0
Thursday 15 Apr 2021 07:21

شیعہ جبری گمشدگیاں، محبت گولیوں سے بو رہے ہو

شیعہ جبری گمشدگیاں، محبت گولیوں سے بو رہے ہو
تحریر: ارشاد حسین ناصر

ہم جس خطہ ارضی پر بستے ہیں، یہ بھی اپنے دامن میں بہت زیادہ انہونیاں اور ناقابل یقین حادثات و واقعات کی تاریخ رکھتا ہے، ہمیں یہ زعم ہے کہ ہمارے اجداد نے اس ملک کو بنایا، اس کیلئے اپنے جان، مال اور سرمائے کی قربانیاں پیش کیں، ایسی قربانیاں جن کو لازوال اور ان مٹ نقوش کے طور پہ تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ کر رکھا ہے۔ تہتر برس گذر گئے مگر کسی میں یہ جرائت نہیں ہوئی کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح (رہ) جو اس ملک کے بانی اور اس دھرتی کے نجات دہندہ تھے، ان کو غیر شیعہ ثابت کرسکے، بابائے قوم شیعہ عقیدہ رکھتے تھے اور ان کی تجہیز و تکفین بھی اسی عقیدہ کے مطابق ہوئی، جو ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اس حقیقت سے بھی منہ نہیں چرا سکتے کہ تہتر برسوں سے ہم جو اس ملک کے بانیان کی اولادیں ہیں اور جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، اس ملک کے ارباب اختیار اور مقتدر طبقہ کے تعصب، تنگ نظری، ظلم، حتیٰ تشدد کا شکار بھی چلے آرہے ہیں اور زیادتیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہمارے ساتھ چلا آرہا ہے۔

اگر کسی مکتب، کسی مذہب، کسی تفکر اور کسی فقہ کے ماننے والوں کو اس پاک دھرتی پہ شہر شہر، گلی گلی میں ارباب اختیار اور ان کے پے رول پہ چلنے والوں نے قتل و غارت گری، تشدد، ظلم، تعصب اور مشکلات و مسائل سے دوچار کیا ہے تو ہم اہل تشیع ہیں۔ فقہ امام صادق (ع) کے پیروان کو یہاں چن چن کے قتل کیا گیا، ان کا خون بہایا گیا، ان پر لشکر کشیاں اور جنگیں مسلط کی گئیں۔ ہمارے لوگوں کو سکیورٹی اداروں کی سربراہی میں، ان کی معیت میں گاڑیوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کرکے ذبح کیا گیا، ہمارے معصوم اور بے گناہ لوگوں کے بدنوں کو جلایا گیا، ہماری مساجد، ہمارے امام بارگاہ، ہماری عبادت گاہیں، نہتے اور پرامن لوگوں کے خون سے رنگین کی گئیں اور جن لوگوں نے یہ کام کئے، جن لوگوں نے ظلم و ستم کی یہ سیاہ آندھیاں ہم پر مسلط کیں، وہ اس ریاست کے ازلی مخالف اور اس کے وجود کے دشمن تھے، مگر افسوس کہ ایسے عناصر اور طرز تفکر کے حاملان کو ریاست نے پالا پوسا اور بے گناہ شیعیان علی پہ مسلط کیا۔

ہمارے شہداء کی تعداد ایک دو یا سو پچاس نہیں، یہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں، فقط بلوچستان میں ہی ایک ایک واقعہ میں سو سو لاشیں ہم نے اٹھائیں، مگر یہ بھی ایک تاریخ ہے کہ ہم جو مارے گئے، ہم جو بے گناہ ذبح کئے گئے، ہم جو مسجدوں اور عبادت گاہوں میں خون میں نہلائے گئے، ہم جو تعصب کا شکار رہے، ہم جو اس ملک اور اس کی عوام کے تحفظ کی قسم کھانے والوں کے تعصب کا شکار رہے، کبھی بھی اس ملک کے سکیورٹی اداروں اور سلامتی کے ذمہ داروں کے خلاف صف آراء نہیں ہوئے، ہم نے اسلحہ نہیں اٹھایا، ہم نے مسلح لشکر نہیں بنائے، ہم نے اس ملک کے محافظوں کو اپنے بارود کا شکار نہیں کیا، ہم نے اس ملک کے گلی کوچوں کو بے گناہوں کے جسموں کے چیتھڑوں اور خون سے رنگین نہیں کیا، ہم نے ہر ظلم سہا مگر ظلم کا راستہ نہیں اپنایا، جبکہ ہمارے مخالف اور ہم پر ظلم کرنے والوں نے اس ملک کی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیا۔

اس ملک کے سکیورٹی اداروں کو ہمارے خلاف کسی آپریشن کی ضرورت نہیں پڑی، جبکہ ہمارے دشمن کے خلاف ہماری افواج، ہمارے سکیورٹی ادارے آج بھی ریڈ الرٹ ہیں اور اس دھرتی کے اس دشمن کو جب بھی موقعہ ملتا ہے تو اپنی خباثت اور شیطانیت کا اظہار کرنے سے نہیں چوکتا۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے بے گناہ، نہتے اور معصوم مزدوروں کو مچھ میں انتہائی سفاکیت اور ظلم سے شہید کیا گیا، ہم نے پرامن احتجاج کا راستہ اپنایا، ہم نے اپنے پیاروں کی لاشیں سامنے رکھ کر اس ملک کے ارباب اقتدار کو آواز دی، کسی شہری کا، کسی سرکاری و غیر سرکاری ادارے کا ایک پتا بھی نہیں توڑا، ہمیں تو دلاسہ دینے بھی حکمران نہیں آئے، ہمیں تو جھوٹے وعدوں پہ ٹرخایا گیا، ہمیں تو بلیک میلر کہا گیا، ہمارے ساتھ یہ ظلم تہتر برسوں سے جاری ہے، ہم اس ملک اور ریاست میں بانیء پاکستان محمد علی جناح کی سوچ کے وارث تھے، ہم اس سوچ کے تحت اس ملک کو آگے بڑھانے کیلئے میدان میں موجود رہے، مگر ہمارے اوپر آئین شکن، دستور شکن، بدترین آمر مسلط کئے گئے۔

ہمیں سیاست اور اقتدار کے کھیل سے باہر رکھنے کیلئے جھوٹے، مکار، دغا باز، منافق، اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے متعصب و تنگ نظر لوگوں کو سامنے لایا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تہتر برس گذر جانے کے بعد بھی ہم اس ملک میں اپنی بقاء و سلامتی کا مطالبہ کیساتھ میدان میں موجود ہیں اور ہمارے اوپر ایسی قوتیں مسلط ہیں، جن کا ماضی اور حال اس بات کا گواہ ہے کہ وہ اس ملک کے بانی اور ان کے افکار و سوچ کے ناصرف مخالف سمت میں ریاست کو چلا رہی ہیں بلکہ ان کروڑوں لوگوں کو ناامیدی اور مایوسی کی دلدل میں دھکیل کر اس پاک سرزمین سے کہیں دور پھینکنا چاہتے ہیں۔ اور کہیں نا جائیں بس ذرا ایک کیس کو ہی کھول لیں، ذرا احسان اللہ احسان نامی وحشی درندے اور اس کی تنظیم اور اس کی کارروائیوں جنہیں وہ ویڈیو پیغامات میں تسلیم کرتا رہا، اس کی گرفتاری و گرفتاری کے حالات جب ایک معروف ٹیلی ویژن کے اینکر پرسن نے اس کا انٹرویو ریکارڈ کیا اور اس کے بعد اس ملک دشمن نامور دہشت گرد کا سکیورٹی اداروں کا حصار توڑ کے فرار کر جانے کی کہانی کو ہی دیکھ لیں۔

کچھ سمجھ میں آتا ہے یا عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور جیسے سانحہ کا یہ ذمہ دار کس طرح ہمارے سکیورٹی اداروں کی حراست سے فرار کرسکتا ہے اور ایک دوست ملک میں جا کر اپنے سوشل میڈیا سے اپنے کامیاب فرار کی کہانی سناتا ہے اور ہمارے بے بس عوام اپنے سکیورٹی اداروں جن کی تعریفیں اور جن کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے، کی طرف دیکھتے رہ جاتے ہیں اور ابھی تک سکتے سے باہر نہیں نکلے کہ جو کچھ سامنے آیا، وہ اس دہشت گرد نے ہی بتایا ہے، ہمارے ذمہ داران تو اس پہ بولنا یا اس کو زیر سوال لانا ملک دشمنی متصور کرتے ہیں۔ اس کے مقابل ہم دیکھتے ہیں کہ سات سات آٹھ آٹھ سال سے کئی مائیں اپنے معصوم اور جگر گوشوں کی شکلیں دیکھنے کیلئے ایک بار پھر سڑکوں پر موجود ہیں، اندھیر نگری چوپٹ راج کے مصداق ہمارے اس پاک وطن کی مخلص اور وطن کی محبت سے سرشار ہماری بہنیں، بیٹیاں، ہمارے علماء کرام، ہمارے معزز قائدین کی رہنمائی میں انتہائی پرامن اور با سلیقہ قانونی حق احتجاج بلند کرتے ہوئے اپنے پیاروں کی عدم بازیابی کے خلاف، اپنے لخت جگر اور اپنی امیدوں کے سہاروں کو تلاش کرتی شاہراہ پر آگئی ہیں۔

گذشتہ بارہ دن سے ان لوگوں نے بانیء پاکستان محمد علی جناح کے مزار کے سائے تلے احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے، جن کی حمایت اور یکجہتی کیلئے ملک کے طول و عرض میں بھی احتجاج کیا جا رہا ہے، مگر یہ احتجاج انتہائی پرامن ہے، قانون و آئین کے دائرے میں ہے، جائز مطالبات رکھتا ہے کہ اگر ان کے بیٹے، بھائی، فرزند، لخت جگر نے اس ملک کے قانون، آئین یا روایات کی پاسداری نہیں کی تو انہیں قانون کے دائرے مین عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اس پر قانونی کارروائی کی جائے، ہم رکاوٹ نہیں بنیں گے اور اگر یہ بیٹے، یہ فرزند، یہ لخت جگر اسی تعصب و تنگ نظری کا شکار ہیں، جو گذشتہ تہتر برسوں سے اس ملک کے بانیان کی اولادوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے تو ہم اس پہ احتجاج کرتے ہیں، ہماری آواز کو نحیف سمجھو یا کمزور، ہم اس پہ چیخیں گے، چلائیں گے، اپنا حق مانگیں گے، اپنا نکتہ نظر بیان کریں گے، ہم تعصب و تنگ نظری اور قانون شکنی کی ہر کارروائی پر اپنی صدائے احتجاج بلند کریں گے، ہم اپنے پیاروں کو سامنے لانے تک ایسا کرتے رہیں گے، ہم جبری گمشدگیوں پر دنیا کو اپنے نکتہ نظر سے آگاہ کرتے رہینگے۔

یہ احتجاج ہمارا حق ہے، اگر آپ اس کو بھی تسلیم نہیں کریں گے تو ہم عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوم متحدہ کے انسانی حقوق کے چیپٹر کو بھی اپنے درد سے آگاہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ ہم یہ سمجھنے کا حق رکھتے ہیں کہ جس طرح آپ اس ملک کو چلا رہے ہیں، اس سے اس ملک کی بنیادوں کو ہلایا جا رہا ہے، اس کے بنانے کے مقاصد کا قتل عام کیا جا رہا ہے، اس ملک کے بانی کے افکار سے غداری کا ارتکاب کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ ہمیں احسان اللہ احسان جیسے درندوں کے فرار اور بے گناہ و معصوم پر امن شہریوں، وطن کے سپوتوں کی قانون و انصاف کا قتل کرتے ہوئے جبری گم شدگیوں پر اس ملک کی سلامتی بارے شدید تحفظات لاحق ہیں۔ بقول حبیب جالب
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
خبر کا کوڈ : 927329
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش