0
Sunday 24 Jan 2021 18:20

عراق کی بدامنی کا پیغام

عراق کی بدامنی کا پیغام
اداریہ
عراق میں پے در پے دو دہشت گردانہ اقدامات ہوئے ہیں۔ پہلا واقعہ بغداد میں ہوا، جس میں دو خودکش بم دھماکوں میں 35 افراد جاں بحق اور ایک سو دس سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ اس کے دو دن بعد صوبہ صلاح الدین میں موجود الحشد الشعبی کی چھاونی پر حملہ ہوا، جس میں آخری خبریں آنے تک 11 افراد شہید اور آٹھ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ دونوں واقعات کے درمیان مشابہت یہ ہے کہ بغداد میں خودکش دھماکہ ہوا ہے، جو تکفیری گروہوں کے علاوہ کوئی اور نہیں کرتا۔

دوسری طرف الحشد الشعبی کے مرکز پر بھی اسی گروہ نے حملہ کیا ہے، جو تکفیری نظریات کا حامل اور الحشد الشعبی کے خلاف عرصے سے برسرپیکار ہے۔ آگاہ ذرائع ان دونوں واقعات میں دہشت گرد گروہ داعش کے ملوث ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں۔ عراق میں ان دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعے کچھ پیغامات دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ جن ایام کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ وقت امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی سے جڑا نظر آتا ہے۔ عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے بارے میں عراقی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ سمیت دیگر تمام موثر حلقوں کا اجماع ہے۔

لیکن اس بارے میں عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کے بعض اقدامات مشکوک نظر آرہے ہیں۔ دوسری طرف یہ خبریں بھی موصول ہوئی ہیں کہ امریکہ نے شام سے ہزاروں کی تعداد میں داعشی دہشت گردوں کو عراق منتقل کیا ہے، بغداد اور صلاح الدین صوبے کے حالیہ دہشت گردانہ واقعات جوبائیڈن کے لیے ایک پیغام ہے کہ ابھی عراق میں سکیورٹی کی صورت حال قابل اطمینان نہیں ہے، لہٰذا امریکی فورسز کو نہیں جانا چاہیئے۔ یہ پیغام کون دے رہا ہے اور اس کے کیا مقاصد ہیں، جلد آشکار ہو جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 912141
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش