0
Sunday 4 Apr 2021 08:26

ایٹمی معاہدہ میں مرحلہ وار نہیں مکمل واپسی

ایٹمی معاہدہ میں مرحلہ وار نہیں مکمل واپسی
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اٹھارواں اجلاس جمعہ دو اپریل کو یورپی یونین کے فارن ایکشن روس کے نائب سربراہ "انرکا مورا" کی صدارت میں یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل اور ایران، چین، فرانس، جرمنی، روس اور برطانیہ کے نائب وزرائے خارجہ اور وزارت خارجہ کے سیاسی امور کے ڈائریکٹروں کی شرکت سے آنلائن منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے اختتام پر ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ایٹمی معاہدے میں امریکا کی مکمل واپسی کے موضوع پر معاہدے کے فریقوں نے صلاح مشورہ اور بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس سلسلے میں ایران کے ایک باخبر ذریعے نے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے آٹھ جنوری کے خطاب اور اس خطاب میں آپ کی تاکیدات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی جانب سے ایک ساتھ پابندیاں اٹھائے جانے اور اس بارے میں سچائی سامنے آنے کے بعد ہی اپنے ایٹمی وعدوں پر دوبارہ عمل کرنا شروع کرے گا۔

ایران کے اس باخبر ذریعے اور اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا کوئی بھی ایسا فیصلہ جو ایران کے خلاف امریکی پابندیاں رفتہ رفتہ ختم اور امریکہ کے ساتھ بالواسطہ طور پر مذاکرات پر مبنی ہوگا، قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایران کے خلاف رفتہ رفتہ امریکی پابندیاں ہٹائے جانے سے متعلق ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تہران نے صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایسا کوئی منصوبہ قبول نہیں کرے گا، جس میں امریکی پابندیاں رفتہ رفتہ ہٹائے جانے کی بات رکھی جائے گی اور نہ ہی ایران امریکا سے کسی طرح کے مذاکرات انجام دے گا۔ دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی پابندیوں کی منسوخی کو ایٹمی سمجھوتے کی بحالی کے لئے پہلا قدم قرار دیا ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جو اس اجلاس میں ایرانی وفد کی سربراہی کر رہے تھے، ایک بار پھر ایران کے اصولی موقف کی وضاحت کی اور امریکی پابندیوں کی منسوخی کو ایٹمی سمجھوتے کی بحالی کی سمت پہلا قدم قرار دیا۔

سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پابندیاں منسوخ ہوتے ہی ان تمام اقدامات کو روک دے گا، جو اس نے پابندیوں کی تلافی کے طور پر شروع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی سمجھوتے میں امریکہ کے واپس آنے کے لئے کسی گفتگو یا مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ جس طرح سمجھوتے سے باہر نکلا ہے، اسی طرح وہ ایٹمی سمجھوتے میں واپس آسکتا ہے اور جس طرح اس نے ایران کے خلاف غیر قانونی پابندیاں لگائی ہیں، اسی طرح انہیں ختم کرسکتا ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے بھی جوہری معاہدے میں تعطل کے دور ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جوہری معاہدے میں گفتگو تکنیکی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور ماضی جیسی صورتحال اب نہیں رہی، جس سے دکھائی دیتا ہے کہ تعطل دور ہونے والا ہے اور یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ، ایران کے خلاف پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی اپنی شکست خوردہ پالیسیوں سے دستبردار ہونے پر تیار ہے۔؟؟

ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے بارے میں ایران کے ردعمل کو دو زاویوں سے پرکھا جا سکتا ہے۔ پہلا زاویہ یہ ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے کا حصہ ہے اور یہ معاہدہ ایک بین الاقوامی اور چند فریقی معاہدہ ہے، لہذا اس میں شریک تمام اراکین کے حقوق مساوی ہیں۔ اس معاہدہ کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے کی عالمی ادارے سلامتی کونسل نے بھی قرار داد نمبر 2231 میں تائید کی ہے۔ ایران کی خواہش ہے کہ یہ معاہدہ جو اب ایک بند گلی میں پہنچ گیا ہے، اسے نتیجہ خیز بنائے۔ امریکہ نے ایک یکطرفہ فیصلہ کرکے اپنے آپ کو اس معاہدے سے نکال لیا ہے اور اس معاہدے کی روشنی میں ایران پر جو پابندیاں ختم ہوگئی تھیں، نہ صرف انہیں دوبارہ بحال کر دیا ہے بلکہ نئی پابندیاں عائد کرکے دوسرے ممالک پر بھی دبائو بڑھا رہا ہے۔

ایران نے عالمی جوہری معاہدے سے ہٹ کر کچھ اقدامات رضاکارانہ بنیادوں پر انجام دیئے تھے۔ اس عالمی معاہدے کی شق 26 اور 36 معاہدے کے شریک فریقوں کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اگر کوئی فریق معاہدہ کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہ کر رہا ہو تو وہ بعض شقوں پر عمل درآمد روک سکتا ہے۔ ایران نے بھی انہی شقوں کی روشنی میں معاہدے کی بعض شقوں پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ بہرحال امریکہ نے معاہدے سے خارج ہو کر اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے اور اس کا واحد اور منطقی حل یہی ہے کہ وہ معاہدے میں واپس آجائے اور معاہدے کی تمام شقوں پر عمل کرے۔ اسی لیے تو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ ایران اس وقت ایٹمی معاہدے کی شقوں پر عمل کرے گا، جب امریکہ تمام پابندیوں کے خاتمے کو نہ صرف کاغذ پر بلکہ عملی طور پر ختم کرے گا نیز ان پابندیوں کے خاتمے کو ایران کے سامنے باقاعدہ جائزے اور تحقیق کے لیے پیش کیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 925125
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش