4
Thursday 18 Feb 2021 12:42

جوزف بائیڈن کی صدارت میں امریکی حکومت کا پہلا مہینہ

جوزف بائیڈن کی صدارت میں امریکی حکومت کا پہلا مہینہ
تحریر: محمد سلمان مہدی

ایک متنازعہ الیکشن کے نتیجے میں یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کے صدر بننے والے جوزف بائیڈن امریکی مقامی وقت کے مطابق بیس جنوری 2021ء کی دوپہر سے رسمی طور پر صدارت کے منصب پر فائز ہوچکے ہیں۔ تب سے تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے اور اس درمیان وہ اب تک 30 ایگزیکیٹو آرڈرز پر دستخط کرچکے ہیں۔ میمورنڈم،  پروکلیمیشن اور ڈائریکٹیو کی تعداد 25 ہے، یعنی انہوں نے بحیثیت صدر اب تک کل ملا کر 55 فیصلے کیے ہیں۔ ان انتظامی احکامات، ہدایات، یادداشت ناموں اور اعلامیوں میں امریکی مقننہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ یہ تن تنہاء صدارتی فیصلے ہیں۔   ان صدارتی حکم ناموں سے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر بائیڈن کی امریکی حکومت کی ترجیحات میں امریکا کے اندرونی معاملات کو نمٹانا سرفہرست ہے۔ امریکی عوام کا ایک وسیع حلقہ بائیڈن کے دور کو اس زاویے سے دیکھ رہا ہے کہ آیا جو بائیڈن حکومت ٹرمپ کی پالیسی کو جاری رکھتی ہے یا اسے تبدیل کرتی ہے۔

اس زاویے سے دیکھیں تو امریکی سرکاری اعداد و شمار اور میڈیا کی پیش کردہ معلومات کے مطابق جو بائیڈن کے اقدامات کی وجہ سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض فیصلے ریورس ضرور ہوئے ہیں، لیکن بائیڈن کے احکامات کی اکثریت ایسی ہے کہ جنہوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو ریورس نہیں کیا گیا۔  ان 55 فیصلوں میں جو بائیڈن نے صدارتی میعاد کے پہلے دن ہی 19 معاملات پر فیصلے صادر کیے تھے۔ دوسرے دن 11 فیصلے سنائے۔ ان کے اب تک کے سارے فیصلوں کا تعلق (اکا دکا استثنیٰ کے ساتھ) امریکا کے اندرونی معاملات سے ہے۔ ان میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات اور شعبہ صحت ہی سے متعلق بائیڈن کے حکمناموں اور میمورنڈم کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد امیگریشن، ایکویٹی، ماحولیات، نیشنل سکیورٹی، انرجی و اسقاط حمل ہے۔ البتہ دنیا کے دیگر ممالک بائیڈن صدارت میں امریکا کی خارجہ پالیسی سے متعلق جاننا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں بائیڈن تاحال ٹرمپ دور حکومت ہی کی خارجہ پالیسی پر چل رہے ہیں۔

اتنا ضرور ہے کہ عالمی اداروں کے ساتھ امریکا کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے انہوں نے ٹرمپ دور کی پالیسی کو بدلنے کا آغاز کیا ہے۔ یعنی عالمی ادارہ صحت اور ماحولیات سے متعلق معاملات پر۔ 4 فروری 2021ء کو صدر بائیڈن نے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یعنی وزارت خارجہ کا دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے جو خطاب کیا، اس میں کوئی خاص بات نہیں کہی۔ البتہ ان کے اس بیان کو ٹرمپ کے مخالف ذرائع ابلاغ نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ بائیڈن نے دنیا بھر میں ہم جنس پرستوں کی آزادی کی حمایت پر مبنی خارجہ پالیسی کا اعلان کیا۔ انہوں نے امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی میں سفارتکاری کو دوبارہ مرکزی حیثیت دینے کا اعلان بھی کیا۔ مسلمان و عرب ایشوز پر انہوں نے ٹرمپ دور کی خارجہ پالیسی کو تاحال برقرار رکھا ہے۔ خارجہ پالیسی میں برما میں فوجی مداخلت کی مخالفت بھی شامل ہے۔

فلسطین و کشمیر سمیت دنیا کے بہت سے برننگ ایشوز پر انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ ایران کے ساتھ بین الاقوامی نیوکلیئر ڈیل پر بھی وہ خاموش رہے۔ البتہ یمن میں سعودی عرب کے آفینسیو آپریشن کو حاصل امریکی حمایت ختم کرنے کا جو اعلان کیا، اس پر بھی یقین نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یمن ایک آزاد و خود مختار ملک ہے اور سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے اس کی جغرافیائی زمینی، فضائی و سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنا، اس پر یلغار کرنا، وہاں بمباری کرنا، ان میں سے کونسے عمل کو بائیڈن حکومت آفینسیو آپریشن کے زمرے میں قرار دیتی ہے!؟ حتیٰ کہ سعودی عرب بھی یمن پر بلاجواز اور یکطرفہ جنگ کو اپنا دفاع قرار دیتا ہے تو آفینسیو آپریشن سے جو بائیڈن حکومت کی مراد کیا ہے!؟

اسی طرح جرمنی میں امریکی افواج کی موجودگی سے متعلق امریکی پالیسی پر انہوں نے اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی پالیسی کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یعنی اب جرمنی میں امریکی افواج موجود رہیں گی۔ حالانکہ دنیا بھر میں امریکا سے عوام الناس کی ناراضگی کی بنیادی وجہ امریکی افواج کے اڈے اور موجودگی ہے۔ جرمنی میں امریکی افواج کی موجودگی کا امریکی عوام کو کیا فائدہ؟ اور جرمنی کو ایسا کونسا خطرہ لاحق ہے کہ اسے امریکی فوجی مدد کی ضرورت پڑگئی!؟ ٹرمپ حکومت 11900 امریکی فوجیوں کو جرمنی سے نکال کر ان میں سے نصف کو براعظم یورپ ہی کے دیگر ممالک میں تعینات کرنا چاہتی تھی اور جو باقی آدھے بچتے وہ کونسا امریکا واپس بلوائے جاتے، انہیں بھی کسی اور براعظم کے ممالک پر مسلط کر دیا جاتا اور بہانہ یہ بنا دیا جاتا کہ دہشت گردوں کی طرف سے امریکا کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے وہاں امریکی فوجی اڈوں اور مستقل امریکی فوجیوں کا ہونا ضروری ہے۔

افغانستان اور عراق اس کی دو واضح مثالیں ہیں، جبکہ شام میں تو انٹرنیشنل لاء کی کھلی خلاف ورزی کرکے امریکی فوجی مداخلت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ٹرمپ دور حکومت کی یہ پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس بائیڈن کی صدارت میں داعش تکفیری دہشت گردی پھر سے سر اٹھا چکی ہے۔ عرب ملک شام کے تیل پر امریکا نے قبضہ جما لیا ہے اور وہاں باقاعدہ فوجی اڈہ بنا چکا ہے۔ اب وہاں امریکی فوجی اڈے کی سہولت کے لیے ایئر پورٹ بنایا جا رہا ہے۔ عرب اور مسلمان دنیا کے لیے تو یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کی خارجہ پالیسی وہی ہے، جو شروع سے چلی آرہی ہے، یعنی سامراجیت۔ مسلمان ممالک میں جوزف بائیڈن کی حکومتی ٹیم کو اسرائیل کا سہولت کار سمجھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بائیڈن حکومتی ٹیم میں اسرائیل کے اعلانیہ حامیوں کو اہم عہدے دیئے گئے ہیں۔ اسرائیل کی مددگار نسل پرست لابی ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت سے زیادہ موجودہ حکومت کے دور میں نمایاں طور پر مستحکم نظر آرہی ہے۔

عرب اور مسلمان دنیا میں جوزف بائیڈن کی حکومت سے اچھی توقعات کا اظہار نہیں کیا جارہا بلکہ اس کے عملی اقدامات کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ پاکستانی یہ دیکھ رہے ہیں کہ بھارتی نژاد افراد کو بھی بائیڈن نے اہم عہدے دیئے ہیں۔ ایرانی چاہتے ہیں کہ بائیڈن حکومت اقتصادی پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرکے فروخت شدہ ایرانی تیل کی مد میں جو ایران کی دولت ہے، اسے ایران تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ فلسطین و شام و لبنان کے عوام چاہتے ہیں کہ اسرائیل کا ناجائز اور غیر قانونی قبضہ ختم ہو اور ایسا تب ہوگا، جب امریکی حکومت اسرائیل کی مدد کرنے سے باز رہے اور ایسا ہونا ممکنات میں سے نہیں ہے۔ پاکستانیوں کو بھی معلوم ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی امریکی حکومت کے دور میں بھی پاکستان کے اندر امریکی مداخلت ہوتی رہی ہے۔ جب جوزف بائیڈن نائب صدر تھے، تب امریکی فوجیوں نے سلالہ میں پاکستان کے فوجیوں پر حملہ کیا تھا اور اس وقت کی وزیر خارجہ معذرت کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہو رہی تھیں۔ جوزف بائیڈن حکومت کے لیے دنیا کا رویہ روایتی خوشنما سرکاری بیانات اور توقعات تک محدود ہے۔

اس عرب و مسلمان خطے میں جوزف بائیڈن نے جس پہلے غیر ملکی سربراہ حکومت سے فون پر گفتگو کی، وہ سرزمین مقدس فلسطین کے غاصب جعلی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو ہیں۔ بدھ کے روز اس گفتگو میں صدر بائیڈن نے اسرائیل کو اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ بدھ کے روز ہی صدر بائیڈن نے امریکا میں سفید فام نسل پرستی کو خطرہ قرار دیا۔ درحقیقت صدر بائیڈن خود بھی سفید فام ہی ہیں، لیکن نسل پرستی سے متعلق ان کا بیان کھلی منافقت ہے، کیونکہ اسرائیل کا ناجائز وجود بھی نسل پرستانہ بنیاد پر مسلط کیا گیا ہے اور امریکا کے اندر بھی یہودی نسل پرست لابی ہی اصل حاکم ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفید فام بیٹی ایوانکا ٹرمپ یہودی نسل پرست خاندان میں بیاہی گئی ہے، حالانکہ ایوانکا ٹرمپ عیسائی تھی تو اصل حاکم یہودی نسل پرست ہیں۔ ٹرمپ کی سفید نسل پرستی بھی یہودی نسل پرستی کے آگے سجدہ ریز رہی اور یہی حال بائیڈن کا ہے۔

نئی امریکی حکومت کی جانب سے ہم جنس پرستوں کی دنیا بھر میں حمایت کی خارجہ پالیسی کس سے اعلان جنگ ہے!؟ کیا مذہبی عیسائی اور مذہبی یہودی بتا سکتے ہیں!؟ کیا یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہب میں ہم جنس پرستی کا کوئی جواز ہے!؟ نہیں جناب، حتیٰ کہ ہندو دھرم میں بھی ہم جنس پرستی ممنوع ہے۔ حتیٰ کہ ہر دین دھرم میں عورت اور مرد کی ازدواج کا ایک معین طریقہ قائم ہے۔ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کی حکومت ان شائستہ انسانی و مذہبی اقدار اور اخلاقیات پر حملہ آور ہے۔ امریکی حکومت انسانیت کی تذلیل کرنے والے شیطان نما انسانوں پر مشتمل حکومت ہے۔ امریکا اللہ تعالیٰ اور اللہ کے انبیاء کے احکامات اور قوانین سے جنگ میں مصروف ہے۔ جوزف بائیڈن محض نام کی حد تک کیتھولک عیسائی ہیں۔  درحقیقت یہ اندر سے زایونسٹ نسل پرست یہودیوں کے غلام ہیں۔ ہر امریکی صدر کو اس کے عمل سے پرکھا جائے تو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ہر امریکی صدر اور اس کی حکومت نسل پرست یہودی لابی کی ڈکٹیشن پر سر تسلیم خم کرتی دکھائی دے گی۔ بائیڈن ایک منافق اور مکار سیاستدان ہے۔ یہ ٹرمپ کی طرح بڑبولا نہیں ہے۔ سفید نسل پرستی اپنی جگہ ایک خطرہ ضرور ہے، لیکن یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کے اصلی حکمران نسل پرست یہودی ہیں، جنہوں نے سفید نسل پرستوں کی بھی بولتی بند کر رکھی ہے۔
خبر کا کوڈ : 916931
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش