی، ریاست مدینہ اور ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان یعنی استقامت اور جی ہاں واقعاً عمران خان نے ثابت کر دیا ہے ڈٹ کر کھڑا ہے اور وہ کسی کی ایک بات تک نہیں مانتا ہے۔ عمران خان نے کہا تھا nonelected نہیں لونگا لیکن آپ نے دیکھا سارے بھرتی کر لئے، خان صاحب نے کہا تھا کہ قرضہ نہیں لونگا اور آتے ہی مانگنا شروع کر دیا۔ خان صاحب نے کہا تھا لوڈ شیڈنگ ختم کر دونگا اور بڑھا دی، خان صاحب نے الیکٹ ہونے سے پہلے کہا تھا 90 دن کے اندر اندر ملک کے حالات بہتر کر دونگا جبکہ دو دن پہلے فرما رہے تھے کہ تین ماہ تو صرف ہمیں معاملات سمجھنے پر لگ گئے۔ حکومت میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ ہماری مکمل تیاری ہے جبکہ اب کہہ رہے ہیں کہ کسی بھی حکومت کو بغیر تیاری کے چارج نہیں سنبھالنا چاہیئے اور اب بھی میرا خان ڈٹ کے کھڑا ہے اور کسی سے کوئی پریشر نہیں لے رہا۔

سانحہ مچھ کے لواحقین نے مطالبہ رکھا کہ وزیراعظم آئیں تو دفن کرینگے اور جمہوری ملک کے وزیراعظم نے کہا کہ جب تک تدفین نہیں کرو گے میں نہیں آؤنگا اور خان ان بے بس و لاچار لواحقین کے سامنے ڈٹا رہا اور نہیں گیا، جب تک تدفین مکمل نہیں ہوئی،
جی ہاں، خان اپنی بات کا پکا ہے اور ڈٹ جاتا ہے، جبکہ ہماری قوم کو ایسا ہی پکا حکمران چاہیئے، جو اپنی بات پر ڈٹا رہے، وہ کسی مظلوم کی، کسی لاچار کی اور کسی اجڑے ہوئے خاندان کی بات تک نہیں سنتا، ان کے غم میں ان کا پرسان حال نہیں بنتا۔ یہ وہی عمران خان ہے، جو ریاست مدینہ میں کسی کتے کے مرنے پر حکمران کو ذمہ دار ٹھہرانے والا، آج گیارہ جنازوں سے بلیک میل ہو رہا ہے۔

جی یہ وہی عمران خان ہے، جو ملک سے دہشت گردی کے خاتمے 90 دن میں وعدہ کر رہا تھا اور آج اس سے ناصرف یہ کام ہوسکا بلکہ وہ اس دہشت گردی سے شکار شہداء کے جنازے میں شمولیت کو بھی اپنی انا کا مسئلہ بنا کے بیٹھا ہے۔ خان صاحب کہیں پانچ سال بعد یہ نہ کہہ دیں کہ یہ گذشتہ سال تیاری کے تھے، اب دوبارہ منتخب کرو، تاکہ حالات بہتر کر دوں تو ہم کہیں گے کہ خان صاحب اب یہ بوجھ ہم سے اٹھایا نہ جائے گا۔ پوری قوم جان لے کہ اب خان کسی سے بلیک میل نہ ہوگا، نہ وہ کارکردگی کے طعنے سے ہوگا اور نہ کسی احتجاج سے ہوگا اور نہ کسی مظلوم کی میت سے لپٹی بہن، ماں اور بیٹی سے ہوگا کیونکہ *ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان۔۔*
خبر کا کوڈ : 909318
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش