0
Tuesday 13 Apr 2021 06:04

ہم کہاں جا رہے ہیں؟

ہم کہاں جا رہے ہیں؟
تحریر: محمد حسین بہشتی

دم بہ دم ، سر بہ سر، سب فریب نظر
دیکھ اے چشم تر، سب فریب نظر
ساتھ چل کر عیاں مجھ پہ ہونے لگا
ہمقدم ہمسفر سب فریب نظر

ظاہراً تو سب مسلمان ہیں؛ کوئی نماز پڑھتا ہے یا نہیں، روز رکھتا ہے یا نہیں، قرآن کی تلاوت کرتا ہے یا نہیں، دیگر مسلمانوں کی فکر میں ہوتا ہے یا نہیں، شیعہ ہے یا سنی، اہلحدیث ہے یا دیوبندی، بہرحال سب کے سب مسلمان ہیں۔ لیکن اگر کوئی نماز، روزہ، قرآن یا اسلام کی دیگر ضروریات کا منکر ہو تو وہ آٹومیٹک اسلام کے دائرے سے خارج ہو جائے گا۔ کسی مجتہد یا مفتی کو فتویٰ دینے کی ضرورت نہیں، قرآن اور احادیث کی تعلیمات کی رو سے ایسا انسان پھر مسلمان نہیں رہتا، البتہ توبہ کا راستہ کھلا ہے، اگر شخص پشیمان ہو جائے، دوبارہ پلٹ آئے تو اسے دوبارہ اسلام کے دامن میں پناہ مل جاتی ہے۔

دنیا میں تیزی کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ، مسلمان بھی بدل رہا ہے۔ عالم اسلام کتنے فیصد اس تبدیلی کے زد میں ہے، اس کا دقیق علم نہیں، لیکن یہ یقینی ہے کہ مسلمانوں کی زندگی تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے اور مسلمانوں میں ماڈرن دنیا کے آداب و رسوم اپنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہمارے درمیان ایسے لوگوں کی کمی نہیں، جو مغربی طرز کی معاشرت کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں جبکہ اسلامی طرز زندگی ان کے لئے باعث ننگ و عار ہے۔ شوشل میڈیا کی دنیا نے اس رجحان کو اور دلکش بنا کر پیش کیا ہے، جس سے نئی نسل متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ بات اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ مذہبی اور متدین طبقہ بھی آہستہ آہستہ اس کی زد میں آرہا ہے۔ وہ لوگ جو ایک زمانہ میں اسلامی اقدار اور اصولوں کے پابند تھے، آج اپنے آپ کو ہر قید و بند سے آزاد سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں میں بھی عریانی، بے پردگی اور منکرات عام ہوئے ہیں۔ مغربی ثقافت وبا کی شکل میں مسلم معاشرہ کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔ لوگوں کو اس صورتحال سے دور کرنے کا بھی کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔

یقیناً یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے بلکہ عالمی کفر و نفاق ایک سوچے سمجھے     منصوبہ کے تحت مسلمانوں کو برباد کرنے کے لیے سرگرم  عمل ہے، جبکہ ہم   خرگوش کی نیند سو رہے ہیں اور آپس میں دست و گریبان ہیں۔ دشمنان اسلام مسلمانوں کو برباد کرنے کے لیے چاروں طرف سے حملہ آور ہیں۔ عالمی استعمار نے ایک طرف ہمارے حکمرانوں کو خریدا ہوا ہے، جو حکومت کے نام پر اقدار کو مسخ کرنے میں مصروف ہیں۔ ہمارے سکولوں، کالجوں اور یونیورسیٹوں میں تعلیم کے نام پر دین مخالف و مغربی ثقافت پر مبنی مواد پڑھایا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے عام لوگوں کو بے دینی اور بے حیائی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ رہی سہی کسر کو  موبائل وغیرہ نے پورا کر دیا ہے۔ ہماری نسلیں جسمانی اور روحی طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔ بچے تو دور کی بات ہے، خود والدین بھی روحی اور جسمی طور پر ان بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اگر صورتحال یہ ہے تو پھر علاج کون کرے گا۔؟

قرآن کا ارشاد ہے کہ اگر انسان کے کرتوت ایسے ہی رہے تو پھر زمین میں فساد کے ظاہر ہونے میں دیر نہیں لگتی، انسان کے برے اعمال فساد کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور ہر خشک و تر کو اپنی پلیٹ میں لے لیتا ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ۔ "لوگوں کے ہاتھوں کی  کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے، تاکہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستے پر آجائیں۔" (سورۂ روم  آیہ 41) میں یہ چند سطر صرف اپنی پریشانی کی وجہ سے لکھ  رہا ہوں کہ خدا نہ   کرے، مسلمانوں کی حالت کہیں شاعر کے اس مندرجہ ذیل اشعار کی مصداق نہ بنے!
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم


پس میری گزارش یہی ہے کہ جتنا ہوسکے، حالات سے آگاہ رہیں اور اپنے آپ کو، اپنے بچوں کو، اپنے دوستوں کو اور اپنے اطراف میں موجود لوگوں کو شیطانی وبا اور فتنہ   آخرالزمان سے آگاہ رکھیں۔ یہ رنگ بر رنگ کپڑے، یہ شیطانی فیشن ایبل، یہ عریانیت۔۔۔ یہ سب کچھ اب ہمارے کنٹرول سے باہر ہوچکے ہیں۔ ہماری عورتیں اور ہمارے بچے بچیاں ان مغربی اور لادینی ثقافت و کثافت سے سخت متاثر ہوچکے ہیں۔ آئے دن آنے والی عریانیت اور فیشن کو دیکھتے ہی دیکھتے ہماری خواتین اور بچے نقل کرتے نظر آتے ہیں۔   
ہم ہوگئے یہود مسلمان کی جگہ
ٹی وی کو ہم نے رکھ دیا قرآن کی جگہ
لاحول اب پڑھیں بھی تو کس کس پہ اے خدا
ہر آدمی نے لے لی شیطان کی جگہ

پس خداوند متعال سے دعا کرتے ہیں کہ خداوند کریم ہم سب کی عاقبت بخیر کرے۔
خبر کا کوڈ : 926952
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش