0
Monday 25 Jan 2021 15:00

میچ شروع

میچ شروع
اداریہ
 امریکہ میں آنے والی تبدیلی پر ابھی دل کھول کر کسی نے بات بھی نہیں کی تھی کہ نئے امریکی صدر جو بائيڈن کی نیشنل سکیورٹی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے اپنے ایک انٹرویو میں ایران پر مغربی ایشیاء میں تخریبی اقدامات کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے دوستوں اور شرکاء کے ساتھ مل کر بقول ان کے ایران کے تخریبی اقدامات کا مقابلہ کرے گا۔ نئی ترجمان کے لب و لہجے اور ٹرامپ کی ترجمان میں مکمل مماثلت نظر آرہی ہے۔ اس سے پہلے نئے امریکی وزیر جنگ لوئيڈ آسٹن نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران مغربی ایشیاء میں واشنگٹن کے اتحادیوں اور امریکی فوجیوں کے لیے خطرہ ہے۔ نامزد امریکی وزیر خارجہ ایٹونی بلنکن نے بھی سینیٹ کے اجلاس میں مضحکہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو دہشت گردی کا سب سے بڑا حامی قرار دیا۔

بلنکن نے پمپیو کی روش کو جاری رکھتے ہوئے وہی الزامات دہرائے ہیں، جو گذشتہ چار برسوں میں ٹرامپ کی ٹیم ایران پر عائد کرتی رہی ہے۔ بہرحال جوبائیڈن کی اسرائیل نواز یہودی الیون نے ایران کے خلاف شیطانی میچ کا آغاز کر دیا ہے، البتہ باخبر حلقوں بالخصوص امریکی ڈیپ اسٹیٹ کے مائنڈ سیٹ کو جاننے والوں کو پہلے سے علم تھا کہ ایران کے خلاف پالیسیاں وائٹ ہاؤس کے عارضی مکین نہیں بلکہ پینٹاگون اور صیہونی لابی کے تھنک ٹینک بناتے ہیں۔ اس لابی کے جب تک نظریات تبدیل نہیں ہوتے، وائٹ ہاؤس کے عارضی مکینوں اور کرایہ داروں کے آنے جانے سے کوئی نمایاں فرق نہیں پڑے گا، چاہے وہ ڈیموکریٹس ہوں یا ری پبلیکنز۔
خبر کا کوڈ : 912381
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش