8
Sunday 24 Jan 2021 20:30

یہودی الیون کے ساتھ جوبائیڈن کی صدارت کا آغاز

یہودی الیون کے ساتھ جوبائیڈن کی صدارت کا آغاز
تحریر: محمد سلمان مہدی

جوزف بائیڈن نے یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد جس حکومتی ٹیم کا اعلان کیا ہے، اس میں گیارہ یہودی بھی شامل ہیں۔ اسی وجہ سے اس تحریر کے عنوان میں یہودی الیون کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ فلسطین کی غاصب جعلی ریاست اسرائیل کی مددگار نسل پرست یہودی لابی، ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت سے زیادہ موجودہ حکومت کے دور میں نمایاں طور پر مستحکم نظر آرہی ہے۔ پچھلے اور موجودہ دور میں فرق یہ ہے کہ پہلے نام نہاد کرسچن عیسائی چہرے زایونسٹ لابی کے آلہ کار اور سہولت کار تھے، اب یہودی اپنے چہروں کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔ جو بائیڈن کے ایوان صدر وائٹ ہاؤس میں چیف آف اسٹاف جیسے اہم عہدے پر رونالڈ کلین یہودی آچکے ہیں۔ ٹرمپ کی صدارت میں عیسائی رائنس پرائیبس اس عہدے پر مقرر رہے۔ بائیڈن ایڈمنسٹریشن نے اٹارنی جنرل کے لیے ایک متنازعہ سابق جج میرک گارلینڈ یہودی کو نامزد کیا ہے۔ ٹرمپ صدارت میں یہ عہدہ پہلے جیفر سن عرف جیف سیشن (عیسائی) کے پاس رہا۔ بعد ازاں ولیم پیلم بار عرف بل بار کو اس عہدے پر مقرر کیا گیا۔ بل بار کے والد نے یہودی مذہب چھوڑ کر کیتھولک عیسائی مذہب اختیار کرلیا تھا۔ اس لیے بل بار کو اس حوالے سے ففٹی ففٹی قرار دیا جاسکتا ہے لیکن میرک گارلینڈ کھلے یہودی ہیں۔

ٹرمپ دور کے عیسائی نما مائیکل عرف مائیک پومپیو کی جگہ اینتھنی (انتھونی) بلنکن اب امریکا کے وزیر خارجہ نامزد ہیں۔ البتہ ٹرمپ دور اور بائیڈن دور صدارت یعنی دونوں ادوار میں وزیر خزانہ یہودی ہی ہیں۔ بس اس فرق کے ساتھ کہ پہلے اسٹیون عرف اسٹیو منوچن یہودی وزیر خزانہ تھے اور اب جینیٹ ییلن خاتون یہودی وزیر خزانہ نامزد ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے امریکی داخلی سلامتی کی وزارت ہوم لینڈ سکیورٹی کے لیے الیجیندرو نکولس میئرکاس یہودی کو وزیر نامزد کیا ہے۔ امریکا کے سارے انٹیلی جنس اداروں پر مشتمل مشترکہ ادارے نیشنل انٹیلی جنس کی سربراہ خاتون یہودی ایوریل ہیئنس کو مل چکی ہے۔ بعض وزارتوں اور اداروں پر کسی عیسائی نما شخصیت کو مکمل وزیر مقرر کیا ہے تو وہاں نائب وزیر یا نائب سربراہ یہودی شخصیت کو مقرر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ وزارت صحت کے لیے ڈپٹی وزیر راشیل لیوائن یہودی خاتون مقرر ہوچکیں ہیں۔ بدنام زمانہ امریکی ادارے سی آئی اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر کا عہدہ ڈیوڈ کوہن یہودی کو دیا ہے۔

یاد رہے کہ بدنام زمانہ اسرائیلی انٹیلی جنس ادارہ موساد کا سربراہ یوسی کوہن ہے۔ اسی طرح امریکی وزارت خارجہ (ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ) میں وینڈی شرمین نامی یہودی خاتون کو نائب وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی میں شعبہ سائبر سکیورٹی کی سربراہ یہودی خاتون این نیوبرگر کو مقرر کیا گیا ہے۔ آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی سربراہی بھی ایک یہودی ایرک لینڈر کے حصے میں آئی ہے۔ کہنے کو امریکا کا نیا وزیر دفاع جنرل لائڈ آسٹن ایک سیاہ فام عیسائی نما شخص ہے، لیکن در پردہ یہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا وہ سابق سربراہ ہے کہ جس نے اپنے دور میں اسرائیل کے ساتھ مل کر اس پوری سینٹرل کمان میں اسرائیل کے مفاد میں پورے عرب خطے میں مقبوضہ فلسطین کے خلاف اور فلسطینیوں کے حامی ممالک کے خلاف کھل کر اسرائیلی افواج کی ڈکٹیشن پر عمل کیا۔ البتہ وہ دور باراک اوبامہ کی صدارت کا دور تھا کہ جب موجودہ صدر جوزف بائیڈن امریکا کے نائب صدر ہوا کرتے تھے۔

یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا المعروف یو ایس کا اصلی چہرہ وہی ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی چار سالہ صدارت کے دور میں پوری دنیا نے دیکھا۔ اب اگر جوبائیڈن ٹرمپ حکومت کے بعض فیصلوں کو ریورس کر رہے ہیں تو اس سے دنیا کی صحت پر کیا اچھے اثرات مرتب ہونے ہیں!؟ کیا ٹرمپ کی چار سالہ صدارت سے پہلے صومالیہ بہت خوشحال تھا!؟ خود سے پوچھیے کہ کیا افغانستان اور عراق میں جنگیں مسلط ٹرمپ کے چار سالہ صدارتی دور میں ہوئیں یا یہ سب کچھ پہلے سے ہو رہا تھا؟!  کیا ٹرمپ کی چار سالہ صدارت کے دور میں امریکا میں سفید نسل پرستی حاکم ہوئی یا پہلے سے تھی!؟
جوزف بائیڈن ایک دھاندلی زدہ یعنی فراڈ الیکشن کے نتیجے میں صدارت کے منصب تک پہنچائے گئے ہیں۔ امریکی ڈیپ اسٹیٹ یا اسٹیبلشمنٹ کہہ لیں، انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے چھوڑ دیا۔ دختر اول ایوانکا ٹرمپ کی یہودی فراڈیے جیرڈ کشنر اور اس کے فراڈی سسرے چارلس کشنر کی یہودیت سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ فراڈی سسرے کو سمدھی صدر نے صدارتی معافی سے نواز کر فائدہ پہنچایا۔

نسل پرست یہودی لابی نے ٹرمپ کی چار سالہ صدارت میں ریکارڈ کامیابیاں حاصل کیں اور مقبوضہ یروشلم کو امریکی حکومت نے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے سفارتخانہ منتقل کرنے کا آغاز کر دیا۔ نسل پرست یہودیوں کی غیر قانونی بستیاں ٹرمپ کی چار سالہ صدارت کے دور سے بہت پہلے سے بن رہیں تھیں اور اس دور میں بھی تعمیر ہوتیں رہیں۔ کیا جوزف بائیڈن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل نواز فیصلوں کو ریورس کریں گے!؟ اصل سوال یہ ہے! کیا مقبوضہ یروشلم کو آزاد فلسطینی ریاست کا بلا شرکت غیرے دارالحکومت تسلیم کریں گے!؟  لفظی نہیں بلکہ عملی طور پر ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسیوں کو ریورس کر دیں گے!؟ تو ان سارے سوالات کا جواب بہت واضح ہے کہ امریکی ڈیپ اسٹیٹ خود نسل پرست یہودیوں کی کمی کمین کا کردار ادا کرتی آئی ہے۔ امریکی صدور خواہ بائیڈن ہی کیوں نہ ہوں، خود مہرے ہوا کرتے ہیں۔

پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا اور فلسطین سمیت پوری عرب دنیا اور لاطینی امریکا سمیت پوری سامراج دشمن دنیا کو جوزف بائیڈن ایڈمنسٹریشن سے جھوٹی امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔ امریکا کا اصل چہرہ انسانیت دشمن سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کو چلانے والے نسل پرست یہودی اور سفید فام نام نہاد عیسائی ہیں۔ ان میں سے کچھ خود کو کرسچن زایونسٹ کہتے ہیں۔ اس یو ایس ڈیپ اسٹیٹ سرمایہ دارانہ نسل پرستانہ نظام نے پوری دنیا اور خاص طور پر پوری مسلم و عرب دنیا پر اسرائیل کی ڈکٹیشن مسلط کر رکھی ہے۔ یہ مصنوعی بحرانات ایجار کرتے ہیں۔ یہ فالس فلیگ آپریشن کرتے ہیں۔ یہ مسلم و عرب دنیا کے عوام و خواص کو سطحی ایشوز میں الجھا کر تقسیم کرکے اپنی سازشوں سے توجہ ہٹاتے ہیں۔ جوزف بائیڈن جب امریکا کے نائب صدر تھے، تب ڈیموکریٹک صدر کی امریکی حکومت پاکستان کی آزادی و خود مختاری میں بدترین نوعیت کی مداخلت کرتی رہی تھی۔

محض ڈرون حملے نہیں بلکہ سانحہ سلالہ میں جب پاکستانی فوجیوں کو امریکی افواج نے دانستہ طور پر حملہ کرکے شہید کیا تھا، تب جوزف بائیڈن امریکا کے نائب صدر تھے اور امریکی پراکسی دہشت گردوں نے پاکستان بھر میں دہشت گردی کی، تب بھی بائیڈن نائب صدر تھے اور یہ سب کچھ امریکا افغانستان میں بیٹھ کر کر رہا تھا۔ ایک اور مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر کو امریکا پر حکومت کرنے کے لیے سامنے لایا گیا ہے۔ محض لب و لہجے کے فرق اور ہلکی پھلکی تبدیلیاں دنیا کے ستم رسیدہ انسانوں کو یہودی نسل پرستوں کے کمی کمین امریکا کی فرعونیت سے غافل نہ کرنے پائے۔ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کہنے کو کرسچن عیسائی ملک ہے، لیکن درحقیقت یہ نسل پرست دہشت گردوں کا ملک ہے کہ جہاں غیر یورپی عیسائی کو بھی برابر کا انسان نہیں سمجھا جاتا۔ کسی گوری ماں کے افریقی نژاد بیٹے باراک اوبامہ کو صدر بنا دینے سے امریکی سامراجیت اور فرعونیت کا سیاہ چہرہ چھپایا نہیں جاسکتا۔

یو ایس کے اندر ان سفید فام رولنگ ایلیٹس (حکمران طبقے کی شخصیات) کے بارے میں بھی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ خود بھی کرسچن (عیسائی) نہ ہوں، بلکہ انہوں نے اسی طرح عیسائیت کو اختیار کیا ہو، جیسے بل بار کا یہودی باپ عیسائی بن گیا تھا۔ کیا کوئی عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قاتل گروپ کی آئیڈیالوجی کے پیروکار نسل پرست یہودیوں کو دوست مان سکتا ہے!؟  عقل یہ تسلیم نہیں کرتی۔ لگتا یوں ہے کہ سفید نسل پرستی کے اندر بھی زایونسٹ خود ہی موجود ہیں۔ اگر یہ کرسچن (عیسائی)  ہوتے تو انہیں اپنے عرب کرسچن بھائیوں سے ہمدردی ہوتی اور یہ عرب فلسطینیوں کا ساتھ دے کر اسرائیل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے۔ جب یہ غیر سفید فام کرسچن کے انسانی حقوق کو ماننے کے روادار نہیں تو یہ مسلمانوں کے خیر خواہ کیسے ہوسکتے ہیں!؟ یہودی الیون ٹیم کے ساتھ جوزف بائیڈن اسی ناقابل تردید حقیقت سے توجہ ہٹانے کے لیے کاسمیٹک نوعیت کی تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتارے گئے ہیں۔ ہمہ وقت ہوشیار و خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 912133
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش