0
Friday 16 Apr 2021 12:30

حافظ سعد رضوی، ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

حافظ سعد رضوی، ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
تحریر: ثاقب اکبر

جب پولیس اور رینجرز پاکستان کے تقریباً تمام چوک، چوراہے، راستے اور خیابان لٹھ بردار ’’عاشقوں‘‘ سے خالی کروا چکے اور اکا دکا مقامات پر کارروائی ہونا باقی رہ گئی تو حافظ سعد حسین رضوی امیر تحریک لبیک یارسول اللہ پاکستان نے پس دیوار زنداں سے ایک تحریری ’’فرمان‘‘ جاری کیا ہے، جس میں انھوں نے اپنی جماعت کی شوریٰ کے ارکان اور کارکنوں سے گھروں کو واپس جانے کے لیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کے لیے کہا ہے۔ اس بیان میں رحمۃ للعالمینؐ کا کلمہ یوں لکھا گیا ہے: ’’رحمۃ العلمیں۔‘‘ اس سے ’’حافظ صاحب‘‘ کے حفظ اور علم کی قلعی کھل جاتی ہے۔ بہت سے لوگ اُن کے نام کے ساتھ علامہ لکھتے ہیں۔ خدا جانے لفظ ’’علامہ‘‘ کی حقیقت انھیں کس قدر معلوم ہے! سوشل میڈیا کے مجاہد تو اسے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ سے تعبیر کر رہے ہیں، بہرحال ہمیں اس میں مثبت پہلو بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم گفتگو میں آگے بڑھیں ’’علامہ صاحب‘‘ کی پوری تحریر ملاحظہ فرمائیے:

’’حافظ محمد سعد رضوی کا شوریٰ ممبران کے نام پیغام
میں حافظ سعد رضوی ولد خادم حسین رضوی مرحوم بقائم ہوش و حواس و بلا جبر تمام شوریٰ ممبران اور کارکنان تحریک لبیک یارسول اللہ سے مخاطب ہوں اور یہ اپیل کرتا ہوں کہ ملکی مفاد اور عوام الناس کی خاطر کوئی غیر قانونی قدم نہ اٹھایا جائے۔ تمام احتجاجی جلسے اور روڈ بلاک فی الفور ختم کیے جائیں، تمام کارکنان پرامن طور پر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کیا جائے۔ مرکز و مسجد رحمۃ العلمیں کے باہر بھی احتجاج اور دھرنا فی الفور ختم کر دیا جائے۔
                                                                                                    دستخط
                                                                                                15-04-2021
‘‘
اس مختصر سی عبارت میں املاء کے اور بھی بہت سے مسائل ہیں، دقت نظر سے دیکھنے والے سوشل میڈیا پر گردش کرتے ہوئے اس ’’تاریخی‘‘ بیان کو دیکھ سکتے ہیں۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاسی اور مذہبی قیادت عام طور پر وراثت کی طرح چلتی ہے اور وراثت قابلیت کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوتی۔ حافظ سعد رضوی کو بھی اپنے والد کے بعد جانشینی کے طور پر تحریک لبیک کی قیادت ملی ہے، ورنہ خود ان کی جماعت میں بھی ان سے علم و فضل کے اعتبار سے قابل تر لوگ مل جائیں گے۔ اگرچہ یہ جماعت مجموعی طور پر دل پذیر مذہبی نعروں کے ساتھ ہیجانی کیفیت برپا کرتے ہوئے ہی میدان میں آئی ہے اور اس کا احتجاج ہمیشہ جارحانہ اور شدت پسندانہ ہی رہا ہے۔ ان کے لٹھ بردار ہمیشہ پاکستان کی پبلک اور پرائیویٹ پراپرٹی پر حملہ آور رہے ہیں۔ انھوں نے عوام کی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور یہاں تک کہ ایمبولینسز کو اپنے غیض و غضب کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے لوٹ مار کا بازار بھی گرم کیے رکھا ہے۔ غریب دیہاڑی داروں کی ریڑھیوں سے پھل لوٹ کر اپنا دوزخ بھرا ہے اور پھر یارسول اللہ کا نعرہ لگایا ہے۔ یہی کچھ اب کے دیکھنے میں آیا بلکہ اس سے بڑھ کر انھوں نے پولیس پر حملے کیے، دو پولیس والے شہید کر دیے اور سینکڑوں کو زخمی کر دیا۔

حافظ سعد رضوی اور ان کی اس جماعت نے یہ سب کچھ مولانا خادم حسین رضوی ہی سے وراثت میں پایا ہے، جنھیں ہم نے اپنے 17 نومبر 2020ء کے ایک مضمون میں حکمرانوں کی طرف سے ان کے چائو چونچلے برداشت کرنے کے پیش نظر مخدوم پاکستان قرار دیتے ہوئے لکھا تھا: ’’مخدومِ پاکستان نے ملک میں موجود ان سب لوگوں کو حوصلہ دیا ہے، جو دس ہزار کا لٹھ بردار جتھہ اسلام آباد میں اکٹھا کرسکتے ہیں کہ وہ جب بھی ایسا کریں گے، ہر وہ مطالبہ جو وہ لے کر آئیں گے، آخر کار اس کے سامنے لشکری، عسکری، شہری، سماجی سب قوتیں سر جھکا دیں گی اور دستاویز پر ہاتھوں سے ہی نہیں پائوں سے بھی انگوٹھے لگا دیں گی۔ آپ لاکھ کہیں کہ یہ اچھی مثال نہیں ہے لیکن یہ بری ہوتی تو ایک دفعہ ہوتی، دو دفعہ ہوتی، بار بار اس مثال کا دہرایا جانا ظاہر کرتا ہے کہ مثال قائم کرنے والے اسے اچھا سمجھ کر ہی دہرائے چلے جا رہے ہیں، ورنہ مومن تو ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا، کوئی اور ہی ہوگا جو ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسا جاتا ہے، بلکہ بڑی فاتحانہ شان سے ڈسا جاتا ہے اور دستخط کرنے کے بعد حکمران عوام کے سامنے اسی فاتحانہ شان سے نمودار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھیں ہم نے کیسے حکمت عملی سے مسئلے کو حل کر لیا۔‘‘

ہم نے مزید لکھا تھا: ’’ان کا ماضی بھی جلائو گھیرائو، مار دھاڑ، دنگا فساد، گالی گلوچ اور ہٹ دھرمی سے عبارت ہے۔ اس لیے ان کی مثبت باتوں کے اندر بھی انتہا پسندی، شدت پسندی بلکہ فساد انگیزی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں دیگر مذہبی جماعتیں بھی مظاہرے، دھرنے اور اجتماعات کرتی ہیں، لیکن بالعموم ان کے ہاں یہ طرز عمل نہیں پایا جاتا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے حافظوں نے کیا قرآن کریم کی اس آیت کو نہیں پڑھا: مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا(مائدہ:۳۲) "جس نے ایک انسان کو قتل کر دیا جبکہ اس نے نہ کوئی قتل کیا ہو اور نہ زمین میں فساد کیا ہو تو اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کر دیا۔" کیا ان علاموں نے رسول اکرمؐ کا یہ فرمان نہیں پڑھا: "المسلم من سلم الناس من لسانه ويده" "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے انسان محفوظ رہیں۔"

نبی کریمؐ کی محبت کے دعویداروں اور نام نہاد عاشقوں نے سامنے آنے والے ہر شخص کے ساتھ جو سلوک کیا، اس سے ان کی بہیمیت اور وحشی گری آشکار ہوتی ہے۔ یہ لوگ اگر واقعاً رحمۃ للعالمین ؐکے ماننے والے ہوتے تو کیا پاکستان کے عام مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کرتے، جو انھوں نے اپنے احتجاج کے دوران میں روا رکھا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ ایک پولیس والا کہہ رہا تھا کہ میں مسلمان ہوں، میرا نام محمد افضل ہے، میں بھی عاشق رسولؐ ہوں لیکن تشدد کرنے والوں نے اس پر رحم نہیں کھایا۔ وہ ہر دوسرے فرد کو جو ان کے ساتھ احتجاج میں شریک نہ تھا، یہودی اور یہود نصاریٰ کا ایجنٹ قرار دے رہے تھے جب کہ قرآن کریم کہتا ہے: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا(نساء:۹۴) "جو شخص تمھیں سلام کہے، اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔"

حکومت نے بالآخر اس گروہ کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس جماعت کے گذشتہ بہت سے واقعات، دھرنے، غیض و غضب، دہشت گردی، لوٹ مار اور گالی گلوچ عوام الناس کے سامنے نہ ہوتی تو موجودہ فیصلے کے لیے انھیں قائل کرنا مشکل ہوتا۔ تاہم ہماری رائے میں حکومت کے ذمہ داران کو اس گروہ سے نمٹنے کی اپنی ماضی کی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔ حکومت اور حکمت لازم و ملزوم ہے۔ جبکہ اس شدت پسند گروہ کے حوالے سے حکمت کا عنصر ہمیں کم دکھائی دیتا ہے۔ یہ گروہ چونکہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس نام استعمال کرتا ہے اور ان کے نام پر ہمیشہ فعالیت کرتا ہے، اس لیے آنحضرتؐ سے محبت کرنے والے بہت سے عوام اب بھی ان کے فریب خوردہ ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مناسب دلائل کے ساتھ اپنے موجودہ فیصلے پر عوام کو اعتماد میں لے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مذہبی اور سیاسی جماعتیں موجودہ حکومت سے اپنی مخالفت کی بناء پر اس گروہ کے بارے میں کیے گئے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس موقع پر اگر انھوں نے حکومت کا ساتھ نہ دیا تو خود انھیں حکومت ملنے پر اس شدت پسند ذہنیت کا زیادہ طاقت کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا۔ پہلے ہی اس معاملے میں بہت دیر ہوچکی ہے۔

سطور بالا میں ہم نے تحریک لبیک کے مطالبے پر بات نہیں کی بلکہ اس کے طرز عمل پر بات کی ہے۔ خود حکومت بھی اس کے مطالبے کے حوالے سے مذاکرات کرتی رہی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی اور توہین کسی مسلمان کیا کسی باضمیر انسان کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتی، لیکن عصر حاضر میں عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کے مسئلے سے کس انداز سے نمٹنا چاہیے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ قومی ریاستوں کے اس دور میں جبکہ مسلمان کم و بیش ستاون ریاستوں میں منقسم ہیں اور تقریباً ایک سو غیر مسلم اکثریتی ریاستوں میں آباد ہیں، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وسیع پیمانے پر مشاورت اور زمینی حقائق کی روشنی میں منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ عشق رسولؐ اور حکمت رسولؐ کو ساتھ ساتھ رہنا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔
خبر کا کوڈ : 927494
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش