0
Tuesday 20 Apr 2021 02:56

بات چیت میں مسائل کا حل

بات چیت میں مسائل کا حل
اداریہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرت کے بارے میں شائع ہونے والی متضاد رپورٹوں کے بارے میں کہا ہے کہ ایران نے ہمیشہ سعودی عرب کی شاہی حکومت کے ساتھ بات چیت کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے دونوں ملکوں کے عوام کے فائدے نیز علاقے کے امن و استحکام کے لئے موثر اور مفید سمجھتا ہے۔ ایران سعودی تعلقات کے بارے میں یہ خبر مغربی ذرائع ابلاغ کے توسط سے سامنے آئی، تاہم اس سلسلے میں عراقی صدر برھم صالح اور وزیراعظم مصطفیٰ کاظمی کا ثالثی کردار عرصے سے جاری تھا۔ دونوں نے ایران اور سعودیہ کے دورے میں اس مسئلے کو ایجنڈے میں شامل کیا تھا۔ ایران کی طرف سے حالیہ اقدامات کو خوش آئند قرار دینا اس بات کی نشاندہی ہے کہ معاملات صحیح رخ پر جا رہے ہیں، البتہ مغرب کو یہ پیشرفت پسند نہیں اور اس کا اندازہ اس خبر کو جس انداز سے بریک کیا گیا، اس سے لگایا جاسکتا ہے۔

ایران اور سعودیہ کے درمیان کئی مسائل حل طلب ہیں، جن میں منیٰ کے ایرانی شہداء کا مسئلہ، یمن کی حالیہ جنگ اور بالخصوص خطے و عالمی سطح پر امریکی اور اسرائیلی پالیسیاں کے تناظر میں مقاومت و استقامت کا موقف ہے۔ البتہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسائل کا حل مل بیٹھنے میں ہے اور ایران تو عرصے سے علاقائی مسائل کو علاقائی ممالک کے ذریعے حل کرنے اور خطے میں امن و سلامتی کے لئے علاقائی ممالک پر مشتمل سکیورٹی الائنس تشکیل دینے پر زور دیتا رہا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ماضی میں ہمیشہ خیلج فارس کے عرب ممالک کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے کی سکیورٹی کے لئے بیگانہ قوتوں سے مدد حاصل کرنے کے بجائے آپس میں تعاون کو فروغ دیں۔ ایران پہلے ہی ہرمز پیس پلان کی تجویز پیش کرچکا ہے، جس کا بنیادی مقصد علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اور خطے میں امن و صلح کا قیام ہے۔
خبر کا کوڈ : 928178
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش