5
Saturday 6 Mar 2021 01:39

یمن پر سعودی جنگ سے متعلق ریاست پاکستان کا موقف!

یمن پر سعودی جنگ سے متعلق ریاست پاکستان کا موقف!
تحریر: محمد سلمان مہدی

عرب مسلمان اکثریتی ملک یمن کے حالیہ بحران سے متعلق کوئی موقف اپنانے سے پہلے چند ناقابل تردید حقائق کو ضرور مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔ سب سے پہلے یہ کہ مارچ 2015ء سے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد یمن کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ یعنی 6 برس سے یہ جنگ ہو رہی ہے۔ پہل سعودی عرب اور اس کے چند اتحادی ممالک نے کی ہے۔ یعنی اخلاقی اور قانونی لحاظ سے سعودی عرب نے ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ اس نے یمن کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنگ میں پہل کی۔ یکم دسمبر 2020ء کو اقوام متحدہ کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی اور اتحادی افواج کی بمباری اور حملوں کے نتیجے میں ہونے والی اس یمن جنگ میں مقتولین کی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار تھی۔ یعنی اب تک کم از کم اڑھائی لاکھ افراد اس جنگ کے نتیجے میں شہید ہوچکے ہیں اور ان سب مقتولین کا قاتل سعودی عرب اور اس کے فوجی اتحادی ممالک ہیں۔

یمن ایک آزاد و خود مختار ملک ہے۔ سال 1990ء سے پہلے جب یمن شمالی اور جنوبی یمن کے عنوان سے تقسیم تھا، تب 1978ء سے 1990ء تک فوجی جرنیل علی عبداللہ صالح نے شمالی یمن پر حکومت کی۔ مسلکی لحاظ سے علی عبداللہ صالح بھی زیدیہ فرقے سے تعلق رکھتا تھا اور علی عبداللہ صالح سعودی عرب اور امریکی زایونسٹ بلاک کا لاڈلا حکمران تھا۔ سال 1990ء کے بعد سے 25 فروری2012ء تک علی عبداللہ صالح یمن کا حکمران رہا۔ اس پورے عرصے میں سعودی عرب ہی یمن کا بالواسطہ حاکم رہا۔ یعنی یمن کو سعودی عرب نے اپنی کالونی بنا کر رکھا ہوا تھا۔ یہاں کی سنی آبادی کی اکثریت کا تعلق شافعی مسلک سے تھا، سعودی عرب نے انہیں وہابی بنا دیا۔  القاعدہ سعودی عرب کے انٹیلی جنس اداروں نے امریکی سی آئی اے اور برطانوی ایم آئی سکس اور دیگر یورپی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر ہی بنائی تھی۔ اسامہ بن لادن کے والد لادن بھی یمن ہی سے نقل مکانی کرکے سعودی عرب میں آباد ہوئے تھے۔ اگر یہاں تکفیری ناصبی دہشت گردی ہے تو اس کا ذمہ دار بھی سعودی عرب ہے۔

مشہور امریکی صحافی اسٹیو کول نے اسامہ بن لادن، اس کے خاندان اور سعودی بادشاہ و اہم عہدیدار سعودی شہزادوں کے تعلق کی تفصیل بیان کی ہے۔ مقتول سعودی دانشور جمال خاشقجی (خشوگی) نے ہی اسٹیو کول کو یہ معلومات فراہم کی تھیں۔ شاید اسی جرم میں جمال خاشقجی کو سعودی ولی عہد سلطنت ایم بی ایس محمد بن سلمان نے ترکی میں قتل کروا دیا۔ جہاں تک بات ہے حوثی تحریک کی تو درحقیقت یہ حرکت انصار اللہ نام کی ایک تنظیم ہے۔ چونکہ اس کی قیادت ایک ایسا سید کر رہا ہے، جو یمن کی مقامی اصطلاح میں حوثی قبیلہ بھی کہلاتا ہے، اسی لیے حوثی تحریک کی اصطلاح بھی استعمال ک جا رہی ہے۔ یہ سید اور ان کا حوثی قبیلہ زیدیہ فرقے کے پیروکار ہیں۔ یعنی حضرت زید بن امام زین العابدین ؑ کے پیروکار۔ یاد رہے کہ امام ابو حنیفہ نے حضرت زید بن علیؑ کی حمایت کی تھی۔ یعنی جب حضرت زید حکمران وقت کے خلاف مسلح تحریک چلا رہے تھے، تب نعمان بن ثابت عرف امام ابو حنیفہ نے ان کی حمایت کی تھی۔ اب یہاں المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں سعودی ناصبی وہابی بادشاہت کے چمچے بعض ناصبی مولوی اور متعصب حکام یہ سارے حقائق قوم سے چھپاتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ سعودی عرب کا لاڈلا حکمران علی عبداللہ صالح بھی زیدیہ مسلک کا پیروکار تھا۔ تب پاکستان سمیت کہیں بھی کسی کو بھی کوئی پرابلم اس لیے نہیں تھی کہ ان کے آقا وہابی سعودی بادشاہ کی پالیسی کے مطابق وہ گڈ زیدیہ تھا۔

یہ حقائق اس لیے بیان کیے گئے، تاکہ پاکستانی قوم سمیت پوری دنیا کے اردو بلد انصاف پسند عادل مزاج افراد کو یمن کے بحران سے متعلق عادلانہ موقف قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اب خاص طور پر بات کرتے ہیں پاکستان کی کہ جہاں سعودی عرب کی جنگ کا مقابلہ کرکے یمن کا دفاع کرنے والے یمنیوں بشمول حرکت انصار اللہ یا حوثی تحریک کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ زمینی حقیقت یاد رہے کہ یمن میں سعودی جارحیت کا مقابلہ کرنے والے یمن کا دفاع کرنے والے متعدد گروہ ہیں اور حرکت انصار اللہ یا حوثی تحریک اس ضمن میں تنہاء جماعت یا گروہ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ یمن کی فوج بھی بدستور انہی کے ساتھ ہے اور یہ جنگ یمن کی فوج خود حرکت انصار اللہ حوثی تحریک اور انکے دیگر اتحادیوں کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔ نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان کے اصولوں کے مطابق ریاست پاکستان کی جانب سے یمن جنگ کے حوالے سے واضح جنگ مخالف موقف ہونا چاہیئے۔ کیونکہ اس جنگ کے حوالے سے پاکستان کی مقننہ (پارلیمنٹ) نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی۔ اس کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان اس جنگ میں غیر جانبدار رہے گا۔ غیر جانبدار کا مطلب یہ ہونا چاہیئے کہ نہ صرف یہ کہ پاکستان اس جنگ میں فریق نہیں بلکہ یہ بھی کہ اس جنگ کے کسی بھی فریق کا حامی بھی نہیں۔

جب یہ جنگ شروع ہوئی، تب پاکستان پر مسلم لیگ نواز گروپ کی حکومت تھی۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت جنرل راحیل شریف پاکستان کی طاقتور بری فوج کے سربراہ تھے۔ سبھی نے یمن جنگ پر غیر جانبدار رہنے پر اتفاق کیا تھا۔ پاکستان کی غیرت مند قوم تو یمن جنگ کی وجہ سے سعودی فوجی اتحاد کو امت اسلامی کا غدار اور خائن قرار دیتی ہے، لیکن ریاست پاکستان نے قوم کے موڈ کی وجہ سے ہی سعودی عرب کی اعلانیہ حمایت سے گریز کرنے کو ترجیح دی تھی۔ لیکن ایک طویل عرصے سے دیکھا یہ جا رہا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے شروع کردہ اس جنگ کی مذمت کرنے کی بجائے یمن کا دفاع کرنے والے یمنیوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ یہ انتہائی غیر منصفانہ موقف ہے۔ اس موقف کے ساتھ ریاست پاکستان کشمیر کا مقدمہ ہرگز نہیں لڑسکتا، بلکہ یہ کشمیر ایشو پر پاکستان کے موقف کو کمزور کرتا ہے۔ کشمیر انٹرنیشنل لاء کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے، جبکہ یمن تو ایک آزاد و خود مختار ملک ہے۔ اگر ریاست پاکستان کشمیر کے ایشو پر بھارت کے کنٹرول کو غیر ملکی ناجائز قبضہ کہے، تب بھی دنیا اس موقف کو نہیں مانتی۔

لیکن یمن پر سعودی اور اماراتی یا دیگر اتحادی ممالک کا حملہ کھلی جارحیت اور یلغار ہے، جو انٹرنیشنل لاء کے مطابق صریحاً غیر قانونی عمل ہے۔ یمن جنگ کی وجہ سے عالمی رائے عامہ سعودی عرب اور اس کے فوجی اتحاد کی شدید مخالف ہے۔ حتیٰ کہ یمن پر سعودی جارحیت کی مدد اور حمایت کرنے پر امریکا اور یورپی ممالک کے عوام اور حقوق انسانی کی تنظیمیں بھی شروع سے مخالف ہیں اور وہاں اتنا دباؤ ہے کہ وہاں کی حکومتیں بھی خود کو چھپانے پر مجبور ہیں۔ یمن پر اگر سعودی جارحیت کی مذمت سے ریاستی حکام گریزاں ہیں تو کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ بھارت کا جرم جیسا بھی ہے، سعودی اماراتی جارحیت سے کم تر ہے۔ یمن کی قوم کا نقصان کشمیریوں کو ہونے والے نقصانات سے ہر لحاظ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس طرح کی غیر منصفانہ اور خلاف قانون اور خلاف انسانیت موقف کی وجہ سے کشمیر ایشو پر پاکستان یمن کے حامیوں کی حمایت سے بھی محروم ہو جائے گا۔

پھر رہیں عالیجاہ، عالم پناہ سعودی بادشاہ کے آسرے پر، لگ پتہ جائے گا کہ کشمیر کہاں ہوگا اور آپ کہاں! یہ چاپلوسی، یہ چمچہ گیری کسی کام نہ آئے گی۔ اس لیے یمن ایشو پر جارح سعودی فوجی اتحاد کی کھل کر مذمت کریں، نہ کہ حوثی تحریک کی۔ سعودی فوجی اتحاد فوری طور پر یمن کی قوم سے اعلانیہ معافی مانگتے ہوئے جارحیت اور جنگ ختم کرنے کا اعلان کرے اور جو جانی و مالی نقصانات کیے ہیں، ان سب کا جرمانہ بھی ادا کرے۔ صنعاء پر کنٹرول کرنے والے یمن کے نمائندگان کے سارے مطالبات جائز ہیں، جمہوری ہیں اور مسلمہ قوانین کے عین مطابق ہیں۔ ان سارے مطالبات کو من و عن مان لینا ہی اس قضیے کا عادلانہ و منصفانہ واحد حل ہے۔ ریاست پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت کو معلوم ہو کہ پاکستانی قوم جانتی ہے کہ پارلیمنٹ کی قرارداد آنے کے بعد سعودی وہابی بادشاہت نے ریاست پاکستان کے اعلیٰ ترین حکام تک اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔ پاکستانی قوم تو کیا پوری دنیا کے باشعور انسان جانتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت انور قرقاش نے علی الاعلان پاکستان کو یمن جنگ میں غیر جانبدار رہنے کی بھاری قیمت ادا کرنے کی دھمکی دی، بجائے ان دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دینے کے، ریاست پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے شاہ و شیوخ کے آگے سرتسلیم خم کر دیا۔

کیا یہ ایک نیوکلیئر طاقت اور ایک بڑے مسلمان ملک کے شایان شان ردعمل تھا!؟ کبھی سعودی عرب کی محبت میں کینیڈا کے خلاف بیانات دینا، کبھی سعودی عرب کی محبت میں یمن کے قومی دفاع کی مذمت کرنا، یہ سب کچھ پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں بلکہ بعض شخصیات کے ذاتی اور گروہی مفاد کی وجہ سے ہوا ہے۔ اب ایک اور مرتبہ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ (وزارت خارجہ) کے ترجمان نے جموں اور کشمیر پر بھارت کے حق میں بیان دیا ہے۔ یہ امریکی بلاک کے لیے سات عشروں کی خدمات کا صلہ ہے!؟ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جب مقبوضہ بیت المقدس کے غاصب ناجائز قابض اسرائیل کے ساتھ مل گئے تو کشمیر کس کھیت کی مولی ہے! یہ پاکستان کے کاندھے استعمال کرنے والے پاکستان کی مدد کے محتاج ہیں، لیکن انہوں نے پاکستان کی کوئی ٹھوس نوعیت کی مدد یا پائیدار حمایت کبھی نہیں کی۔ پاکستان کے ساتھ جو کھڑے ہیں یا جو کھڑے ہوسکتے ہیں، ان کو امریکی زایونسٹ سعودی اماراتی بلاک اور نیٹو اتحادی ممالک کے مفادات پر قربان مت کریں جناب!
خبر کا کوڈ : 919898
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش