0
Thursday 14 Jan 2021 15:40

کیا وفاق المدارس العربیہ کے آئندہ صدر مولانا فضل الرحمن ہوں گے؟

کیا وفاق المدارس العربیہ کے آئندہ صدر مولانا فضل الرحمن ہوں گے؟
تحریر: ثاقب اکبر

گذشتہ روز (13جنوری2021ء) جناب مولانا اسرار مدنی کی ایک تحریر نظر سے گزری، جس میں انھوں نے وفاق المدارس العربیہ کے آئندہ صدر کے حوالے سے بات کی ہے۔ مولانا خود دارالعلوم حقانیہ کے افاضل میں سے ہیں۔ معاشرتی اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے ایک عرصے سے سرگرم ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر جہاں اپنی معلومات کے مطابق بات کی ہے اور کہا ہے کہ وفاق کے آئندہ متوقع صدر مولانا فضل الرحمن ہوں گے، وہاں انھوں نے اس امر کا بھی جائزہ لیا ہے کہ اس صورت میں ممکنہ طور پر کیا منفی اور مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ہم ذیل میں پہلے برادر محترم مولانا اسرار مدنی کا نقطہ نظر پیش کریں گے اور پھر اس موضوع پر اپنا تجزیہ بھی قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے۔ مولانا لکھتے ہیں: ’’میری معلومات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان صاحب اس بار وفاق المدارس کی صدارت کیلئے امیدوار ہیں۔ ان کی تنظیم نے اس حوالے سے بھرپور تیاری کی ہے اور عین ممکن ہے کہ مولانا صاحب کا انتخاب ہو جائے، کیونکہ ووٹ کے حساب ان کا ووٹ بنک کافی بھاری ہے، مولانا صاحب کے انتخاب پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مجھ سے بھی مسلسل پوچھا گیا، مختلف دوستوں کے ساتھ ڈسکشن میں متفرق آراء کو پیش کیا جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے: میرے خیال میں مفتی محمود مرحوم کے بعد کسی سیاسی شخصیت نے وفاق المدارس العربیہ کی سربراہی نہیں کی، عموماً دیوبندی مکتب فکر کے شیوخ الحدیث اور مسلک میں گہری شناخت رکھنے والے صدارت کرتے رہے۔ حالیہ مثالوں میں مولانا سلیم اللہ خان مرحوم اور مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب اس کی مثالیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان صاحب کے انتخاب سے اثرات:
یہ سوال بہت زیادہ دہرایا گیا ہے، میرے خیال سے اس کے مثبت اثرات بھی ہیں اور منفی اثرات بھی۔
مثبت اثرات حسب ذیل ہیں:
1: وفاق کی صدارت ایک تجربہ کار شخص کے پاس آئے گی، جو کہ زندگی بھر سیاسی میدان کے کھلاڑی رہے ہیں۔
2: ماضی کے بزرگ حکومت سے معاملات کو ڈیل کرنے میں تردد کا شکار تھے اور اپنی سیاسی جماعتوں کے پریشر کی وجہ سے بروقت فیصلے نہیں کروائے۔
3: مولانا فضل الرحمٰن میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ انٹرنیشنل کمیونٹی سے ملاقاتوں میں حرج محسوس نہیں کرتے اور مدرسے کے موقف کو بیان کرسکتے ہیں جبکہ ماضی کے بزرگ چھپ کر یا ڈر ڈر کر ملتے تھے۔
4: ماضی کے بزرگوں کے مقابلے میں مولانا صاحب زیادہ طاقتور معلوم ہوتے ہیں اور جو بھی فیصلے کریں گے تو اس کا نفاذ بھی کرسکتے ہیں۔

منفی اثرات:
جن منفی اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے، ان میں چند نکات حسب ذیل ہیں:
1: اس فیصلے سے پاکستان کی ستر فیصد مدارس کی نمائندہ تنظیم سیاسی بن جائے گی۔
2: دیوبندی مسلک کے دیگر دھڑوں، اہل سنت والجماعت، سپاہ صحابہ، جمعیت علمائے اسلام (س) و نظریاتی گروپ، اشاعت التوحید والسنہ، تھانوی گروپ سمیت، کی وفاق سے وابستگی خطرے میں پڑ سکتی ہے یا کمزور ہوسکتی ہے۔
3: اس انتخاب کے فیصلے پر مذکورہ تنظیمیں خدشات کا اظہار کر رہی ہیں، جن میں دارالعلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ حقانیہ (فی الحال مبہم ہے)، جامعہ امدادیہ، پنجپیر، جامعہ الرشید، جامعہ فاروقیہ کراچی بڑے مدارس شامل ہیں۔
4: مذہبی سیاست اور وفاق میں عہدوں کی تقسیم کا ماڈل give and take کی بنیاد پر ہے، ادھر تم ادھر ہم۔ تھانوی بزرگوں نے جمعیت علمائے اسلام کا احیاء کیا لیکن مدنی گروہ نے اس کو بعد میں چلایا۔ وفاق مدنی گروہ نے بنایا دیگر کے ساتھ مل کر، مگر تھانوی گروہ کو نمائندگی دی گئی [شاید ’’نہیں‘‘ کہنا چاہتے ہیں](اس میں ایک خوش آئند اقدام یہ بھی ہے کہ قاری حنیف جالندھری کو ناظم اعلیٰ کے طور پر باقی رکھا جا رہا ہے، جس سے اس خلیج کو کم کیا جاسکتا ہے)۔

 5: حکومت کے ساتھ مذاکرات کافی حد تک کامیاب ہوچکے تھے، معاہدے پر مفتی تقی عثمانی صاحب سمیت سب کے دستخط تھے، سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بھی آن بورڈ تھی، مگر اس انتخاب سے یہ معاملات مزید پس منظر میں چلے جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مدارس پی ڈی ایم کی سیاست کا مرکز بن جائیں۔
6: مولانا صاحب اور تحریک انصاف کے درمیان فاصلوں سے یہی لگ رہا ہے اس حکومت میں کم از کم مدارس کے حوالے سے، ان کی رجسٹریشن اور بنک اکاونٹس سمیت کئی امور میں پیش رفت ممکن نہیں۔ مزید تفصیلات بھی ہیں، مگر مصروفیت کی وجہ سے اتنا لکھ سکا۔ کمی بیشی کیلئے معذرت! احباب رہنمائی فرما سکتے ہیں۔ از اسرار مدنی۔‘‘

اس موضوع پر ہماری معروضات مندرجہ ذیل ہیں:
مولانا فضل الرحمن چونکہ ایک سیاسی شخصیت ہیں، اس لیے ان کا ہر دور کا سیاسی موقف لامحالہ مدارس پر اثرانداز ہوگا، کبھی حکومت کی حمایت و دفاع اور کبھی اس سے محاذ آرائی۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ سے کبھی ہم آہنگی اور کبھی معرکہ آرائی۔ اس صورت حال میں ضعف و شدت کی کیفیت بھی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ وفاق المدارس العربیہ کی قیادت کا ہر دور میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ رہا ہے۔ کبھی کسی مسئلے میں اتفاق ہو جاتا ہے اور کبھی نہیں بھی ہوتا، لیکن محاذ آرائی کی کیفیت کم ہی پیدا ہوتی ہے، معاملات چلتے رہتے ہیں۔ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی دیگر تنظیموں کی بھی یہی حالت ہے۔ مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی شخصیت اور مدارس دینیہ کی حکمت عملی کو جدا جدا نہیں کر پائیں گے۔ ان کا سیاسی پہلو ویسے بھی غالب رہتا ہے۔ موجودہ دور میں وہ حکومت اور ریاستی اداروں کے بالمقابل کھڑے ہیں۔

ہم ان کے موقف پر بات نہیں کر رہے، صرف اس طرف اشارہ کرنا چاہ رہے ہیں کہ اگر وہ وفاق المدارس کے صدر منتخب ہوگئے تو ’’وفاق‘‘ اور اس سے منسلک مدارس کا طرز عمل کیا ہوگا۔ بھارت میں دارالعلوم دیوبند کا طرز عمل ریاست سے ہم آہنگی پر استوار رہا ہے، یہاں تک کہ کشمیر کے بارے میں اس کا موقف کشمیری عوام اور پاکستان کے موقف کے برخلاف ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ اپنا ’’مذہبی کردار‘‘ نسبتاً آزادی سے باقی رکھے ہوئے ہے۔ کیا پاکستان میں مذہبی مدارس کے لیے مناسب ہے کہ وہ کسی وقت ریاستی طاقت سے پنجہ آزمائی کے راستے پر چل پڑیں۔؟ عالمی مسائل میں بھی مذہبی مدارس کا بالعموم اپنا طرز عمل رہا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف ’’جہاد‘‘ کے زمانے میں اور افعانستان میں طالبان حکومت کے دور میں دیوبندی مدارس کا ایک خاص موقف اور کردار رہا ہے۔ اب صور ت حال تبدیل ہو رہی ہے۔ سعودی ولی عہد نے تو واضح طور پر مذہب کے بارے میں مختلف طرز عمل اختیار کرلیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے اپنے آپ کو ان ادوار میں زیادہ تر پاکستان کی پاور پالیٹکس تک محدود رکھا۔ اہم مدارس کی قیادت کے مختلف عناصر کے عالمی سطح پر مختلف ریاستوں سے خصوصی تعلقات قائم ہیں۔ مذہبی مدارس کی قیادت امریکہ سمیت مختلف ممالک کے دورے کرتی رہی ہے۔ وفاق المدارس کی قیادت نے ماضی میں سعودی عرب، ایران اور ترکی کے سرکاری و غیر سرکاری دورے کیے ہیں۔ کیا مولانا فضل الرحمن اس پالیسی کو جاری رکھیں گے؟ وہ یقیناً یہ سوچ کر فیصلہ کریں گے کہ ایسے کسی دورے سے ان کی ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ دیوبندیوں کی بعض سیاسی و غیر سیاسی، کالعدم و غیر کالعدم جماعتوں سے مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے اختلافات رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ ان سب جماعتوں سے وابستہ مذہبی مدارس وفاق المدارس العربیہ کا حصہ ہیں۔ ایسے میں اختلافات سے دامن بچا کر وفاق کے نظام کو چلانا ایک بڑے امتحان سے کم نہ ہوگا۔

ایک اور اہم پہلو دینی مدارس کی دیگر تنظیموں کے ساتھ ہم آہنگی ہے۔ ماضی میں قاضی حسین احمد مرحوم نے تنظیم المدارس اہل سنت کے سربراہ کی حیثیت سے مولانا مفتی منیب الرحمن سے ملی یکجہتی کونسل میں شامل ہونے کے لیے کہا تو انھوں نے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ تنظیم المدارس غیر سیاسی تنظیم ہے، اگرچہ ملی یکجہتی کونسل عام انتخابات میں حصہ نہیں لیتی۔ اسی طرح دینی مدارس کی بعض دیگر تنظیمیں واضح طور پر مولانا کے سیاسی موقف سے اختلاف رکھتی ہیں۔ رابطۃ المدارس العربیہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہے، جس کا موجودہ سیاسی موقف مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام سے مختلف ہے۔ یہی حال وفاق المدارس الشیعہ کا بھی ہے۔ وفاق المدارس السلفیہ مرکزی جمعیت اہل حدیث سے وابستہ ہے، جس کا سیاسی موقف مختلف ادوار میں مولانا سے مختلف رہا ہے۔ ان حالات میں اتحاد تنظیمات مدارس کا مستقبل کیا ہوگا۔؟

اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی قیادت نے موجودہ حکومت کے ساتھ مل کر ملک میں ایک تعلیمی نظام کے قیام کے حوالے سے خاصی پیش رفت کی ہے، جس کی طرف برادر مولانا اسرار مدنی نے بھی اشارہ کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا کیا بنے گا؟ مولانا کی سیاسی حیثیت کی وجہ سے حکومتوں سے دوستی اور مخالفت کے سلسلے جاری رہتے ہیں، جب کہ مدارس کا اپنا پروگرام چلتا رہتا ہے۔ ہماری دانست میں اس معاملے پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ان تمام پہلوئوں کا جائزہ لے لینا چاہیے۔ اس فیصلے کے دوررس اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا اثر پاکستان کے تمام مسالک کے دینی مدارس کے مسقبل پر ضرور پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 910125
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش