0
Thursday 22 Apr 2021 00:34

کھیل کے قوائد تبدیل ہوسکتے ہیں

کھیل کے قوائد تبدیل ہوسکتے ہیں
اداریہ
دہشت گرد امریکی فوج سینٹ کام کے سرغنہ جنرل میکینزی نے امریکہ کی فضائی برتری کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جاسوسی اور حملوں کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈرون طیاروں کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ ہم سن پچاس کے عشرے کی جنگ کوریا کے بعد پہلی بار کسی علاقے میں مکمل فضائی برتری کے بغیر اپنا مشن انجام دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ گویا دہشتگرد امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے سرغنہ جنرل مکنیزی نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کی ڈرون طاقت کے باعث مغربی ایشیاء کے علاقے پر امریکہ کو حاصل فضائی طاقت اور برتری ختم ہوگئی ہے۔

ایران کے ڈرون طیارے خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت، عسکری تنصیبات کی جاسوسی اور ضروری مواقع پر کامیاب کارروائیاں بھی انجام دے رہے ہیں اور یہی بات امریکیوں کے لیے خفت اور حیرت کا باعث بن گئی ہے۔ نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی کے نام سے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے مارچ دو ہزار اکیس میں جاری کی جانے والی ابتدائی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی رپورٹ میں بھی یہ بات زور دیکر کہی گئی ہے کہ ایران ایک علاقائی کھلاڑی کی حثیت سے ایسی طاقت اور توانائی کے حصول میں مشغول ہے، جس کے ذریعے کھیل کے قوائد تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ایران اس وقت دنیا کے ان گنے چنے ملکوں سے ایک ہے، جو مختلف طرح کے ڈرون طیاروں کی ساخت اور تیاری میں تیزی کے ساتھ قدم آگے بڑھا رہے ہیں اور اسکا اعتراف دوست اور دشمن دونوں کررہے ہیں۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی منظوری کے بعد ایران اپنی فوجی اور دفاعی مصنوعات کسی بھی ملک کو فروخت کرسکتا ہے اور یہ وہ بنیادی تشویش ہے، جس نے امریکہ اور اس کے حواریوں نیز علاقائی اتحادیوں کی نیندوں کو حرام کر دیا ہے۔ ایران کو ترقی و پیشرفت کے اس مقام تک پہنچانے میں اس کے مقامی ماہرین اور نوجوان سائنس دانوں کا بنیادی کردار ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ایران کی اپنی اور اس پر کسی ملک کی اجارہ داری نہیں ہے، لہذا ایران اس کو منتقل کرنے میں بھی کسی کی اجازت کا محتاج نہیں۔
خبر کا کوڈ : 928564
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش