0
Monday 18 Jan 2021 23:59

سعودی سیاست کا یوٹرن اور ایران سعودی تعلقات

سعودی سیاست کا یوٹرن اور ایران سعودی تعلقات
اداریہ
سلمان بن عبدالعزیز کے برسراقتدار آنے اور تمام تر اختیارات بن سلمان کے پاس آنے سے خطے میں کشیدگی عروج پر پہنج گئی۔ بن سلمان کی ناتجربہ کاری اور ڈونالڈ ٹرامپ کے داماد کوشنر کی دوستی نے آل سعود حکومت کو بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف و مشغول کر دیا۔ اگرچہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت کا آغاز باراک اوبامہ کے دور میں ہوا، لیکن ڈونالڈ ٹرامپ اور اس کی ٹیم نے جس کھلے دل کے ساتھ سعودی عرب کا ساتھ دیا، اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ آل سعود نے اپنے بیسیوں اتحادیوں کے ساتھ ملکر عرب دنیا کے سب سے غریب ملک یمن کو ننگی جارحیت کا نشانہ بنایا۔

یمن کے علاوہ بن سلمان نے قطر کے خلاف محاذ کھولنے میں بھی دیر نہ لگائی۔ صورت حال اتنی گھمبیر ہوگئی کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات قطر میں حکومت کا تختہ الٹنے جیسی کارروائیوں کیلئے تیار ہوگئے۔ حکومت قطر کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ اخوان المسلمین کی حامی تھی۔ قطر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے جمال خاشقجی قتل کی وجہ سے ترکی سے بھی اپنے تعلقات بگاڑ لیے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حضرت آیت اللہ باقر النمر کی شہادت کے بعد رقابت سے کشیدگی میں تبدیل ہوگئے۔

ٹرامپ کی شکست کے بعد بن سلمان نے بہت مختصر وقت میں نہ صرف قطر سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ ترکی سے بھی جلد مذاکرات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے روس کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب روس کی ثالثی سے ایران سے تعلقات بحال کرنے کا خواہشمند ہے اور یہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کیا سعودی عرب قطر اور ترکی کے بعد ایران کے قریب آنا چاہتا ہے، یہ وہ موضوع ہے جس پر مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کاروں کی نظر ہے۔
خبر کا کوڈ : 910975
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش