1
Tuesday 26 Jan 2021 18:40

اوریا مقبول جان اور مولوی محی الدین کی اصل مشکل

اوریا مقبول جان اور مولوی محی الدین کی اصل مشکل
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

یہ زمانہ افکار و نظریات کی جنگ کا ہے، اس جنگ میں نبردآزما سورماوں کو کسی ایک کالم، پروگرام یا کلپ سے نہیں پہچانا جا سکتا، آپ یوں سمجھ لیجئے کہ اعضائے بدن کو الگ الگ دیکھنے اور انہیں ملا کر دیکھنے میں بہت فرق ہے۔ آیئے آج اوریا مقبول جان اور مولوی محی الدین کی اصل مشکل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ مشکل مسٹر گاندھی سے شروع ہوتی ہے۔ یہ وہی مشکل ہے جو مسٹر گاندھی کو قائداعظم سے تھی۔ مسٹر گاندھی کے نظریاتی سپوتوں اور فکری اتحادیوں نے کبھی ایک لمحے کیلئے بھی پاکستان اور قائداعظم کو تسلیم یا قبول نہیں کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اُن میں سے جو پاکستان میں رہ گئے یا ہجرت کرکے پاکستان آگئے، وہ کسی بھی لمحے اپنے مشن سے دستبردار بھی نہیں ہوئے۔ انہوں نے پاکستان میں مسجدِ ضرار کی طرز کی حکمتِ عملی اپنائی۔ بظاہر پاکستان، قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بڑے داعی، مبلغ اور محب وطن بن گئے، لیکن اندرونِ خانہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے آج بھی سرگرم ہیں۔

ان سرگرم افراد میں سے ایک بڑا مشہور اور معروف نام اوریا مقبول جان کا بھی ہے، عام لوگ ان کے ٹی وی پروگرامز دیکھنے یا کالمز وغیرہ پڑھنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں، وہ ایک کامیاب ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور معروف صحافی ہیں اور خاندانی و نظریاتی پسِ منظر کے لحاظ سے تحریکِ خلافت والوں کے جیالے ہیں۔ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ تحریکِ خلافت ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے عاشقوں کی تحریک تھی۔ پہلی جنگِ عظیم میں ترکی کا خلیفہ اور برطانیہ آپس میں لڑ رہے تھے۔ اس لڑائی کے دوران ترکی کے خلیفے کے پیروکار برطانیہ کے اتحادی بنے ہوئے تھے۔ اس ڈبل گیم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یعنی عثمانی خلیفہ برطانیہ سے جنگ کر رہا تھا اور اس کے پیروکار برطانیہ کے اتحادی تھے۔ اس کھیل کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ جو خلافت عثمانیہ کے جانثار تھے، یہ برطانیہ کے ساتھ ساتھ کانگرس اور مسٹر گاندھی کے بھی اتحادی تھے۔ یہ  وہ لوگ ہیں، جو مسلم لیگ کو کسی بھی اعتبار سے قابل اعتنا اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے تھے۔

مہاتما گاندھی ہی ان کے رول ماڈل تھے۔ یہ ایک طرف ترکی کی خلافت کو توحیدی و اسلامی خلافت کہتے تھے، نیز ترکی کا خلیفہ برطانیہ کو دارالکفر و شرک قرار دے کر برطانیہ کے خلاف جہاد کر رہا تھا جبکہ دوسری طرف اس کے پیروکار اسی توحیدی و اسلامی خلافت کی تبلیغ اور دوام کیلئے برطانیہ و ہندووں کے پکے اتحادی بنے ہوئے تھے۔ یعنی یہ وہ ذہنیت اور سوچ ہے، جو اپنے مقاصد اور مفادات کیلئے کسی عقیدے یا اصول کی پابند نہیں ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ کے دو قومی نظریئے کو رد کیا اور مسٹر گاندھی کے ہندی قومیت کے نعرے  پر لبیک کہا۔ تحریکِ خلافت کے بعد بھی انہوں نے جو تحریکِ عدمِ موالات، ہندوستان چھوڑ دو تحریک اور پاکستان و قائداعظم سے نفرت کرنے کی جتنی بھی مہم چلائی، ان سب مہمات کا فکری منبع مہاتما گاندھی کی ہی ذات تھی۔ وہی ان کے کرتا دھرتا اور مائی باپ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکِ خلافت کے بعد بھی 1929ء میں مجلس ِاحرار بھی مسلم لیگ سے اپنا راستہ جدا رکھنے کیلئے قائم کی گئی۔

بعد ازاں جب پاکستان بن گیا تو پاکستان میں کانگرس والوں کا مورچہ ہی ختم ہوگیا۔ اب گاندھی جی کے نظریاتی سپوتوں نے پینترا بدلا۔ انہوں نے غیر محسوس انداز میں اس شکست کا انتقام لینے کی ٹھانی، وہ پاکستان میں مذہبی و لسانی و علاقائی شدت پسندی کے فروغ کیلئے سرگرم ہوگئے۔ ان کے دینی مدارس تھے یا سیاستدان و بیوروکریٹ، سب نے اسی ایک ایجنڈے پر کام کیا۔ ان کا مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ مسلمان ایک قوم نہیں ہیں اور دو قومی نظریہ غلط ہے۔ آپ ان لوگوں  میں سے صرف اوریا مقبول جان کے مختلف کالمز اور پروگرامز کو ایک دوسرے سے ملا کر ان کا جائزہ لیجئے۔ مسٹر اوریا مقبول جان کا سارا ہم و غم پاکستان کے مسلمانوں کو شیعہ و سنی میں تقسیم کرکے ان دونوں کو ایک قوم کے بجائے الگ الگ دو متضاد اور متحارب قومیں ثابت کرنا ہے۔

اس مقصد کیلئے وہ آیات و روایات، اپنے خوابوں، پیشین گوئیوں، اشعار، عربی و عجمی کی اصطلاحات، سید و غیر سید کے ڈی این اے، غزوہ ہند، بلوچی قبائل۔۔۔۔ پر مسلسل لکھتے یا بولتے رہتے ہیں۔ حتی کہ ہزارہ کے قتلِ عام کو بھی سنی و شیعہ کی جنگ قرار دے کر اسے بڑے دھیمے انداز میں ایک معمولی سی بات قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنی بیوروکریسی کے دور کو بطورِ حوالہ استعمال کرکے حکومتی اداروں میں موجود بیوروکریٹس کو بھی اس جنگ و جدال کا حصہ بننے پر اکساتے ہیں۔ وہ اس جنگ کو بڑھکانے کیلئے اپنے آنسووں کے تیل کا چھڑکاو اور اپنے تجربات کا ایندھن بھی فراہم کرتے ہیں۔

 آپ ٹھنڈے دل سے ان کے پروگرامز اور کالمز کو اول سے آخر تک کھنگال کر دیکھئے، آپ حیران رہ جائیں گے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کو متحد کرنے، دہشتگردوں کیلئے لوگوں کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے اور طالبان، القاعدہ و داعش میں بھرتی کیلئے پاکستانیوں کو ابھارنے میں ان کا کردار انتہائی اساسی اور کلیدی نوعیت کا ہے۔ وہ بڑی مہارت سے ایران، انقلابِ ایران، بشار لاسد اور حزب اللہ وغیرہ کا ذکر کرکے پاکستان کے اہلِ سُنت کو ہلکے پھلکے انداز میں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اُن کی بقا کا سب سے بڑا راز شیعہ کُشی اور شیعہ دشمنی میں پوشیدہ ہے۔ صاحبانِ فکر و نظر کو اس میں کوئی تردید نہیں کہ وہ پاکستان میں شدت پسندی خصوصاً طالبان، سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی، القاعدہ اور داعش کے حقیقی بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

شیعہ و سنی کے علاوہ بلوچستان کے قبائل کے بارے میں غلط فہمیاں اور منفی جذبات ابھارنے پر ان کے متعدد پروگرام شاہد ہیں۔ وہ 18 جنوری 2016ء کو 31 سال کی سروس کرکے ایک بیوروکریٹ کے طور پر ریٹائر ہوگئے، لیکن اپنے پیشوا و رول ماڈل آنجہانی مہاتما گاندھی کے نظریات سے دستبردار نہیں ہوئے۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیوروکریسی کے تجربے کو بھی پاکستان میں نفرت و تعصبات کے فروغ کیلئے استعمال کرنے میں مشغول ہیں۔

اب یہاں پر ایک اور کالم نگار محی الدین بن احمد دین کا ذکر بھی ہو جائے۔ وہ بھی گاندھی جی کے سکول آف تھاٹ سے وابستہ ہیں۔ وہ بظاہر کلین شیو لیکن درس نظامی کے فاضل ہیں۔ ان کے بقول ان کی درسِ نظامی کی سند پر المولوی محی الدین لکھا ہوا ہے۔ ان کے بھی گذشتہ کالمز کو ملا کر دیکھ لیجئے، آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ وہ بھی کس طرح قدم قدم پر گاندھی جی کے مشن یعنی ملتِ پاکستان کو تقسیم اور نظریاتی طور پر کمزور کرنے میں مسلسل مصروف ہیں۔ آپ ان کا تازہ ترین کالم ہی اٹھا کر دیکھ لیجئے، کالم کا عنوان ہے "اسرائیل اور مولانا۔۔۔" ان کا یہ کالم 25 جنوری 2021ء کو  روزنامہ 92 نیوز میں چھپا ہے۔

اس کالم میں انہوں نے واضح اعتراف کیا ہے کہ چیزیں جیسی ہوتی ہیں، ویسی نظر نہیں آتیں، ان کا یہ دعویٰ اُن کی اپنی حد تک  بالکل درست ہے، چونکہ وہ خود بھی سند یافتہ المولوی ہیں، لیکن بظاہر کلین شیو دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کالم بھی انہوں نے بظاہر مولانا فضل الرحمان صاحب کی مخالفت میں لکھا ہے، لیکن درحقیقت انہوں نے مولانا کا نام استعمال کرکے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تبلیغ کی ہے۔ انہوں نے واضح لکھا ہے کہ اسرائیل کی مخالفت سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں (ہندوستان) عرب امارات اور سعودی عرب کی طرح اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیئے۔ ان کے کالم کے مطابق ان کی اس طرح کی کاوشوں کو مغربی و یورپی سفارتخانوں میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

اپنے تعارف میں انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہودیوں اور اسرائیل دوست لابی نے دو مرتبہ اسلام آباد میں ان سے ملاقات کیلئے رابطہ بھی کیا ہے۔ ہمارے نزدیک جسمانی رابطے اور ملاقات سے زیادہ فکری اور نظریاتی رابطہ اہمیت رکھتا ہے۔ یوں فکری طور پر محی الدین صاحب ان لوگوں سے رابطے میں ہیں۔ اسرائیل نظریاتی طور پر ہندوستان اور مہاتما گاندھی کیلئے تو قابلِ قبول ہے، لیکن پاکستان اور قائداعظم محمد علی جناح کیلئے ناقابلِ قبول ہے۔ یہ دو مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عرصہ دراز سے پاکستانی صحافت میں گاندھی جی کے بے شمار نظریاتی سپوت اپنا کام دکھا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سلامتی کے ضامن اداروں کو ان افراد پر نگاہ رکھنی چاہیئے اور انہیں بانی پاکستان کے نظریات کے خلاف، مسٹر گاندھی کے افکار و نظریات اور شدت پسندی کی ترویج کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔

آخر میں عرض یہ ہے کہ تحریکِ خلافت اور مجلسِ احرار کو آزادانہ طور پر سمجھنے کیلئے تحقیق کا دروازہ سب کیلئے کھلا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہی لوگ نقاب بدل کر ملکی اداروں میں گھس گئے اور ہمارا تدریسی نصاب آج تک یہی لکھتے چلے آرہے ہیں۔ چنانچہ ہماری درسی کتابوں میں مسلم لیگ، قائداعظم اور قیامِ پاکستان کے دشمنوں، شدت پسندوں اور کانگرس و گاندھی نواز شخصیات کو ہی تحریکِ پاکستان کا ہیرو اور بانی لکھا جا رہا ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے ذرائع ابلاغ اور سکولوں و کالجز میں تدریسی نصاب کے مواد پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کے سامنے مسخ شدہ تاریخ کی بجائے پاکستان کی شفاف تاریخ رکھنی چاہیئے۔ بانی پاکستان کے نظریات کا تحفظ ہر حال میں ضروری ہے، خواہ وہ ذرائع ابلاغ ہوں یا نصابِ تعلیم ہو۔
خبر کا کوڈ : 912533
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش