0
Friday 2 Apr 2021 23:30

جبری گمشدگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کنونشن اور پاکستان

جبری گمشدگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کنونشن اور پاکستان
تحریر: سید اسد عباس

انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے جبری گمشدگی کو ہراساں کرنے اور دباؤ ڈالنے کے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور تو اور اسلامی بادشاہتوں کے زمانے میں بھی مخالفین کو جبری طور پر غائب کیا جاتا تھا۔ جبری گمشدگی کے خلاف پہلی قانون سازی اگست 1789ء فرانسیسی انقلاب کے بعد ہوئی۔ 1974ء میں چلی سے موصول ہونے والی شکایات کے سبب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے اور انٹر امریکا کمیشن برائے انسانی حقوق نے جبری گمشدگی کے مسئلہ کو اہمیت دی اور 1975ء میں اس معاملے پر دو قراردادیں پاس کی گئیں۔ اس کے بعد اقوام متحدہ نے 1977ء اور 1979ء میں اسی مسئلے کے حوالے سے دو قراردادیں منظور کیں۔ 1977ء میں ہی اقوام متحدہ نے ایک کمیٹی قائم کی، جس کا مقصد ممبر ممالک میں جبری گمشدگیوں کے مسئلہ کی چھان بین تھا۔ اس کمیٹی نے پہلی مرتبہ یوروگائے کو جبری گمشدگیوں کے مسئلہ پر مورد الزام ٹھہرایا۔ 1983ء میں امریکی ریاستوں کی ایک تنظیم نے اپنی ایک قرارداد کے تحت جبری گمشدگی کو ’’انسانیت کے خلاف ایک جرم‘‘ قرار دیا۔

اقوام متحدہ میں جبری گمشدگی کے خلاف اقدام کا عمل جاری رہا اور بالآخر 2006ء میں اقوام متحدہ نے جبری گمشدگی کو ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ دیا اور اس سلسلے میں 45 شقوں پر مشتمل ایک کنونش منظور کیا گیا۔ اقوام متحدہ  کے جبری گمشدگی کے کنونشن کے آرٹیکل ایک میں ’’جبری گمشدگی‘‘ کو یوں بیان کیا گیا:
the arrest, detention, abduction or any other form of deprivation of liberty by agents of the State or by persons or groups of persons acting with the authorization, support or acquiescence of the State, followed by a refusal to acknowledge the deprivation of liberty or by concealment of the fate or whereabouts of the disappeared person, which place such a person outside the protection of the law. ریاست کے ایجنٹوں کے ذریعے یا ریاست کے اختیار، تعاون یا واقفیت کے ساتھ کام کرنے والے افراد یا گروہوں کے ذریعے گرفتاری، نظربندی، اغوا نیز آزادی سلب کرنا یا غائب ہونے والے شخص کی صورتحال اور مقام کو چھپانا، جس کے سبب مغوی قانون کے تحفظ سے باہر نکل جائے۔

آرٹیکل ایک مزید لکھتا ہے:
No exceptional circumstances whatsoever, whether a state of war or a threat of war, internal political instability or any other public emergency, may be invoked as a justification for enforced disappearance. کسی بھی قسم کے غیر معمولی حالات، خواہ جنگ کی حالت ہو یا جنگ کا خطرہ، داخلی سیاسی عدم استحکام  ہو یا کوئی اور عوامی ہنگامی صورتحال، کو جبری گمشدگی کے سبب کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کنونش کے آرٹیکل چھے میں لکھا گیا: اس کنونش کے شرکاء اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ ’’جبری گمشدگی‘‘ کی تحقیق کریں گے اور جو اس عمل میں ملوث ہیں، ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ’’جبری گمشدگی‘‘ کے مسائل کو فوجداری مقدمات کے تحت دیکھا جائے گا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ’’جبری لاپتہ شخص‘‘ یا براہ راست طور پر اس گمشدگی سے متاثرہ افراد کو معاوضہ حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ (آرٹیکل۲۴-۴)

اس کنونش کی نگرانی جبری گمشدگی کی کمیٹی کرے گی اور کنونش پر دستخط کرنے والے سب ممالک دو برس کے اندر اس کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹ جمع کروانے کے ذمہ دار ہیں۔ اس کنونش میں شکایات کا ایک نظام بھی وضع کیا گیا، جس کے تحت شہری یا ممالک جبری گمشدہ افراد کے بارے شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ اب مزے کی بات یہ ہے کہ قائد اعظم کی اسلامی فلاحی ریاست یعنی پاکستان اس کنونشن کی دستخط کنندہ نہیں ہے۔ پاکستان نے انسانی حقوق کے کئی ایک عالمی معاہدوں پر دستخط نہیں کیے، اس سے مراد قطعاً یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے اداروں کو اپنے شہری ’’جبری طور پر گم‘‘ کرنے کی کھلی آزادی حاصل ہے۔ پاکستان سے رپورٹ ہونے والے واقعات جو عالمی اداروں کے علم میں آرہے ہیں، کسی وقت بھی ہمارے لیے عالمی مشکل بن سکتے ہیں۔

جیسا کہ اچانک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت ہمارے لیے مسئلہ بنی اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں آن ٹپکے اور بلیک لسٹ ہونے کی تلوار ہمیشہ ہمارے سر پر لٹکی رہتی ہے۔ اخلاقی طور پر بھی ہمارے لیے درست نہیں کہ ایک جانب تو ہم کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کرتے ہیں اور خود اس کے دستخط کنندہ ہی نہیں یعنی ان ممالک کی فہرست میں ہی نہیں ہیں، جو انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ پاکستان وہ پہلا ملک نہیں ہے، جس میں افراد کو جبری طور پر گمشدہ کیا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ محب وطن ادارے جو یہ کام کر رہے ہیں، کیا اس کے مثبت نتائج اور تاریخی حوالوں کے اعتبار سے مطمئن ہیں۔؟ اقوام متحدہ کے کنونشن اور جبری گمشدگی کے خلاف قوانین کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ ’’جبری گمشدگی‘‘ سے مسائل کبھی کم نہ ہوئے اور بالآخر اس عمل کو ’’انسانیت کے خلاف جرم ‘‘ قرار دیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 924901
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش