1
Saturday 23 Jan 2021 21:23

جو بائیڈن کے مبہم دور کا آغاز

جو بائیڈن کے مبہم دور کا آغاز
تحریر: مجتبیٰ شاہ سونی

امریکہ میں نئے منتخب صدر جو بائیڈن نے ملک کے چھیالیسویں صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ ایسے وقت وائٹ ہاوس میں داخل ہوئے ہیں، جب امریکی معاشرہ گذشتہ چار سال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور کرونا وائرس کے پھیلاو کے باعث شدید اضطراب اور تزلزل کا شکار ہوچکا ہے۔ مزید برآں، نئے صدر کے سامنے ملکی اور عالمی سطح پر اقتصادی، سماجی اور سیاسی شعبوں میں شدید چیلنجز درپیش ہیں۔ دوسری طرف جو بائیڈن کو بعض اچھے مواقع بھی حاصل ہیں۔ مثال کے طور پر سینیٹ میں ان کی پارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور امریکہ کا پڑھا لکھا طبقہ جیسے فنکار اور آرٹسٹ، مصنفین اور میڈیا پر حاوی افراد جو بائیڈن کے حامی ہیں۔ یہ وہ خاص مواقع ہیں، جو گذشتہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس نہیں تھے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ خارجہ پالیسی کے میدان میں جو بائیڈن کو سنجیدہ مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مسلم اکثریت ممالک سے امریکہ سفر کرنے پر پابندی کا خاتمہ، مہاجرین سے مقابلے کیلئے بنائی گئی سخت پالیسیوں کا خاتمہ، ایران سے جوہری معاہدے میں واپسی کا عندیہ اور روس و چین سے تعلقات میں بہتری لانے کے عزم کا اظہار خارجہ سیاست میں جو بائیڈن کو درپیش شدید چیلنجز کو ظاہر کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق ولیعہد شہزادہ محمد بن نایف سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں، لہذا توقع کی جا رہی ہے کہ نئی امریکی حکومت سعودی عرب میں اہم تبدیلیاں لانے کی کوشش کرے گی۔ نئی امریکی حکومت جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے نام پر خلیجی ریاستوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرے گی۔

امریکہ میں کرونا وائرس کے باعث پھیلنے والی کووڈ 19 وبا نے اب تک 24 ملین شہریوں کو متاثر کیا ہے، جن میں سے 4 لاکھ افراد اب تک اپنی جان کھو بیٹھے ہیں۔ اس خطرناک وائرس نے نہ صرف انسانوں کی جانوں بلکہ امریکہ کی اقتصاد کو بھی شدید دھچکہ پہنچایا ہے۔ اقتصاد میں شدید زوال کا نتیجہ بڑی تعداد میں بے روزگار اور بے گھر افراد کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران کا مقابلہ کرنے کیلئے ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کا بجٹ مخصوص کریں گے۔ امریکہ کی اکثر صنعتیں جن میں سیاحت، سپر مارکیٹس، ہوٹلز، ٹریول ایجنسیز وغیرہ شامل ہیں، دیوالیہ ہونے والی ہیں۔ اسی طرح کرونا وائرس کی روک تھام جو بائیڈن کے سامنے ایک اور بڑا چیلنج ہے۔

جو بائیڈن کو اپنی پارٹی کے اندر بھی بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک حلقہ ایسا ہے، جس نے جو بائیڈن کی مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس حلقے کی سربراہی برنی سینڈرز کر رہے ہیں۔ اب سینیٹ کی مالی کمیٹی کا سربراہ بن جانے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ برنی سینڈرز اپنے مطالبات پر زیادہ اصرار کریں گے۔ اگر جو بائیڈن ان کے مطالبات کو نظرانداز کرتے ہیں تو انہیں مالی امداد پر مبنی اپنے پیکجز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔ دوسری طرف معاشرے میں روز بروز بڑھتے ہوئے نسلی تعصبات نئی امریکی حکومت کے سامنے ایک اور بڑا چیلنج ثابت ہوں گے۔ جو بائیڈن نے اپنی پہلی تقریر میں بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں موجود اندرونی دہشت گردی اور شدت پسندی مستقبل کا بہت بڑا چیلنج ہے۔

6 جنوری 2021ء کے دن واشنگٹن میں کانگریس پر مشتعل ہجوم کے قبضے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرونی دہشت گردی اور شدت پسندی جو بائیڈن کو درپیش ایک اہم چیلنج ثابت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جلف برداری کی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے جو بائیڈن نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے ملک میں موجود شدت پسندی، مایوسی، دہشت گردی اور ٹکراو سے مقابلہ کرنے کیلئے تمام شہریوں سے مدد کی اپیل کی ہے۔ امریکی معاشرے میں نسلی تعصبات کی جڑیں بہت پرانی ہیں اور یہ مسئلہ ایک طویل تاریخ کا حامل ہے۔ سیاہ فام شہریوں کی جانب سے نسلی بنیادوں پر ناروا سلوک کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ 1870ء تک جا پہنچتا ہے۔ امریکہ میں نسلی تعصبات حتی قانون سازی کے عمل میں بھی داخل ہوچکے ہیں۔

اگرچہ بعض سیاسی حلقے امریکہ میں جو بائیڈن کے برسراقتدار آنے سے بہت پرامید دکھائی دیتے ہیں، لیکن زمینی حقائق پر نظر ڈالنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جو بائیڈن حکومت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہوگا اور شاید اپنے حامیوں کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کانگریس پر قبضہ، نسلی تعصبات اور طبقاتی فاصلوں کے باعث امریکی معاشرے میں پائے جانے والا شدید غم و غصہ، جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں بے سابقہ انداز میں فوجیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی اور عوام کی غیر موجودگی، ڈونلڈ ٹرمپ کا حلف برداری کی تقریب میں شریک نہ ہونا، کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ وغیرہ وہ حقائق ہیں، جو امریکہ کے مستقبل کو تاریک دکھا رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 911953
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش