0
Wednesday 20 Jan 2021 23:07

سنگینوں کے سائے میں امریکی جمہوریت کا سفر

سنگینوں کے سائے میں امریکی جمہوریت کا سفر
تحریر: سید اسد عباس

کچھ ہی لمحے قبل امریکہ کے نومنتخب صدر جوزف آر بائیڈن جونیئر نے امریکا کے 46 ویں صدر کا حلف اٹھا لیا۔ ان کے ہمراہ 55 برس کی کمیلا ہیرس نے بھی پہلی امریکی خاتون نائب صدر کا حلف اٹھایا جو کہ افریقن ایشین پس منظر کی حامل امریکی شہری ہیں۔ کمیلا ہیرس کی والدہ کا تعلق ہندوستان سے ہے، جسے ہندوستانی سماح میں امید کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس تقریب میں امریکا کے سابق صدور باراک اوباما اور بل کلنٹن کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا، تاہم سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ  اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے اب بھی اس انتخاب کو قبول نہیں کیا ہے اور اپنے عدم اطمینان کا اظہار انھوں نے اس اہم تقریب میں شرکت نہ کرکے کیا۔ امریکی تاریخ میں ایسا واقعہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے قبل 1801ء میں جان ایڈمز نے صدر تھامس جیفرسن کی تقریب حلف برداری میں جانے سے انکار کیا تھا اور چپ چاپ بالٹی مور چلے گئے تھے۔ ان کے بیٹے جان کوینسی ایڈمز نے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے 1829ء میں صدر اینڈریو جیکسن کی تقریب میں شرکت نہ کی۔ 1869ء میں ڈیموکریٹ صدر اینڈریو جانسن جن کا مواخذہ کیا گیا تھا، انہوں نے نومنتخب صدر یولیسس ایس گرانٹ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جوزف بائیڈن کی تقریب حلف برداری ویسی عوامی نہیں تھی، جیسی اس سے قبل ہوا کرتی تھی۔ جس کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں۔ ایک کرونا وباء کا خطرہ اور دوسرا واشنگٹن میں 6 جنوری 2021ء کو کانگریس پر ہونے والا عوامی حملہ۔ واشنگٹن میں موجود صحافیوں کے مطابق اس وقت امریکا کا دارالحکومت میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ تقریباً پچیس ہزار نیشنل گارڈز واشنگٹن کی سڑکوں پر موجود ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ تعداد افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ صحافیوں کے مطابق سکیورٹی کے یہ انتظامات فقط واشنگٹن میں ہی نہیں بلکہ امریکہ کی لگ بھگ تمام ریاستوں میں ہیں۔ کیپیٹل ہل جانے والے راستوں پر آہنی باڑیں لگائی گئی ہیں اور ہزاروں سکیورٹی اہلکار گلیوں میں گشت کر رہے ہیں۔ شہر کے مرکز میں روڈ بلاکس لگا دیئے گئے ہیں۔ چہرے ڈھانپے مسلح اہلکاروں کو گلیوں میں تعینات کر دیا گیا ہے، جو گاڑیوں کی چیک کر رہے ہیں اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد ہنگامہ آرائی کا یہ پہلا اور امکانی طور پر آخری واقعہ نہیں ہے، جس نے امریکی معاشرے کی تقسیم کو مزید واضح کیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ میں دو مرتبہ ایسا ہوا ہے، جب ایک فریق نے انتخاب کے نتائج ماننے سے انکار کر دیا اور ملک میں بغاوت جیسی صورتِحال پیدا ہوگئی۔ یہ واقعات 1860ء اور 1861ء کے دوران ابراہم لنکن کی صدارتی تقریب سے پہلے اور 1876ء اور 1877ء میں ردرفورڈ بی ہیز کی صدارتی تقریب تک ہوئے۔ جس کے سبب امریکہ میں بے یقینی کی صورتحال رہی۔ اس وقت بھی حالات کو فوج کے ذریعے ہی قابو میں لایا گیا۔ بہرحال 1860ء اور 2021ء کا امریکا ایک جیسا نہیں ہے۔ انیسویں صدی میں امریکا ابھی سپر طاقت نہیں بنا تھا، تاہم 2021ء میں امریکا سپر پاور ہونے کے باوجود اگر انیسویں صدی جیسے حالات سے دوچار ہوا ہے تو یہ امر اس بات کی نشاندہی کے لیے کافی ہے کہ امریکی معاشرے میں تنزل اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے اور معاشرتی بے چینی کھل کر ظاہر ہو رہی ہے۔

جوبائیڈن نے اپنے پہلے صدارتی خطاب میں بھی انہی مسائل کی جانب نشاندہی کی ہے، ان کے مطابق نااتفاقی سیاسی مفادات اور مقاصد کے لیے جھوٹ، نسلی تعصب، کرونا امریکا کو درپیش مسائل میں سے اہم ترین ہیں۔ بائیڈن اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی صدارت پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کو ایک منظم گروہ کا سامنا ہے، جس کو ایک قیادت بھی میسر آچکی ہے۔ ٹرمپ امریکا میں موجود سفید فام بالادستوں کے لیے امید کا نشان ہیں، وہ ان کی آواز ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے ملک میں مقامی دہشتگردی جیسی اصطلاحات سامنے آ رہی ہیں۔ بائیڈن نے بھی اس جانب اشارہ کیا کہ کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والوں کو مظاہرین نہیں کہنا چاہیئے، یہ فسادی ہیں، باغی ہیں اور مقامی شدت پسند ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت ایسی قانون سازی کرسکتی ہے کہ مقامی شدت پسندی کو بھی قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے اور انتہاء پسند سفید فام شہریوں کو اس قانون کے تحت سزائیں سنائی جائیں۔

دوسری جانب سفید فام بھی اس صورتحال میں یقیناً خاموشی سے نہیں بیٹھیں گے۔ سفید فاموں کے شدت پسندانہ اور آمرانہ مزاج کو مدنظر رکھا جائے تو وہ موجودہ حکومت کو ناکام کرنے کے لیے کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔ سفید فام اس سے قبل 1898ء میں حکومت کا تختہ پلٹ چکے ہیں اور اس واقعہ کا آغاز بھی سیاست دانوں کی ہلہ شیری سے ہوا۔ 1865ء میں جب امریکا سے غلامی کا خاتمہ ہوا تو سفید فاموں کو یہ فیصلہ ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہ ہوا اور انھوں نے ولمنگٹن شہر کا رخ کیا۔ ولمنگٹن سیاہ فام متوسط طبقے کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ سفید فام انتہاء پسند تنظیموں نے اس واقعہ میں سیاہ فام ملکیت والے کاروبار تباہ کر دیئے، سیاہ فام باشندوں کا قتل عام کیا گیا اور سفید فام اور سیاہ فام سیاستدانوں کے اتحاد سے منتخب مقامی حکومت کو زبردستی مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔

اب شاید نوبت اس حد تک تو نہ جائے، تاہم امریکہ میں نسلی امتیاز اور نسل کی بنیاد پر فسادات کا سلسلہ جو پہلے سے معاشرے میں سرایت کرچکا ہے، اس کے زور پکڑنے کے قوی امکانات ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو اب بیرونی سے زیادہ اندرونی مسائل سے نمٹنے کے لیے تگ و دو کرنی ہوگی۔ معاشی بحران، کرونا کی صورتحال، بے روزگاری، غربت و افلاس، نسلی تفاوت اور معاشرے میں پیدا ہونے والی تقسیم وہ بڑے چیلنجز ہیں، جس سے امریکی سرکار کو نبردآزما ہونا ہے۔ ایسے میں امریکا کے لیے ممکن نہیں کہ اپنے غیر ملکی ایجنڈوں کو اس طاقت اور قوت سے آگے بڑھا سکے، جو اس سے قبل کرتی رہی ہے۔ آج خود امریکی صدر نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ امریکہ کو اتحاد کی ضرورت ہے، جو قوم متحد نہ ہو، اس کے لیے عالمی چیلنجز سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا۔
خبر کا کوڈ : 911390
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش