0
Thursday 22 Apr 2021 17:44

علی (ع) اور مظلومیت

علی (ع) اور مظلومیت
تحریر: کفایت علی رضی

علی (ع) وہ ذات ہے جس کی جائے ولادت کعبہ، پہلی خوراک لسانِ مصطفیٰ (ص)، پہلی زیارت چہرہِ محمد (ص) اور پہلا کلام کلامِ الہیٰ ہے۔ علی کے کانوں میں گونجنے والی پہلی صدا ہی حق کی صدا تھی۔ علی (ع) کی پہلی خوراک اتنی مقدس کہ جس خوراک میں جاہلیت کی بو بالکل بھی نہ تھی۔ محمد (ص) جیسی دانا ذات کے زیرِ سایہ تربیت پاتے ہوئے علی (ع) ایک قد آور شخصیت کے مرتبے تک پہنچے۔ اس مقدس اندازِ تربیت کا یہ اثر تھا کہ کمسنی میں بھی علی (ع) تلوار لے کر اپنے آقا (ص) و سردار کی حفاظت کرتے نظر آئے اور کبھی محمد (ص) کی ذات نے لب کشائی کی کہ علی (ع) میرا وصی و جانشین ہوگا۔

یوں تو علی (ع) کا تعارف ممکن نہیں مگر علی (ع) کمال انسانی کی اس اوج پر پہنچے کہ محمد (ص) جیسی سچی ذات نے یہ فرمایا کہ علی (ع) کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ علی (ع) کا ذکر عبادت ہے۔ علی (ع) کی ذات ہر موڑ پر محمد (ص) سے کچھ نہ کچھ شرف حاصل کرتی رہی۔ جیسا کہ یہ جملے بھی علی (ع) کے لئے ہی کہے گئے کہ علی (ع) حق کے ساتھ ہے اور حق علی (ع) کے ساتھ ہے۔ علی (ع) کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ محمد (ص) نے علی (ع) کا بازو بلند کرکے اپنے جیسا مولا قرار دینا بھی علی (ع) ہی کے حصے میں آیا۔

ان سب فضیلتوں کے باوجود علی (ع) اس روز سے مظلوم رہے، جب سے اعلانِ نبوت کیا گیا۔ علی (ع) کی مظلومیت کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، جس میں
1۔ پہلا حصہ اعلان نبوت کے فوراً بعد کا ہے، علی (ع) کے لیے ناقابل برداشت تھا کہ ان کے سامنے محمد (ص) کو تکلیف پہنچائی جائے۔ اسلام کے اعلان کے بعد محمد (ص) پر کفار و مشرکین کے مختلف طریقوں سے ظلم و ڈھانے کے انداز علی (ع) کے لیے انتہائی کرب کا سببب تھے۔ مگر حکمِ مرشد (ص) کی وجہ سے علی (ع) نے ہر اذیت برداشت کی۔

2۔ دوسرا مرحلہ اسلام کے طاقتور ہو جانے کے بعد کا تھا، جب اسلام مکمل ریاست قائم کرچکا تھا تو منافقین نے طرح طرح کی سازشیں شروع کر دی تھیں۔ کبھی مسجدِ ضرار کی شکل میں تو کبھی حرمِ نبی (ص) پر تہمت کی صورت میں۔ اس کے علاوہ کچھ سادہ لوگ مسلمان بھی پریشانی کا سبب تھے، جو میدان جنگ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کرسکنے کی صورت میں یا شیطان کے وسوسے کا شکار ہونے کی صورت میں ان سارے معاملات کو دیکھ کر علی (ع) اذیت میں رہتے۔ علی (ع) پر یہ سب چیزیں گِراں گزرتی تھیں، مگر علی (ع) صابر تھے اور کبھی اپنے لبوں کو جنبش تک نہ دی، بس اپنے دکھوں کا احوال خدا سے بیان کر دیتے۔ علی (ع) نے اطاعتِ محمد (ص) کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھا اور عملی طور پر ثابت بھی کیا۔

3۔ تیسرا دور محمد (ص) کے ظاہری دنیا سے جانے کے بعد کا ہے، جب لوگوں نے علی (ع) کو تنہا چھوڑ دیا اور ایک نئی راہ اختیار کر لی۔ علی (ع) کا خلافت پر براجمان نہ ہونا الگ موضوع ہے، مگر علی (ع) کا تنہا رہ جانا الگ موضوع ہے۔ علی (ع) اپنی تنہائی کا ذکر اپنی اہلیہ سیدہ زہراء سلام اللہ علیھا سے کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مدینہ کے لوگ میرے سلام کا جواب تک نہیں دیتے، یہ وہ تنہائی ہے، جس نے علی (ع) کو مظلومیت کے انتہاء درجہ پر لاکھڑا کر دیا۔ علی (ع) کے پاس اب بس دو چیزیں باقی تھیں کہ جس کے ذریعے دنیا سے رابطہ قائم کیے ہوئے تھے، ایک خاندان اور دوسرے فقرا و یتماء کہ جن کے ساتھ علی (ع) دل لگائے ہوئے تھے۔ یہ مرحلہ ایسا تھا کہ علی (ع) جیسا جوانمرد ہی برداشت کر سکتا تھا۔

اس مرحلے میں عالم یہ تھا کہ اصولِ نبوی (ص) کو مسخ کیا جا رہا تھا، بیت المال میں غریبوں کے حق پر ڈاکہ مارا جا رہا تھا، دینِ الہیٰ میں من مانی کی جا رہی تھی۔ پسند کی شریعت طلب کی جا رہی تھی، لیکن علی (ع) جب یہ سب معاملات دیکھتے تو خدا سے راز و نیاز میں خیر مانگتے۔ علی (ع) اپنی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات سے دکھ میں مبتلا ہوتے جا رہے تھے۔ علی (ع) کے لیے انتہائی اذیت ناک تھا کہ وہ دین کو غلط سمت میں جاتا دیکھیں۔ علی (ع) کے سامنے کئی صحابہ پر ظلم و جبر کے پہاڑوں کا ٹوٹنا علی (ع) کے لئے ناقابل برداشت تھا، مگر علی (ع) کی تربیت محمد (ص) جیسی صابر ہستی کے ہاتھوں ہوئی تھی، لہٰذا علی (ع) نے صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑا۔

4۔ چوتھا مرحلہ پچھلے سے زیادہ اذیت ناک تھا، وہ تھا دورِ خلافتِ علی (ع)، اس دور میں خلافت کا ملنا جب اسلام اپنی اصلی شناخت کھو کر من مانی کا دین بن چکا تھا۔ اس مرحلے میں علی (ع) کے لیے دو امتحان تھے، پہلا ایک ایسی قوم کا خلیفہ بننا کہ جو ظلم و جبر کے تحت زندگی گزارنے کے لئے تیار تھی اور دوسرا امتحان بگڑے ہوئے نظام کو راہ راست پر لانا تھا۔ کیا علی (ع) عادل تھے، علی (ع) چاہتے تھے کہ عدل کا بول بالا ہو، مگر علی (ع) کو عدل سے روکنے کے لیے بے شمار باطل طاقتوں نے میدان میں اتر کر علی (ع) سے مقابلہ کیا۔ اس دوران علی (ع) پر سب سے زیادہ گراں گزرنے والی چیز اپنے ہی دوستوں کی نادانی تھی، اسی سبب کو یہ کہنا پڑا تھا کہ ”تمھیں معلوم ہے کہ تم حق پر ہو اور دشمن باطل پر، مگر اس کے باوجود دشمن تم سے زیادہ پراعتماد و متحد ہے۔“ علی (ع) کے لیے دشمن کا میدان میں مقابلہ کرنا اس قدر مشکل نہیں تھا، جتنا اپنے دوستوں کی نادانیوں کا مقابلہ کرنا مشکل تھا، مگر علی (ع) نے اس اذیت کو بھی برداشت کیا اور اپنے لحاظ سے جدوجہد کرتے رہے کہ یہ قوم سدھر جائے اور علی (ع) اس اذیت کو سہتے ہوئے جام شہادت کے درجے کو پہنچے۔

5۔ پانچواں مرحلہ علی (ع) کی شہادت کے دن سے لے کر اس ساعت تک کا ہے اور نہیں معلوم یہ کب تک رہے گا۔ علی (ع) دنیا سے رخصت ہوئے تو علی (ع) کے ساتھیوں نے علی (ع) اور علی (ع) کے بیٹے کی معرفت کھو دی اور حسن (ع) جیسی ذات سے استفادہ نہ کرسکے۔ امام کے فیصلوں کو پس پشت ڈال کر اپنے فیصلوں کو اہمیت دینا حسن (ع) پر ظلم تھا ہی، مگر یہ علی (ع) کے لیے بھی اذیت کا سبب تھا اور یہ سلسلہ تب سے لے کر آج تک قائم ہے۔ ذرا نظر دوڑائیں، موجودہ حالات پر کہ ہم نے علی (ع) کا ذکر عبادت تو مان لیا، مگر علی (ع) کی فکر کو اختیار کرنا عبادت نہیں سمجھا۔ کیا یہ علی (ع) کے لیے اذیت کا سببب نہیں کہ ہم علی (ع) کا ذکر کریں اور علی (ع) کی فکر کا ذکر نہ کریں۔

ہمارے معاشرے میں علی (ع) کو ایک بت کی صورت میں پیش کیا جانے لگا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ایک دوست بتا رہا تھا کہ ایک دیوار جس کی مدت پوری ہوچکی ہے، اسے تعمیر کرنے کی بجائے اس پر علی (ع) کا نام لکھا گیا ہے، تاکہ وہ گرے نہ۔ میرے خیال میں یہ کام علی (ع) کے لیے راحت بخش نہ ہوگا۔ علی (ع) کی فکر تو کہتی ہے کہ اس دیوار کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے، نہ کہ توہم پرستی پر مبنی اعمال انجام دیئے جائیں۔ علی (ع) ہمیشہ مظلوم رہے ہیں، نہیں معلوم ہم کب ان کی مظلومیت پر رحم کرنے کے لئے قدم بڑھائیں گے، خدا ہمیں ہم فکرِ علی (ع) بنائے۔
خبر کا کوڈ : 928693
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش