?>?> کیا مغرب کو یمنیوں پر رحم آگیا ہے؟ - اسلام ٹائمز
0
Friday 12 Feb 2021 15:47

کیا مغرب کو یمنیوں پر رحم آگیا ہے؟

کیا مغرب کو یمنیوں پر رحم آگیا ہے؟
تحریر: ثاقب اکبر

ان دنوں کچھ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ امریکہ نے یمن پر سعودی حملوں کی حمایت روک دی ہے، امریکہ نے سعودی عرب اور امارات کو ہتھیاروں کی فروخت بھی روک دی ہے اور یورپی پارلیمینٹ نے بھی سعودی عرب اور امارات کو اسلحے کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور انھیں اسلحے کی فراہمی کو یمن میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ’’یمن کی جنگ نے ایک انسانی اور اسٹریٹیجک تباہی کو جنم دیا ہے اور ہم یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارت کاری کو تیز کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ”اس جنگ کو ختم ہونا چاہیے اور اس جنگ کے حوالے سے اپنے عزائم واضح کرنے کے لیے ہم یمن میں ہر قسم کا امریکی تعاون ختم کر رہے ہیں، جس میں اسلحے کی فروخت بھی شامل ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’میں نے اپنی مشرق وسطیٰ کی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قیادت میں جنگ بند کروانے کی کوششوں میں ہماری مدد کرے۔ دیرپا امن مذاکرات بحال کیے جائیں۔ یہ امر یقینی بنایا جائے گا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد یمنی عوام تک پہنچے، جو تکلیف اور ناقابل برداشت تباہی سے گزر رہے ہیں۔‘‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ سال قبل سعودی عرب کی قیادت میں بعض عرب ممالک نے جن میں متحدہ عرب امارات پیش پیش ہے، مل کر یمن پر فوجی یلغار کر دی تھی۔ عرب اتحاد کو امریکہ اور یورپ کی طرف سے اس فوجی حملے کی حمایت حاصل تھی۔ اس وقت باراک اوباما کی قیادت میں امریکہ میں ڈیموکریٹس کی حکومت قائم تھی۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکنز کی حکومت قائم ہوئی، جس نے باراک اوباما کی سرپرستی میں چھیڑی گئی اس جنگ کو جاری رکھا۔ سعودی عرب نے اس موقع پر اعلان کیا تھا کہ وہ دو ہفتے کے اندر اندر صنعا پر قبضہ کرلیں گے اور حوثیوں کی حکومت کا خاتمہ کر دیں گے، لیکن چھ سال گزرنے اور لاکھوں انسانوں کے قتل کے باوجود اس کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔

حوثی اور ان کے حامی یمنی عوام بہت سخت جان ثابت ہوئے۔ یمن کا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا۔ بھوک اور پیاس کے ایسے انسانی المیے نے جنم لیا، جس کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن یمنیوں نے نہ فقط جارحین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ جواباً ایسی کاری ضربیں لگائیں جنھوں نے امریکہ اور اس کے حامیوں کو حیران کرکے رکھ دیا۔ یمنیوں نے اپنی سرزمین پر امریکی ڈرونز کو گرا کر پوری دنیا میں ان کی تصویریں جاری کیں اور دکھایا کہ امریکہ بلاواسطہ اس جنگ میں ملوث ہے۔ یمنیوں نے آرامکو کی سب سے بڑی سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرکے کئی ماہ تک تیل کی ترسیل کو روک دیا۔ یمنیوں نے خود سے بلاسٹک میزائل تیار کیے اور انھیں سعودی تنصیبات پر فائر کیا۔ یمنیوں کے تیار کردہ ڈرونز امریکی فراہم کردہ سعودی دفاعی حصار کو توڑتے ہوئے ریاض تک جا پہنچے۔

حال ہی میں یمن میں قائم انصار اللہ کی حکومت کو کئی ایک قابل ذکر فوجی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ماٰرب جیسے اہم ترین شہر پر مکمل قبضے کے قریب جا پہنچے ہیں۔ انھوں نے اس علاقے کی اہم ترین فوجی چھائونی کوفل کو سعودی اتحاد سے چھین لیا ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب کے علاقے عسیر کی فوجی چھائونی اور فوجی ہوائی اڈہ ابہا اس کے میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں آگیا ہے۔ اس پس منظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اور یورپ میں یمن کے لیے امن کی دہائی واقعاً انسانی جذبوں کے حرکت میں آنے کا نتیجہ ہے اور کیا واقعاً مغرب کو یمن کے مظلوم عوام پر رحم آگیا ہے؟ اس سوال کا جواب خود یمنی ترجمان نے دیا ہے، جس نے کہا ہے کہ وہ جو بائیڈن کی حکومت کی باتوں سے فریب میں نہیں آئیں گے اور میدان جنگ میں پیش رفت جاری رکھیں گے۔

فوجی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ماٰرب کے جنوب اور مغرب میں یمنی افواج کی حیران کن پیش قدمی کے نتیجے میں ماٰرب کے اہم ترین تزویراتی شہر کے سعودی اتحاد کے ہاتھ سے نکل جانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے بعد سعودی سرپرستی میں قائم جنوبی یمن کی حکومت مزید کمزور اور محدود ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ابہا پر یمنی ڈرونز کے حملے شروع ہوچکے ہیں۔ ایک روز پہلے ہی ابہا کے فوجی اڈے پر چار ڈرونز نے اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا ہے۔ اس کے نتیجے میں فوجی اڈے میں کھڑے کئی ایک ہوائی جہاز جل کر راکھ ہوگئے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ساتھ امریکہ کی طرف سے یمن کے سیاسی حل کے لیے پیش رفت معنی خیز ہے۔ واشنگٹن نے اس سلسلے میں اپنا ایک نمائندہ مقرر کر دیا ہے، تاکہ وہ بقول ان کے اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے یمن کے ساتھ مل کر یمن کی جنگ کا سیاسی حل تلاش کرے۔

جہاں تک فوجی امداد روکنے کا تعلق ہے تو اس کی تفصیلات بھی جاننے کی ضرورت ہے۔ خبروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کو F-35 کی فراہمی روک دی گئی ہے، جس کی رقم ادا کی جا چکی ہے۔ یاد رہے کہ اس سودے پر اسرائیل کو اعتراض رہا ہے۔ لہذا یہ اقدام اسرائیل پر یہ واضح کرنے کے لیے ہے کہ واشنگٹن میں قائم نئی حکومت ٹرمپ حکومت کی طرح اسرائیل کی نازبرداری کرتی رہے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ امارات کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا، نہ اسے F-35 فراہم کرے گا اور نہ رقم واپس کرے گا۔ اسی طرح سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں ضمنی طور پر واضح ہونا چاہیے کہ اس کا تعلق بھی سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی سے متعلق تمام تر ڈیلز کا ازسرنو جائزہ لینے سے ہے۔

اس سلسلے میں ممکن ہے کہ 290 ملین ڈالر کے تین ہزار جدید ترین گائیڈڈ میزائیل کی فروخت کو روکا جائے نہ کہ دیگر تمام اسلحے کی فراہمی۔ ان میزائلوں کی فراہمی پر پہلے ہی اسرائیل اور امریکی کانگرس کو اعتراض رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے ساتھ بھی امریکہ ایسا کرچکا ہے، جب پاکستان F-16 کی فراہمی کے لیے امریکہ کو رقم ادا کرچکا تھا تو امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کی فراہمی کو روک لیا، یہی نہیں بلکہ جب تک وہ امریکہ کے پاس رہے، اس کی دیکھ بھال اور مینٹی ننس کے اخراجات کا بھی مطالبہ کیا۔ یمن پر مسلط کردہ جنگ سے یورپ کی بڑی طاقتوں نے بھی خوب فائدہ اٹھایا ہے اور اپنا اسلحہ فروخت کیا ہے۔

اب جبکہ تمام عالمی طاقتوں کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ وہ جنگ کے ذریعے صنعا میں قائم انصار اللہ کی حکومت کو ختم نہیں کرسکتیں بلکہ انھیں اور خطے میں ان کے حواریوں کو ایک مکمل شکست کا سامنا ہے، ایسے میں امن کے مذاکرات اور اسلحہ کی روک تھام کے نام پر مکمل رسوائی سے بچنے کی کوشش شروع کر دی گئی ہے۔ امریکہ اور یورپ دیکھ رہا ہے کہ اس کا اسلحہ یمنیوں کے مقابلے میں سعودی عرب کا دفاع کرنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے اور ان کی حمایت یافتہ نام نہاد حکومت بھی خاتمے کے قریب ہے تو ضروری ہے کہ جنگ بندی کے نام پر انصار اللہ کی پیش رفت کو روکا جائے اور انسانی ہمدردی کے نام پر یمن میں فعالیت کا آغاز کیا جائے۔

ان کے نزدیک اسی طرح بات چیت کے نام پر کچھ مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کی مثال افغانستان میں بھی موجود ہے، جہاں اب امریکہ یہ کہہ رہا ہے کہ ہم تو افغانستان سے جانے کے لیے تیار ہیں، افغانستان کی حکومت اور طالبان آپس میں معاملات طے کریں۔ یہی کام وہ یمن میں کرنے جا رہے ہیں لہٰذا یورپ سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ یمنی آپس میں مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کریں۔ امریکہ اور یورپ کی طرف سے آنے والی ان آوازوں پر ہم بیدم شاہ وارثی کی زبان میں یہی کہہ سکتے ہیں:
ستم گر تجھ سے امید کرم ہوگی جنھیں ہوگی
ہمیں تو دیکھنا یہ تھا کہ تو ظالم کہاں تک ہے
خبر کا کوڈ : 915833
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش