0
Thursday 22 Apr 2021 08:59

حضرت خدیجہ (س) کی اخلاقی خصوصیات

حضرت خدیجہ (س) کی اخلاقی خصوصیات
تحریر: محمد حسین بہشتی

حضرت خدیجہ علیھا السلام بہت ہی مہربان، بااخلاق اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ وہ بہت مہمان نواز، باوقار شخصیت کی مالک، بہت ہی مذہبی اور دینی معاملات میں نہ تھکنے والی خاتون تھی۔ وہ سب سے پہلی خاتون تھیں، جنہوں نے اسلام کو قبول کیا اور پیغمبر اکرم (ص) کی اقتداء میں نماز جماعت پڑھی۔ یہ وہ عظیم خاتون ہیں، جنہوں نے اپنے مال کو اسلام کے راستہ میں لٹا دیا۔ ایک قول کی بناء پر تاریخ میں بہت سے بزرگان یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اسلام کے اعلان سے پہلے معاشرہ میں حضرت خدیجہ کو طاہرہ، مبارکہ اور عورتوں کی سردار کہا جاتا تھا۔ یہ وہ تنہاء شخصیت تھیں، جو منجی کی منتظر تھیں، وہ اپنے زمانے کے علماء سے پوچھتی رہتی تھی کہ نبوت پیغمبر اکرم (ص) کی علامات کیا ہیں۔؟ جب نبوت کی تمام علامتوں کو پیغمبر اکرم (ص) کے اندر دیکھ لیا تو آپ فوراً پیغمبر آخر الزمان سے ملحق ہوگئیں اور آخری نفس تک پیغمبر اکرم (ص) کے رکاب میں ثابت قدم رہیں نیز کسی بھی ایثار و قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ آپ نے پیغمبر اکرم (ص) کے بارے میں جو اشعار کہے، وہ بہت ہی زیبا اور عشق و محبت سے لبریز ہیں، جس کا ایک نمونہ یہ ہے "پوری دنیا کا مال و متاع رکھتی ہوں اور پوری دنیا کی حکومت ہاتھ میں ہوتی، تب بھی آپ کے مقابلہ میں کچھ نہ تھا، آپ کے مقابلہ میں مال اور حکومت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔

دین کی ترویج اور ارتقاء میں حضرت خدیجہ کا کردار
حضرت خدیجہ کے پاس جو کچھ تھا، انہوں نے اسلام کے راستے میں قربان کر دیا اور اسے پیغمبر اکرم (ص) کے قدموں میں رکھ دیا۔ ابن اسحاق حضرت خدیجہ کی مدح کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں، خدیجہ پیغمبر اکرم (ص) کی سچی اور وفادار ساتھی تھیں۔ جب خدیجہ اور ابو طالب رحلت فرما گئے تو ساری مصیبتوں نے پیغمبر اکرم (ص) کو گھیر لیا۔ انہوں نے اپنا پورا مال و متاع اسلام کی نصرت اور پیغمبر اکرم (ص) پر قربان کر دیا بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ پیغمبر اکرم (ص) کا خیال رکھتی تھیں آپ نے  اسلام کی ترویج اور ارتقاء کے لئے کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے نکلنے نہیں دیا۔ حضرت خدیجہ ہم سب کے لیے خصوصاً ثروت مندوں کے لیے نمونہ ہیں، اس دنیا کی کوئی حیثیت نہیں، جو کچھ ہے، اسلام اور مسلمین کے لیے خرج کریں۔ خدا کی خوشنودی اور محمد و آل محمد علیھم السلام کے راستے میں خرج کریں، تاکہ کل کے لیے باقیات و صالحات ہو۔

حضرت خدیجہ کی تعریف پیغمبر اکرم (ص) کی زبانی
پیغمبر اکرم (ص) حضرت خدیجہ کی شان اور منزلت کے بارے میں فرماتے ہیں: "افضل نساء اهل الجنه خدیجه بنت خویلد و فاطمه بنت محمد و مریم بنت عمران و آسیه بنت مزاحم۔" "جنت کی افضل اور برترین عورتوں میں خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، مریم عمران کی بیٹی اور آسیہ بنت مزاحم ہیں۔" ذہبی کہتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) جب بھی قریش والوں کی تہمتوں، مکر و فریب، جھوٹ، دغا بازی اور ان کی  طرف سے دی جانے والی تکالیف کا ذکر سنتے تھے تو غمگین ہو جاتے تھے اور جب ان کے سامنے حضرت خدیجہ کا ذکر کیا جاتا تھا تو آپ خوشحال ہوتے تھے۔ پیغمبر اسلام (ص) حضرت خدیجہ کی بہت تعریف کرتے تھے اور آپ کے ہاں امہات المومنین  میں سب سے زیادہ حضرت خدیجہ کو فوقیت حاصل تھی، یہان تک کہ حضرت عائشہ نے کہا، میں نے پیغمبر اکرم (ص) کی کسی بیوی سے اتنا پیار نہیں کیا، جتنا خدیجہ  سے کیا، وہ اس لئے کہ پیغمبر اکرم (ص) انہیں بہت زیادہ یاد کرتے تھے۔

احمد بن حنبل اپنی مسند میں حضرت عائشہ سے کچھ اس طرح نقل کرتے ہیں: "پیغمبر جب بھی خدیجہ کو یاد کرتے تھے تو ان پر درود بھیجتے اور بہت تعریف کرتے  تھے تو میں نے کہا آپ کس قدر اس کو یاد کرتے ہیں، خدا نے آپ کو اس سے بہتر دیا ہے تو پیغمبر اکرم (ص) نے فرمانے لگے، خداوند متعال نے اس سے بہتر مجھے نہیں دیا، کیونکہ جب لوگوں نے کفر اختیار کیا، وہ مجھ پر ایمان لائی، جب لوگ مجھے جھٹلاتے تھے تو اس نے میری تائید اور حمایت کی، جب لوگوں نے میرا اقتصادی بائیکاٹ کیا تو اس نے اپنا تمام مال و دولت مجھ پر نچھاور کیا اور خداوند متعال نے مجھے اس سے بیٹی عطا کی، جبکہ دوسری بیویوں سے کچھ نہیں ملا۔"

حضرت خدیجہ کبریٰ، صاحب تقویٰ، پارسا، خدا پرست اور بہترین اخلاق کی مالک خاتون تھیں۔ آپ کا تعلق بنی ہاشم کے قبیلہ سے تھا، آپ کے والد گرامی خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب قریشی تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ فاطمہ، زائدہ بن اصم کی بیٹی تھی، جو باپ کی طرف سے پیغمبر اکرم (ص) کے چچازاد اور نسب کے لحاظ سے دونوں قصی بن کلاب تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگرچہ آپ کی تاریخ پیدائش مشخص و معین نہیں ہے، لیکن تحقیق اور مطالعہ کے بعد حقیقت سے نزدیک تر یہ ہے کہ آپ عام الفیل سے تین سال پہلے دنیا میں تشریف لائیں۔ اس حوالہ سے آپ پیغمبر اکرم (ص) سے تین سال بڑی تھیں۔ انہوں نے ایک شرافت مند اور بااخلاق گھرانے میں پرورش پائی۔ اسی وجہ سے آپ صاحب تقویٰ، بااخلاق اور نجیب ترین خاتون کے طور پر معروف ہوگئیں۔ آپ اخلاق حمیدہ، تقویٰ اور شرافت ہی کی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) کی ہمسر بنیں۔

حضرت خدیجہ کی شادی
کیا حضرت خدیجہ علیھا السلام کی پہلی شادی پیغمبر اکرم سے ہوئی تھی؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تاریخی کتابوں میں آیا ہے کہ حضرت خدیجہ نے عرب کے مشہور شخص عتیق بن عائذ مخزومی سے پہلی شادی کی تھی اور وہ جوانی میں ہی فوت ہوگئے تھے، اس نے کافی مال حضرت خدیجہ کے لیے چھوڑا تھا۔ اس کے بعد ابی ھالہ بن المنذر الاسدی سے شادی کی، کچھ عرصہ کے بعد وہ بھی فوت کر جاتے ہیں اور اپنے پیچھے کافی ثروت چھوڑ جاتے ہیں، البتہ تاریخی باتیں زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں، کیونکہ بہت ساری شخصیات کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ نے ایک ہی شادی کی تھی اور وہ پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ تھی۔ مثال کے طور پر ابوالقاسم کوفی، احمد بلاذری، سید مرتضیٰ، شیخ طوسی، علامہ مجلسی وغیرہ اپنی اپنی کتابوں میں اس حقیقت کو ذکر کرتے ہیں کہ جب حضرت خدیجہ پیغمبر اکرم (ص) کے گھر آئیں تھیں، اپنی بہن کی بیٹیوں کو اپنے ساتھ لے آئیں تھیں، جن کی کفالت خود ان کے ذمہ  تھی۔

حضرت خدیجہ کی ایک بہن تھی، جن کا نام ھالہ تھا اور ان کی دو بیٹیان تھیں، ھالہ کا شوہر مر گیا تھا اور وہ فقیر تھیں، اسی لئے حضرت خدیجہ ان کی پرورش اور کفالت کیا کرتی تھیں، جب خدیجہ نے پیغمبر اکرم (ص) سے شادی کی تو یہ دو بیٹیاں حضرت خدیجہ کے پاس ہی رہتی تھیں۔ تاریخ نے ھالہ کی بیٹیوں کو حضرت خدیجہ اور پیغمبر اکرم (ص) سے نسبت دی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لے پالک بچوں کو کفالت اور پرورش کرنے والوں سے نسبت دینے کا رواج عام تھا۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت خدیجہ نے جب پیغمبر اکرم (ص) سے شادی کی تھی تو اس وقت ان کی عمر 28 سال تھی، البتہ یہ روایت بھی ہے کہ اس وقت آپ کی عمر 25 سال تھی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ شادی کے وقت پیغمبر اکرم (ص) کی ہم عمر تھیں۔

بہرحال حضرت خدیجہ پیغمبر اکرم (ص) کے کردار و گفتار سے بہت متاثر تھیں اور آپ سے بہت عشق و محبت کرتی تھیں، جب خدیجہ نے اپنے دو غلاموں کو شام میں تجارتی سفر کے لئے پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے جو معجزات اور کرامات دیکھے تھے، انہیں حضرت خدیجہ کو نقل کیا، جن سے بہت متاثر ہوئیں۔ آپ نے پیغمبر اکرم (ص) سے شادی کے بعد جو کچھ تھا، اسے پیغمبر اکرم (ص) کے قدموں میں رکھ دیا، اس طرح آپ نے اپنی محبت اور ایمان کا اظہار کیا، آپ نے نہ صرف اپنی تمام دار و نادار کو پیغمبر اکرم (ص) پر قربان کیا بلکہ اپنی شخصیت، مقام و منصب، مال اور منال جو عرب میں مشہور تھا، اسلام اور پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں  رکھا۔ آپ کے القاب میں خاص طور پر طاہرہ ہے، جو پورے عرب میں آپ کی پاکیزگی، طہارت اور پاکدامنی کی علامت تھا۔

حضرت خدیجہ کی وصیت                                                   
جب حضرت خدیجہ بیمار ہوگئیں تو پیغمبر اسلام (ص) آپ کے سرہانے بیٹھے رہے اور فرماتے تھے، خدیجہ کیا تم جانتی ہو کہ خداوند تعالیٰ نے تم کو جنت میں بھی میری بیوی قرار دیا ہے اور بہشت میں اعلیٰ علیین میں آپ کے لیے جگہ دی ہے۔ آپ نے جب اپنی بیماری کو شدید دیکھا تو کہنے لگیں، یارسول اللہ، میں نے آپ کے حق میں کوئی کوتاہی کی ہے تو مجھے معاف کر دیجئے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا، تم سے میں نے کبھی کو‏ئی کمی و بیشی نہیں دیکھی اور جب بھی مجھے تھکا ہوا اور پریشان دیکھا تو اپنی تمام جان و مال میرے اوپر نچھاور کر دیا۔ حضرت خدیجہ نے عرض کیا، یارسول اللہ (حضرت فاطمہ زہراء کی طرف اشارہ کرتی ہوئی) بہت خیال رکھیں چونکہ یہ میرے بعد یتیم، غریب اور تنہا ہو جائے گی، پس خدا نہ کرے کہ قریشی عورتوں کی طرف سے اسے کوئی اذیت و تکلیف پہنچے۔ خدا نہ کرے، کوئی اس کے چہرے پر تھپڑ مار دے، خدا نہ کرے کہ کوئی اس کے اوپر ‎‎زور سے آواز دے، خدا نہ کرے کہ کوئی اس پر بہت بڑی چوٹ لگائے۔

ایک اور وصیت ہے، جسے بیان کرتے ہوئے شرماتی ہوں، اس کو فاطمہ زہراء کو بتا دوں گی۔ اس کے بعد فاطمہ زہرا کو بلایا اور کہا، میری آنکھوں کی ٹھنڈک، یہ اپنے باپ کو بتا دینا کہ میں قبر میں ڈرتی ہوں، اس لیے جو لباس آپ نے وحی نازل ہونے کے موقعہ پر پہنا ہوا تھا، مجھے کفن کے طور پر دیں۔ پس حضرت زہرا نے یہ بات پیغمبر اکرم (ص) کو بتا دی تو پیغمبر اسلام (ص) نے اپنا وہ لباس حضرت خدیجہ کو دے دیا۔ پیغمبر اکرم (ص) نے خود حضرت خدیجہ کے غسل و کفن و دفن کی ذمہ داری لی اور خود رسول اللہ (ص) نے انجام دیا اور حضرت جبرائیل بھی بہشت سے ایک کفن لائے اور کہا یارسول اللہ، خداوند عالم نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ حضرت خدیجہ نے اپنے مال کو میری راہ میں خرچ کیا ہے، لہذا ان کے کفن کی ذمہ داری میرے لیے سزاوار ہے۔

حضرت خدیجہ کی وفات
بیہقی حضرت خدیجہ کی عمر کے بارے میں کہتے ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ وفات کے وقت آپ کی عمر پچاس سال تھی۔ مرحوم ملا صالح مازندرانی لکھتے ہیں، ہجرت سے تین سال پہلے آپ کی پچاس سال عمر تھی، پس بنا بر این پیغمبر اسلام (ص) سے شادی کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر پچیس سال تھی۔ آپ نے اس وقت داعی اجل کو لبیک کہا۔ جب دشمنان اسلام نے پیغمبر اکرم (ص) کا اقتصادی بائیکاٹ کیا ہوا تھا اور آپ شعب ابو طالب میں زندگی کر رہے تھے، اس طرف حضرت خدیجہ بعثت کے دسویں سال دنیا سے رحلت فرما گئیں۔
خبر کا کوڈ : 928623
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش