0
Thursday 18 Feb 2021 08:36

خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں

خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں
تحریر: عظمت علی
(مبارک پور، اعظم گڑھ)

آج مسلمان خوش فہمی میں زندگی گزار رہے ہیں، لیکن یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ قرون وسطیٰ میں صدیوں تلک اسلامی ایجادات کا غلبہ رہا۔ 8ویں صدی تا 13 ویں صدی کا زمانہ، اسلامی عہد زریں‘(Islamic Golden Age) کا دور کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا ماضی نہایت شاندار تھا۔ گذشتہ ایجادات میں مسلمان سائنسدانوں کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ یونیورسٹی، ہاسپیٹل، سرجری، الجبرا، اجزائے کیمرہ، فلائنگ مشین (ہوائی جہاز) اور کافی وغیرہ کی ایجادات کا سہرا مسلم سائنسدانوں کے سر جاتا ہے۔ بغداد "دارالحکمت" تھا۔ منگولوں کے سالار ہلاکو خان کے ذریعے شہر حکمت کا زوال ہوا۔ تاریخی حوالے بیان کرتے ہیں کہ کتابیں اس کثرت سے دریا برد کی گئیں کہ دریائے دجلہ کا پانی چھ ماہ تک سیاہ رنگ کا رہا۔ اسی کے بعد اسلامی سنہری صدی کا دورانیہ سمٹتا گیا۔ دوچار دیئے اب بھی روشن ہیں مگر روشنی کی وافر مقدار مغرب کے ہاتھوں لگ گئی ہے۔ مغربی ممالک نے اپنی عظمت کو قائم رکھنے کی خاطر ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کیا اور تاحال اسی سائنس اور ٹیکنالوجی کی روشنی ہمیں مشرق کے بجائے مغرب سے مل رہی ہے۔

بھلا ہم کب کسی سے کم ہوتے۔ ہم آج بھی عظمت رفتہ میں گم سم ہیں۔ "پدرم سلطان بود" کا نعرہ آج بھی زندہ ہے اور جب معاصر کی ترقی کا ذکر ہوتا ہے تو خوش فہمیوں کا سہارا لے کر زبانی مشق میں فتح یاب ہو جاتے ہیں۔ آج بھی اگر کوئی غیر مسلم سائنس دان کسی تاریخی ایجادات کو پیش کرتا ہے تو قرآن اور حدیث کی تفسیر کہہ کر اپنا دامن جھاڑ لیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قرآن مجید تاقیامت ایک زندہ معجزہ ہے اور اس میں بے شمار نہفتہ ایجادات ہیں، لیکن سوال یہ کہ اسلام کی تمام تر تعلیمات عربی زبان میں ہیں۔ عرب ممالک بھی اسلامی ریاست کا حصہ ہیں۔ عربی زبان و ادب کے ماہرین بھی مسلمان ہیں تو پھر قرآن و احادیث سے ایجادات کی راہ فراہم کرنے کا ہنر غیر مسلم کے پاس کیسے پہنچ گیا۔۔۔؟ ایسا بھی نہیں کہ کلام الہیٰ ہماری سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ قرآن عام فہم زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ کوتاہی ہم میں ہی ہے، ورنہ گذشتہ مسلم ہستیاں کیوںکر مختلف ایجادات اپنے نام کر پاتیں۔۔۔۔؟

مسئلہ دو قسم کا ہے۔ کچھ ایسے افراد ہیں، جو شدت سے مذہبی ہیں۔ ان کے ذہن و خیال پر حقائق سے بڑھ کر عقائد سوار ہیں۔ وہ بھی معاشرہ کے پرورش شدہ عقائد۔ اس لیے ان کی فکر میں جدید ترقیاتی کام گذشتہ مسلم تحقیقات کی محض کاپی ہیں۔ دوسرے وہ افراد جو مسلمانوں کی گذشتہ حیثیت کے ہی منکر ہیں۔ انہیں لگتا ہی نہیں کہ مسلمان بھی سائنس اور ٹیکنالوجی میں بے مثال رہے ہیں جبکہ مسلمانوں کا ماضی نہایت عالیشان تھا اور معاصر بھی اتنا گیا گزرا نہیں، جتنا کہ بعض لوگ تصور کرتے ہیں۔ 1799ء عیسوی میں ٹیپو سلطان نے جنگی راکٹ ایجاد کیا۔ اسی طرح فضل الرحمان خان جسے تعمیرات کا آئن اسٹائن کہا جاتا ہے، کی تحقیقات کی بنیاد پر برج خلیفہ، ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور جان ہنکوک سنٹر جیسی عمارات تعمیر ہوئی ہیں اور اسی طرح ہندوستان کے میزائل میں ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام بھی آسمان سائنس کے روشن ستارہ کی مانند آج بھی روشن ہیں، مگر بات یہ ہے کہ جس دین کی بنیاد ہی تعلیم اور سربلندی پر قائم ہے، آج اس کی سست رفتار ترقی مناسب نہیں ہے، کیونکہ ؎
جن کے رتبہ ہیں سوا، ان کی سوا مشکل ہے
خبر کا کوڈ : 916929
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش